"بہت خوبصورت لگ رہی ہو" جیک نے کہا۔ تو عائشہ گردن موڑ کر اسے دیکھتے ہوئے بولی
"ہننننہ۔۔۔ ہمیشہ ہی لگتی ہوں" عائشہ کے بولنے پر جیک مسکرا گیا تو عائشہ اسے غور سے دیکھنے لگی وہ ایک غنڈہ کتنا ہینڈسم تھا اور کہی سے بھی غنڈے جیسا تو نہیں لگتا تھا
"بے شک" جیک نے دل سے قبول کیا۔
"تم مجھ سے فلرٹ کر رہے ہو؟" عائشہ کے جیک کی مسکراہٹ گہری ہوئی
"کر تو رہا ہوں۔۔۔۔ کیوں صحیح سے نہیں کر رہا کیا؟" عائشہ اپنے چہرے پر آئی زلفوں کو کان کے پیچھے کرتی ہوئی غصے سے بولی
"تم جانتے نہیں ہو مجھے ابھی" جیک اس کی جانب رخ کرتا
"جاننا ہی تو چاہتا ہوں" ایک آنکھ ونک کرتا بولا تو عائشہ پہلو بدل کر پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی
"میرے بندے کو پتا چلا کہ تم مجھ سے فلرٹ کر رہے ہو تو پھر دیکھنا تم" عائشہ کے بولنے پر جیک حیران ہوا کیونکہ اس کی انفارمیشن کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی پھر؟؟
لیکن پھر عائشہ کے چہرے پر اسے حیران ہوتے دیکھ کر جو مسکراہٹ آئی تھی اسے سمجھتا اس کی فضول گوہر افشائی کو سمجھ گیا۔
"وہ کیا کر لے گا میرا؟" جیک طنزیہ مسکراہٹ لیے بولا۔
"بنا آواز کے بندہ مارنا اس کے لیے کوئی مشکل بات نہیں" عائشہ کا ڈائیلاگ اور آنکھوں میں چمک دیکھ کر جیک نے "ہننننہ" کے انداز میں سر جھٹکا
"وہ تو میں بھی کرسکتا ہوں" جیک نے کہا۔
"وہ کیسے؟؟" عائشہ نے پوچھا
"پسٹل پر سائلینس لگا کر" اطمینان سے جواب دیا گیا تو عائشہ مسکراتی بولی
"وہ مرے گا ہی نہیں" عائشہ کی بات پر جیک نے آئیبرو ریز کی
"کیوں؟؟" جس پر عائشہ نے بنا کچھ بولے مسکرا کر کندھے اچکا دئے اور باہر دوڑتی سڑک کو دیکھنے لگی تو جیک بھی سر جھٹکتا ڈرائیونگ کرنے لگا۔
…………………………………………………….
شام کا وقت تھا وہاب ولا کے مکینوں کی گاڑیاں جنت ولا میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے زریش بیگم اور ہالے داخل ہوتی جنت بیگم سے ملنے لگی ان کے پیچھے آتے دلشاد اور وہاب صاحب کاشان صاحب اور نوریز سے ملنے لگے اور پھر ہوئی داہم کی اینٹری
"بچنا اے حسینوں لو میں آگیا" داہم زریش بیگم اور ہالے کے کندھوں پر ہاتھ رکھے سائیڈ کرتے ہوئے بولا تو زریش بیگم نے ماتھا پیٹا اور ہالے "ہننننہ" کر کے پہلو بدل گئی جبکہ مرد حضرات کا قہقہہ گونجا اور داہم کے سامنے کھڑی جنت بیگم اسے مسکرا کر دیکھنے لگی
"حسن کا عاشق" داہم جنت بیگم کے گرد ایک چکر لگاتا ہوا بولا اور پھر کچھ فاصلے پر کھڑی نمل تک صوفہ پھلانگتا ہوا پہنچا
