وہاب صاحب نے جمال صاحب کو فون اسپیکر پر ڈالنے کا کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئے۔ ڈیول بھی اب دور بیٹھا اس فون کال کی طرف متوجہ ہوا جبکہ جمال صاحب سے کچھ فاصلے پر دلشاد بیٹھا دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پوسٹ کئے ساری کارروائی دیکھنے رہا تھا اس کی توجہ بھی اب فون کال پر تھی۔ جبکہ خواتین ساری عنایہ کے کمرے میں تھی۔
"جمال۔۔۔۔ جمال حفیظ کیسا لگا میرا سرپرائز۔۔۔ ہاہایاہاہا۔۔ چہ چہ بارات نہیں پہنچی ابھی تک" سلطان بولا تو جمال صاحب بے یقینی نظروں سے سب کو دیکھنے لگے۔
"سلطان کیا مذاق ہے یہ اور۔۔۔ تم اور راحیل کہا ہو جلدی پہنچو یہاں سب انتظار کر رہے ہیں" جمال صاحب بولے تو ان کی آواز میں غصہ، بے یقینی تھی۔
"ہم تو آسٹریلیا میں ہیں اور رہی بات بارات کی تو سوری وہ تو نہیں آئے گی اب" اب فون کال پر راحیل کی آواز ابھری ڈیول نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی جیسے کوئی اشتعال قابو کیا ہو تو جمال صاحب لڑکھڑائے جنھیں آگے بڑھ کر وہاب صاحب نے سہارا دیا۔
"کیا بدتمیزی ہے یہ اور یہ سب ہی کرنا تھا تو رشتہ کیوں جوڑا تھا" جمال صاحب دھاڑے۔
"آرام سے ناہونے والے سسر جی۔۔۔ کہیں بی پی شوٹ نا ہو جائے۔۔۔ ہاہاہا" راحیل طنزیہ ہنستا ہوا بولا۔
" راحیل۔۔۔ میں تمہیں برباد کر دوں گا آخر کیا بگاڑا ہے ہم لوگوں نے تمہارا۔۔۔ اتنا گندہ کھیل کیوں کھیلا ہمارے ساتھ" جمال صاحب نے خود کو کہتے سنا۔
"کیا بگاڑا ہے؟؟ وہ تم ہی تھے جس نے مجھے فراڈ کے جرم میں جیل بھیجا تھا۔۔ ایک سال تمہاری وجہ سے میں جیل رہا اس کیس میں پھنسا رہا اور ضمانت بھی ہوئی تو تمہاری معافی پر۔۔۔ تمہیں اندازہ نہیں میری ذلت کا میری بے عزتی کا جو میں نے میرے خاندان نے تمہاری وجہ سے اٹھائ۔۔ تب ہی میں نے اپنی ذلت اقر بے عزتی کا بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی جو آج تمہاری بیٹی کی صورت میں پورا ہوا" سلطان خباثت سے بولتا چلا گیا۔
"میں تمہیں برباد کر دونگا سلطان" جمال صاحب پھر غصے سے دھاڑے۔ ان کی دھاڑ اتنی اونچی تھی کہ عنایہ کے کمرے سے باہر نکلتی ان تک پہنچی لیکن پھر کسی کی آواز سن کر بیچ راستے میں ہی ساکت ہوگئی عنایہ کے پیچھے ہی آیت اور زریش بیگم بھی باہر نکلی
"تم کہتے تھے جمال تمہاری بیٹی بڑے اونچے بخت کی ہے اور آج دیکھو تمہاری وجہ سے اس کی بد بختی شروع ہو گئی" سلطان تمسخر سے بولا۔
"بڑے منت مرادوں سے مانگی تھی نا اولاد آج اسی اولاد کو زندہ بنانے کا تم سبب بنو گے" ایک اور دفعہ سلطان نے زہر اگلا۔
"تمہاری اتنی عزت اور شہرت کی وجہ تمہاری بیٹی تھی نا آج وہی بیٹی تمہاری ذلت کی وجہ بنی ہے" الفاظ تھے کہ سیسہ جو عنایہ کے کانوں پگھلایا جا رہا تھا۔
"اور رہی ہمیں برباد کرنے کی بات تو وہ تو خواب ہی سمجھو تم۔۔۔ میں نے پاکستان سے سب کچھ وائینڈ اپ کر دیا ہے دو مہینوں سے یہی کر رہا ہوں میں۔۔۔۔ اور دیکھو تمہیں پتا بھی نہیں چلا چہ چہ۔۔۔ اور ہاں بربادی مبارک ہو نا ہونے والے سمدھی" یہ بولتے ہی سلطان نے کال ختم کر دی۔ تو ڈیول اب اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا ہشام کو کال کرتے ہوئے بولا۔
