"کہو کیا کام تھا۔۔۔۔" ڈیول کے کہنے پر آیت کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور بولی 


"مجھے عائشہ سے بات کرنی ہے اور مجھے میرا فون واپس چاہیے" ڈیول نے لمبی سانس لی


 "اوکے۔۔۔ تمہیں نیا فون مل جائے گا اور آج پارٹی میں تمہاری دوست آجائے گی تو مل لینا" ڈیول نے آیت کی بات کا جواب دینے کے بجائے اپنی بات کہی تو آیت کو غصہ آیا 


"مجھے میرا ہی فون چاہیے۔۔۔۔۔ عائشہ کو تم کڈنیپ نہیں کرو گے دوبارہ" آیت کی غراہٹ سنتے ڈیول آنکھیں سکیڑتے ہوئے دانت پر دانت جما کر بولا


"میں مافیا کنگ ہوں۔۔۔ تم مجھے آرڈر دے رہی ہو؟؟" ڈیول کی بات پر آیت مسکرا گئی 


"تو مافیا کنگ کو۔۔۔۔ اسکی بیوی آرڈر تو دے ہی سکتی ہے۔۔۔ ورنہ ایسی بیوی سے ڈرنا چاہیے جس کا موقعا اور لات مافیا کنگ پہلی رات کھا چکا ہو" آیت کے انداز پر ڈیول نے کہا 


"نو ارگیو ڈارلنگ۔۔۔ ورنہ جو کام میں نے کل رات کو نہیں کیا وہ آج ضرور کروں گا" ڈیول کے انداز پر آیت "بے شرم" بول کر فون بند کر گئی تو ڈیول اپنے لیے ایک نیا لفظ سن کر قہقہہ لگا اٹھا ڈیول اٹھتا باہر بیسمنٹ کی طرف بڑھا جہاں جیک اور ہشام ایک آدمی کو گھورنے میں مصروف تھے وہ شاید ڈیول کا ہی انتظار کر رہے تھے۔


ڈیول کے آتے ہی جیک نے آگے بڑھ کر اس آدمی کا سر اوپر کرتے اسے جھٹکا دیا تو وہ خون میں نہایا شخص آنکھیں کھولنے کے کوشش کرتے ہوئے اپنے سامنے ڈیول کو دیکھ کر خوف سے کانپ اٹھا۔ ڈیول کی آنکھوں میں کچھ دیر پہلے والی نرماہٹ غائب ہو کر وحشت درآئی اور پھر ہشام کے کرسی رکھتے ہی وہی براجمان ہوگیا 


"میرے مال پر نظر رکھنے کی جرت" ڈیول کے کہنے ہی سامنے شخص گھبرا گیا 


"ڈیول میں نے نہیں مجھے مجھے ڈیوڈ نے کہا تھا" (ڈیوڈ ڈیول کا دشمن تھا جو امریکہ میں قبضہ جمانا چاہتا تھا لیکن ڈیول کے ہوتے ہوئے ناممکن تھا ڈیوڈ نے اپنے آدمی بھیج کر ڈیول کا مال پورٹ پر سے غائب کرنے کی کوشش کی تھی جسے بروقت ہشام نے ناکام کر دیا تھا) 


"تجھے پتا ہے اب تک کیوں زندہ رکھا ہے" ڈیول جیک کے آگے ہاتھ کرتا بولا اشارہ سمجھتے ہی جیک نے گن نکال کر ڈیول کے ہاتھ پر رکھی


"ڈیول میں نے کچھ نہیں کیا میں تمہاری غلامی کروں گا پلیز ایک چانس دے دو" وہ شخص خوف سے ڈیول کی لوڈ کی ہوئی گن دیکھتے ہوئے بولا 


"تجھے اس لیے زندہ رکھا ہے کہ آج میری شادی کی خوشی میں جشن منایا جائے گا اور تیری لاش تحفے کے طور پر ڈیوڈ کو بھجوانی ہے۔۔ اب بھئی خالی ہاتھ دشمن کو خوشخبری دیتے اچھا نہیں لگے گا نا" ڈیول کہتے ہی اپنی جگہ سے اٹھا اور پھر بولا 


"غداروں کی غلامی نہیں چاہیے مجھے" یہ کہتے ہی ڈیول پلٹا اور سیدھا ہاتھ پیچھے لے جاکر فائر کیا۔۔۔ اور ٹھیک نشانے پر اس آدمی کے سر کے درمیان میں اور وہ آدمی وہی ختم۔ ہشام سر جھٹک کر ڈیول کے پیچھے چلا جو جیک کے پاس آیا اور ایک زور دار پنچ اسے دے مارا ابھی جیک سمبھالتا کہ ڈیول نے ایک کک اسے ماری تو جیک تو بیچارہ پیٹ پر ہاتھ رکھے ڈیول کو دیکھنے لگا اور ہشام پہلے حیران پھر مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا 