"حسن کا دشمن" اپنی جیکٹ سے گلاب کا پھول نکالتا نمل کے آگے سے جھکا کر پیش کرتا ہوا بولا تو نمل مسکراتے ہوئے پھول لے لیا نمل کو داہم پہلی ملاقات میں ہی اچھا لگا تھا۔ اب داہم مرد حضرات تک پہنچا
"اپنی ادا ہے یاروں سے جدا ہے" کاشان صاحب کو ہاتھ پیشانی تک لے جا کر سلام کرتے پھر دلشاد کو نوریز سے دور کرتے نوریز کے گلے لگ کر بولا تو کاشان اور وہاب صاحب دوبارہ قہقہہ لگا گئے کیونکہ داہم نوریز کو پھر گال پر کس کرنا نہیں بھولا تھا جبکہ دلشاد نفی میں سر ہلاتا سائیڈ ہو گیا اور نوریز بھی خوش اسلوبی سے کس وصول کرتا مسکرا اٹھا۔
اب زریش بیگم نمل سے شفقت سے مل رہی تھی اور ہالے حیرانی سے نمل کو دیکھے جا رہی تھی ہالے نے کبھی اتنی خوبصورت لڑکی جو نہیں دیکھی تھی بے شک ہالے آفریدی خود حسن کا پیکر تھی لیکن نمل وہ تو کسی حور جیسی لگی ہالے کو پھر آگے قدم بڑھاتی نمل سے ملی ایک عجیب سی جلن کا احساس تھا ہالے کے دل میں نمل کو لے کر شاید داہم کے مذاق میں کی گوہر افشائی کی وجہ سے۔
سب بڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے اور سب نوجوان پارٹی باہر لان میں بیٹھی ہوئی تھی نوریز اور دلشاد کوئی بات کر رہے تھے اور ہالے اور نمل بھی بیٹھی ہمہ تعارف ہو رہی تھی جب داہم اچانک اٹھتا نمل تک پہنچا۔
"نمل جی۔۔۔ اس سو سال پرانی ناگن سے دور رہیں یہ ڈس بھی سکتی ہے" داہم کی بات پر ہالے آگ بگولہ ہوتی بولی
"آج تک تم کو تو ڈسا نہیں"
"دیکھا بولا تھا نا ناگن ہے۔۔۔ خود ماں بھی گئی" داہم قہقہہ لگاتا بولا
"داہم۔۔۔" دلشاد نے داہم۔ کو تنبیہ کی لیکن داہم کہا سننے والا تھا
"آپ میرے ساتھ ڈیٹ پو چلے گی" اب کی دفعہ آفر نمل کو کی گئی وہ تو بیچاری پہلے ہی ہالے سے اس کی باتیں ہونک بنے سن رہی تھی داہم کی بات پر سٹپٹا گئی
"جی۔۔۔ جی۔۔۔ میں" نمل کے منہ سے بس اتنا ہی نکل پایا تو ہالے بولی
"رشیدہ کو لے جاؤ" ہالے نوریز کے گھر کی شوخ سے ملازمہ کا نام لیتی بولی تو داہم منہ بنا کو بولا
"اس نے منع کر دیا" دلشاد اور داہم کو حیرت ہوئی وہی ہالے کا منہ حیرت سے کھل گیا مطلب اس۔ نے گھر کے ساتھ ساتھ نوریز کے گھر کی ملازمہ کو بھی نہیں چھوڑا افف۔
"کیوں" اب کے سوال نوریز نے پوچھا تھا
"پتا نہی" داہم کے بولنے پر ہالے ہنستے ہوئے رشیدہ کو بلانے لگی جو فوراً حاضر ہوئی
"تم نے داہم کے ساتھ ڈیٹ پر جانے سے منع کر دیا ہے؟" نوریز کے سوال پر رشیدہ منہ بنا کر بولی
"جی صاحب" تو ہالے نے پوچھا
"کیوں؟؟"
"بی بی جی۔۔ میری منگنی ہو گئی ہے نا اب" رشیدہ شرماتے ہوئے بولی تو داہم نوریز کے گلے لگتا گانے لگا