"مجھے راحیل ملک اور سلطان ملک کل ہی اپنے بیسمینٹ میں چاہیے زندہ سہی سلامت" ڈیول نے کہتے ہی فون جیب میں رکھا اور خونخوار نظروں سے ہر چیز کو دیکھنے لگا جیسے ابھی وہاں موجود ہر شے کو تباہی بخش دے گا۔ ڈیول نے کبھی بھی عنایہ کو اس حالت میں نہیں دیکھا تھا نا وہ آج یہ جرت کر سکتا تھا
وہ تو کبھی بچپن میں بھی عنایہ کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیتا تھا۔ اور آج آنسوؤں کی وجہ جو تھی کل ڈیول کنگ اس وجہ کو ہی دنیا سے ختم کر دے گا یہ بات وہ طے کر چکا تھا۔ جمال صاحب کو خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا جانے انجانے میں اپنی ذات اور اپنی بیٹی کی رسوائی کی وجہ وہ خود کو ہی سمجھ رہے تھے۔
راحیل اور سلطان پر بھروسہ کر کے ان کی چالاکی کو نا سمجھ کے وہ اندر سے ٹوٹ گئے تھے ورنہ جمال حفیظ جیسا اتنا مضبوط شخص آج کسی کے سہارے کھڑا تھا جمال صاحب بھیگی آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے جو انھیں کچھ دیر پہلے دلہن بنی لگ رہی تھی اور اب ایک زندہ لاش۔ عنایہ کو راحیل سے کوئی محبت نہیں تھی لیکن اپنی زندگی کے اتنے اہم اور خاص دن پر اپنی اس قدر تذلیل پر وہ جیسے ساکت ہو گئی تھی۔ جمال صاحب خود کو سنبھالتے عنایہ کی جانب قدم بڑھا رہے تھے جب انھیں پیچھے سے ایک آواز سنائی دی۔
"جمال میں اپنے بیٹے دلشاد وہاب خانزادہ کے لیے تمہاری بیٹی عنایہ جمال حفیظ کا رشتہ مانگتا ہوں۔ نکاح ابھی اور اسی وقت ہوگا" وہ آواز بے شک وہاب خانزادہ کے تھی اور وہ آواز اس وقت جمال صاحب کو اپنی زندگی کی نوید لگی تھی۔ جمال صاحب نے بے یقینی سے وہاب صاحب کی طرف دیکھا وہی عنایہ بھی ساکت سی نظروں سے انھیں دیکھے گئی جبکہ دلشاد ایک دم گردن موڑے سیدھا کھڑا ہوا
غم غصہ اشتعال کیا نہیں اٹھ رہا تھا اس کے اندر محبت نا تھی ساتھ لیکن محبت کی یادوں میں تو زندہ تھا دلشاد اپنی محبت کے علاوہ کسی کو یہ حق کیسے دے سکتا تھا وہ تو محبت بھی عبادت کی طرح کرتا تھا اسی لیے اتنے برس بعد بھی وقت بھی اس کے زخموں کو مرہم نہیں لگا پایا تھا اس کی محبت آج بھی اس خے اندر اسی طرح زندہ تھی جیسے برسوں پہلے۔
زریش بیگم بھی وہاب صاحب کی طرف متوجہ ہوئی وہ بھی تو کشمکش میں تھی بھلا یوں اچانک اپنے بیٹے کی شادی کیسے کر سکتی تھی ان کے تو کتنے چاؤ تھے لیکن دلشاد نے اب تک شادی کے لیے کہا ہاں کی تھی جو وہ اپنے چاؤ پورے کرتی۔ ڈیول تو جیسے پوا گھوم کر سیدھا ہوا تھا دلشاد اب یہ دلشاد کون ہے اور کیا وہ شخص سہی ہو گا عنایہ کے لیے؟؟ جبکہ آیت چپ چاپ کھڑی آگے کیا ہوگا کی منتظر تھی۔
"آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ میں آپ کا مشکور رہوں گا تا عمر وہاب صاحب۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں اس رشتے پر اور دلشاد۔۔۔ دلشاد جیسا شخص اگر میری بیٹی کی زندگی میں ہوگا یہ اس کی خوش قسمتی ہو گی" جمال صاحب کو جیسے دلشاد کا نام سنتے ہی فوراً راضی ہو گئے تھے۔ وہاب کے سامنے کھڑے ہوتے نم آنکھوں سے بول پڑے۔
"جمال صاحب یہ ہماری خوش قسمتی ہوگی کہ آپ کی بیٹی ہمارے گھر کی عزت بنے گی" وہاب صاحب انہیں گلے لگاتے بولے۔
"آپ مولوی صاحب کو بولے نکاح شروع کرنے کے لیے تیار رہیں" وہاب صاحب بولے تو جمال صاحب اثبات میں سر ہلاتے تیاریاں دیکھنے چلے گئے وہی عنایہ کی سہیلی واپس اسے کمرے میں لے گئی تو آیت بھی ان کے ساتھ چل دی جبکہ زریش بیگم وہاب صاحب کی سمت بڑھی جو دلشاد سے بات کرنے کے لیے چل پڑے۔