(ضرور اب جیک نے کوئی غلطی کی ہے لیکن کیا؟؟) 


"کمینے۔۔۔ کیسی انفارمیشن نکالی تھی جو یہ نہیں پتا چلا کہ تیری بھابھی کو موقعالات کرنی بھی آتی ہے اور یہ اس کی سزا ہے جو رات مجھے ملی تھی" ڈیول کے بولنے پر جیک اور ہشام دونوں کے منہ کھل گئے مطلب 


"مافیا کنگ بے رحم شوٹر ڈیول رات کو اپنی بیوی سے پٹ چکا ہے اور وہ بھی شادی کی پہلی رات" ان کے انداز پر ڈیول آئیبرو ریز کرتا بولا


"کوئی بکواس سوچ نہیں اقر تم جیک عائشہ کو باحفاظت بنا کڈنیپ کیے رات کی پارٹی میں لے کر آؤ" ڈیول تنبیہ کرتا باہر نکل گیا تو ہشام اور جیک نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں کا قہقہہ گونجا 


…………………………………………………..


"تم سا حسین میں نے دیکھا نہیں" داہم خود کو مرر میں دیکھتے ہوئے گنگنا رہا تھا جب پیچھے ہالے آکر کھڑی ہوئی


"بندا ہاتھی پال لے پر خوش فہمی نا پالے" ہالے کے طنز پر داہم مسکرا گیا


"ہاتھی پال سکتے ہے پر جگہ نہیں نا کیونکہ تم جو ہو یہاں" داہم ہالے کو آگ لگاتا بولا 


"تم نے مجھے ہاتھی بولا" ہالے چیخی 

"نہیں" داہم دونوں کانوں میں انگلی ٹھوس کر بولا تو ہالے کو اطمینان ہوا


"تم فیمیل ہو تو تم ہتھنی ہوئی نا" 

"داہممممممممم" ہالے جلے ہوئے انداز میں پیر پٹخ کر جانے لگی تو داہم اس کے پیچھے ہو لیا لاؤنج میں آتے ہی ہالے کا پیٹ سلیپ ہوا تو داہم نے اسے سہارا دیا ہالے مضبوطی سے آنکھیں بند کئے ہنوز بنی رہی جبکہ داہم اس کے چہرے کا طواف کرنے لگا وہ سہی کہتی تھی


"ہالے آفریدی بے حد حسین تھی وہ اتنی حسین تھی کہ داہم وہاب خانزادہ زندگی بھر اسے دیکھ سکتا تھا" 


داہم ہالے کو دیکھتا بے خود سا ہوگیا جبکہ ہالے خود کو محفوظ محسوس کرتی پٹ سے آنکھیں کھول گئی اور داہم کو خود کو ایسے دیکھتے پا کر ناسمجھی سے داہم کو دیکھنے لگی اور داہم ایک دم ہالے کے آنکھیں کھولنے پر ہوش میں آتا ہالے کو سیدھا کھڑا کرتا دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پیچھے بالوں میں لے جا کر چلانے لگا تو ہالے بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔


……………………………………………………


جیک عائشہ کے گھر پہنچا۔ ڈور بیل بجانے پر عائشہ کے والد باہر نکلے تو جیک کو وہاں دیکھ کر پوچھنے لگے 

"بیٹا۔۔۔ آپ کون؟؟" تو جیک انہیں دیکھتا اب سوچ میں پڑ گیا کیا کرے پھر جلدی بولا 


"میں آیت بھابھی کا دیور ہوں۔ بھابھی نے مجھے ان کی سہیلی کو لینے کے لیے بھیجا ہے آج بھائی بھابھی کا ولیمہ ہے اس لیے۔ میں صحیح ایڈریس پر ہوں؟؟" جیک نے آخر میں معصومیت سے پوچھنے پر جاوید صاحب نے کنفرم کرنا چاہا آیت صدیقی کی شادی یوں اچانک کیسے ہو سکتی ہے اور اگر ایسا کچھ تھا تو عائشہ تو ان کے سامنے ذکر ضرور کرتی


"آیت صدیقی؟" جیک نے اثبات میں سر ہلایا تو جاوید صاحب اسے اندر آنے کا کہتے عائشہ کو بلانے گئے۔ جیک صوفے پر بیٹھتا چھوٹے سے مگر بے حد خوبصورت گھر کو دیکھنے لگا۔ عائشہ جاوید صاحب کی بات سنتے حیران ہوتی باہر آئی تو جیک کو دیکھ کو پہلے غصے سے لیکن پھر حیران ہو کر سوچنے لگی کہ کیا واقعی اس غنڈے نے آیت سے شادی کر لی ہے؟؟