" کیسے جئیو گا کیسے بتا دے مجھ کو تیرے بناااااااااا" داہم آخر میں ہاتھ کا اشارہ رشیدہ کی طرف کرتا بولا تو رشیدہ بھی کمر پر دونوں ہاتھ رکھے لڑاکا عورت بنی بولی
"وہ جو اس جینی نام کی فیرنگن کے ساتھ پک لے کر واٹس ایپ سٹیٹس لگایا تھا نا اس کے ساتھ جی لینا۔۔۔ ہننننہ" رشیدہ تن فن کرتی گئی تو دلشاد اور نوریز کو تو ہنسی کنٹرول کرنی مشکل ہوگئی جبکہ ہالے نے ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کی تھی اور نمل بھی کھلکھلا کر ہنس دی نوریز نمل کو اس طرح ہنستے دیکھ کر مسکرا اٹھا تو ہالے کی ہنسی تو جیسے غائب ہی ہو گئی۔
داہم ہالے کی ہنسی غائب ہوتا دیکھ چکا تھا اور اسکا نوریز کو نرم نگاہوں سے دیکھنا بھی درد کی ایک لہر جو ہالے آفریدی لو نوریز کے کسی اور کو دیکھنے سے ہو رہی تھی وہی لہر داہم کو اسے کسی اور کو دیکھتا پا کر ہوئی۔
سب لوگ کھانا کھا کھا کر آرام سے لاؤنج میں بیٹھے تھے جب اچانک نوریز نے آئسکریم کھانے کے لیے چلنے کا پوچھا تو بڑوں کے منع کرنے پر باقی سب چلے گئے نمل کے بار بار انکار کے باوجود نحیف داہم نے زبردستی اسے منا ہی لیا اب سب آئسکریم کھا کر گھر واپسی کے لیے نکلے ہی تھے کہ کچھ لوگ سائیڈ پر ایک کار روکے کھڑے تھے۔
نوریز انہیں دیکھتا اپنی گاڑی سائیڈ پر لگا گیا اس کا خیال تھا کہ سامنے کھڑے لوگوں کو شاید مدد کی ضرورت ہے لیکن افسوس یہ اس کا خیال ہی تھا۔
"کیا ہوا؟؟ گاڑی خراب ہو گئی ہے؟؟" نوریز کے پوچھنے پر سامنے کھڑا شخص پسٹل نکالتا نوریز کے پیٹ کے نصف میں رکھتا بولا
"جو کچھ ہے نکال جلدی" اس شخص کے دو اور ساتھی دائیں بائیں آکر کھڑے ہو گئے۔ دلشاد جو پسنجر سیٹ پر بیٹھا کچھ خطرے کا احساس ہوتے اتر کر نوریز تک پہنچا تو بائیں کھڑا آدمی دلشاد پر پسٹل تان گیا۔ جس پر دلشاد صرف ایک آئیبرو ریز کر گیا نوریز اور دلشاد نے ایک دوسرے کو دیکھتے لمبی سانس کھینچ کر ہوا کے سپرد کی۔
"اوو۔۔ کیا آہیں بھر رہے ہو۔۔۔ جلدی نکالو سمجھ نہیں آرہی کیا"۔ تیسرا چور بے زار ہوتا بولا پھر اپنے قدم گاڑی کی طرف بڑھا گیا۔ جس پر دلشاد اپنے سینے پر رکھی پسٹل کو ایک دم نیچے کرتا سیدھے ہاتھ کا پنچ بناتا اپنے سامنے کھڑے چور کو رسید کر گیا دلشاد کے پسٹل نیچے کرنے پر نوریز بھی اپنے پیٹ پر رکھی پسٹل کو ایک دم ہوا میں بائیں طرف کرتا گھوم کر اپنے سامنے کھڑے چور کے منہ پر کہنی سے وار کر گیا جس پر وہ چور پیچھے ہوتا اپنی ناک پکڑے کراہ گیا۔
…………………………………………………….
جاری ہے۔۔۔۔

0 Comments