"ڈیڈ۔۔۔ ڈیڈ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ میں یہاں اس لیے نہیں آیا تھا" دلشاد اپنے باپ کے سامنے بیٹھا خفگی سے بول رہا تھا۔ ہال کے اس کمرے میں وہاب صاحب، زریش بیگم اور دلشاد ہی موجود تھے دلشاد وہاب صاحب کے سامنے چیئر پر بیٹھا تھا جو خود سامنے صوفے پر بیٹھے دلشاد کو ہی دیکھ رہے تھے اور ان کے ساتھ زریش بیگم بیٹھی تھی۔
"تمہیں کیا تکلیف ہے اس رشتے سے" وہاب صاحب بیٹے کو سمجھانے والے انداز میں بولے۔
"تکلیف۔۔۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتا یہ تکلیف ہے مجھے" دلشاد ضبط سے بولا ورنہ دل تو ہر شے تباہ کرنے کا چاہ رہا تھا لیکن سامنے باپ اور ماں تھے دلشاد ان کے سامنے بس ضبط ہی کر سکتا تھا دلشاد وہاب خانزادہ والدین کے احترام کی بہترین مثال تھا۔
"دلشاد سہی کہہ رہا ہے وہاب۔۔۔ ہم اچانک ایسے کیسے شادی کر سکتے ہیں صرف دلشاد ہی جمال بھائی صاحب کو کاروباری لحاظ سے جانتا ہے۔۔۔ اور شادیاں یوں نہیں ہوتی وہاب" اس دفعہ زریش بیگم بولی۔
"میں نے صرف ایک باپ کی عزت اور ایک لڑکی کو رسوائی سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ اپنے رب کی رضا کے لیے کیا ہے" وہاب صاحب لمبی سانس کھینچ کر ہوا کے سپرد کرتے کھڑے ہوتے دلشاد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
"لیکن ڈیڈ ۔۔۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتا" دلشاد بے بسی سے بولا۔
"دلشاد 28 سال کے ہو گئے ہو تم اب نہیں تو کب کرو گے شادی اور تمہاری ماں ایک عرصے سے تمہارے پیچھے پڑی ہوئی ہے شادی کر لو لیکن تم کب سے ٹال رہے ہو۔۔۔" وہاب صاحب نے پھر دلشاد سے کہا۔
پر ڈید۔۔۔ دلشاد کچھ کہنے ہی والا تھا جب وہاب صاحب نے ہاتھ ہوا میں بلند کر کے اسے خاموش رہنے کا کہا۔
"دلشاد میں زبان دے چکا ہوں اگر تم اپنے باپ کی زبان کا پاس نہیں رکھ سکتے تو بھری محفل میں مجھے شرمندہ کر دو" یہ وہ آخری وار تھا جو وہاب صاحب نے اپنی بات منوانے کے لیے کیا تھا اور کار آمد ثابت ہوا کیونکہ دلشاد وہاب خانزادہ نے آج تک صرف اپنے باپ کا سر فخر سے بلند کیا تھا تو اب کیسے ممکن تھا دلشاد اپنے باپ کا سر شرمندگی سے جھکنے دیتا۔
"ٹھیک ہے ڈیڈ۔۔۔ لیکن یہ رشتہ صرف آپ کی زبان کے پاس کے لیے قائم کر رہا ہوں۔۔۔۔ اس سے زیادہ اس ان چاہے رشتے میں مجھ سے آپ کوئی امید مت رکھئیے گا" دلشاد مٹھیاں بھینچ کر ضبط سے بولتا باہر نکل گیا تو زریش بیگم اپنی جگہ چھوڑتی وہاب صاحب تک آئی۔
"وہاب آپ کو نہیں لگتا آپ صحیح نہیں کر رہے نا ہمارے بیٹے کے ساتھ نا اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔ دلشاد جو بول کر گیا ہے وہی کرے گا۔۔۔ آپ جانتے ہیں اچھے سے اپنے بیٹے کو" زریش بیگم بولی تو ان کی آواز میں پریشانی تھی۔
"میں اپنے بیٹے کو جانتا ہوں زریش۔۔۔۔ اسی لیے یہ سب کر رہا ہوں وہ کبھی شادی نا کرنے کا شاید ارادہ کر چکا ہے وجہ نہیں معلوم مجھے کیوں لیکن اگر میں آج اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرو گا تو تا عمر اپنے بیٹے کی خوشیاں دیکھنے کے لیے ہم ترستے رہے گے۔۔۔" وہاب صاحب دلشاد کے ارادے بھانپتے ہوئے بولے شاید وہ جان گئے تھے دلشاد کی آنکھوں میں ہر دفعہ شادی کے نام پر اٹھنے والے کرب کو۔
…………………………………………………….
جاری ہے۔۔۔۔

0 Comments