تو جیک صحیح کہہ رہے تھا کہ ڈیول آیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور با حفاظت رکھے گا۔ یہ بات جیک نے عائشہ کو کڈنیپنگ والے دن کہی تھی جب ڈیول کے آرڈر پر عائشہ کو اس کے گھر چھوڑ جارہا تھا اور ایک دھمکی بھی تو دی تھی اگر عائشہ نے اس کا ذکر کسی سے بھی کیا تو اس کی دوست کو حفاظت کی کوئی گرینٹی نہیں


 اور عائشہ کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا پولیس کو بھی خبر کیسے کرتے جیک نے یہ بھی تو کہا تھا عائشہ کے ہر عمل پر اسکی نظر ہو گی اور اگر اس نے کوئی چلاکی کی تو آیت کے ساتھ ساتھ جاوید صاحب کو بھی اس چلاکی کی سزا جھیلنی پڑے گی اور عائشہ کل سے اب تک بس اپنی دوست کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔


"آپ؟؟" عائشہ اتنا ہی کہہ سکیں تو جاوید صاحب بھی عائشہ کو حیرت سے دیکھنے لگے۔


"جی میں۔۔۔ شاید آیت بھابھی نے بتایا ہوگا آپ کو کال پر اس۔ کا دیور آئے گا آپ کو پک کرنے ولیمہ میں شرکت کے لیے۔۔۔ میں ارسلان آیت بھابھی کا دیور" جیک عائشہ کے غصیلے لہجے کو کو گڑبڑا کر سمبھالتا ہوا بولا تو آیت بھی جاوید صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے زبردستی مسکراتی ہوئی بولی


"جی جی۔۔۔ بتایا تھا" عائشہ بولتی دل میں سوچنے لگی کیا آیت نے اسے بلایا تھا یا پھر جیک دوبارہ اسے کڈنیپ کرنے کے لیے آیا ہے اور کڈنیپ کرنا ہی تھا تو ایسے گھر تک کیوں آکر شرافت کا ناٹک کر رہا تھا۔ لیکن وہ خطرہ نہیں لے سکتی تھی آیت اور اپنے والد صاحب کے لیے تو بلکل نہیں اس لیے جاوید صاحب سے بولی


"بابا کیا میں جاؤ؟؟" 

"جی بیٹا ضرور جاؤ۔۔۔ لیکن آیت کی شادی اچانک اور کل ہی دیکھا تھا میں نے جب وہ کالج کے لیے آپ کو پک کرنے آئی تھی۔۔۔ اور عائشہ آپ نے بھی ذکر نہیں کیا" 


"جی بس نکاح کل سادگی سے ہوا تھا۔۔۔ آج ولیمہ ہے آج سب انوائیٹ ہیں آپ بھی چلے انکل ہمیں خوشی ہوگی" جواب عائشہ کے بجائے جیک نے دیا تھا۔ اور عائشہ اس جواب پر جیک کی شکل دیکھ کر رھ گئی "انکل" اففف اتنا ناٹک۔ جاوید صاحب مسکرا گئے اور بولے 


"نہیں بیٹا۔۔ میں بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا اور مجھے ویسے بھی بڑی بیٹی کی طرف جانا ہے آج۔۔ اللہ آیت بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے" جاوید صاحب کے بولنے پر جیک فوراً "آمین" کہہ اٹھا اور پھر جاوید صاحب عائشہ سے بولے 


"بیٹا کچھ کھانے وغیرہ کے کیے لے آئے" تو جیک اندر کی بات سنتا اور عائشہ کو کچن کی طرف جاتا دیکھ کر بولا


"نہیں انکل۔۔۔ مجھے لیٹ ہو رہا ہے پھر کبھی سہی۔۔۔ آپ بس ایک گلاس پانی پلا دے اور پلیز جلدی تیار ہو جائے" پہلے جاوید صاحب اور پھر آیت کی طرف رخ کر کے بولا تو عائشہ پانی لینے چلی گئی۔ پانی جیک کو دیتے روم میں جاکر تیار ہونے لگی اور جیسے ہی نیچے آئی تو جاوید صاحب سے خوش گپوں میں مصروف جیک کی نظر عائشہ پر پڑتے ہی واپس جھکنا بھول گئی


لیکن جلد ہی خود کو کمپوز کرتا جاوید صاحب سے سلام کرتا ناصر بڑھ گیا۔ اور عائشہ آسمانی رنگ کی لانگ سی میکسی میں مناسبت سے تیار ہوئی بہت خوبصورت لگ رہی تھی جاوید صاحب سے اللہ حافظ کرتی جیک کی سمت باہر نکلی تو جیک گاڑی سے ٹیک لگائے اسی کا انتظار کر رہا تھا عائشہ پاس آئی تو جیک نے پسنجر سیٹ کا دروازہ کھولنے اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو عائشہ چپ چاپ بیٹھ گئی جیک بھی ڈرائیونگ سیٹ سمبھالتا گاڑی سٹارٹ کر گیا۔


………………………………………………….

جاری ہے۔۔۔۔