"آیت پلیز یار میری بات تو سنو تم"عائشہ آیت کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولی جو کالج کے مین گیٹ کی طرف قدم بڑھا رہی تھی بھوکی شیرنی کی طرح ایسے جیسے اپنا شکار کہو نہ بیٹھے۔
"آیت جانے دو پلیز یار" ایک اور کوشش کی گئی آیت روک گئی اور عائشہ کی طرف پلٹی۔
بلیک جینز اور وائٹ ٹوپ میں کھلے شہد رنگ بال، دوددھیہ رنگت بڑی سی آنکھیں گلابی ہونٹ مغرور سی ناک وہ بلاشبہ حسن کا پیکر تھی اور اس وقت تو غصے کی حالت میں گال اور ناک سرخ ہورہے تھے ماتھے پر بل ڈالے عائشہ سے مخاطب ہوئی۔
"اس نئے لفنگے کا جبڑا ہلا کر چھچور پن نہ اتار دیا نا تو میرا نام بھی آیت صدیقی نہیں Mark my words" آیت یہ کہتے ہی رکی نہیں۔
"اففففف خدایا یہ لڑکی اللہ میری مدد کر کیا ضرورت تھی مجھے اس کو بتانے کی" عائشہ تو بس آیت کے تیور دیکھ کر خود کو کوسنے ہی لگ گئی تھی کہ کیوں اس بدتمیز لڑکے کے اسے تنگ کرنے والی بات اس 'lady fighter' کو بتائی۔ اب کیا ہوگا وہ اس سوچ میں ہی تھی کہ اچانک ایک لڑکے کے بلبلانے کی آواز سنی تو دیکھا آیت تو کب کی جا چکی۔ عائشہ اپنا ماتھا پیٹتی کالج کے مین گیٹ کی سمت بھاگی جہاں بہت سے سٹوڈنٹس تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے تھے۔
یقین آیت صدیقی اپنا کام شروع کر چکی ہے۔ اور واقعی آیت صدیقی کک مارنے میں مصروف نظر آئی البتہ یہ الگ بات ہے کے کک فٹبال کو نہیں اس لڑکے کو ماری جا رہی تھی جس نے عائشہ کو تنگ کیا تھا۔ "اففففف یہ لڑکی"
عائشہ آیت کو روکنے کے لیے آگے بڑھی تھی لیکن اسی وقت وہی لڑکا جس نے عائشہ کو تنگ کیا تھا اٹھا اور آیت پر وار کرنے ہی والا تھا کہ آیت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک ٹانگ گھما کر اسے دوبارہ زمین بوس کر دیا اور کک مارنے لگی جب آگے بڑھ کر عائشہ نے اسے روک دیا اور معصوم شکل بنا کر بولی "آیت مجھے سسپینڈ نہیں ہونا پلیز یار"
یہ سن کر آیت رک گئی لیکن اگلے لمحے ایک زور دار پنچ اسی لڑکے کو دے مارا جو اب اپنا جبڑا سہلا رہا تھا۔ "آیت صدیقی" کون تھا جو اس نام سے واقف نہیں تھا کم سے کم اس کالج میں تو نہیں تھا۔ حسد کی ماری لڑکیاں اسے بگڑی امیر زادی کہتی تھیں لیکن لڑکے وہ تو اسے "heart killer" کہتے تھے لیکن ہاں سب پیٹھ پیچھے کیوں کہ "آیت صدیقی" لڑکوں سے بات نہیں 'ملاقات' کرنا زیادہ پسند کرتی تھی۔ خیر اس لڑکے کی تو شامت آگئی جو اس نے عائشہ کو چھیڑا اور غضب یہ کہ ابھی تک بیچارے کو ہی معلوم نہیں کہ اس کے کس عمل کی بنیاد پر اتنی خاطر داری کی جا رہی ہے۔
"سسپینڈ کوئی نہیں ہونے والی تم مجھے روکنے کے لیے تھرڈ کلاس بہانے مت بناؤ عائشہ" آیت پنچ مار کر عائشہ کی طرف رخ کر کے بولی۔ "آیت پلیز چھوڑ دو اب اسے اب اتنی خاطر داری کر تو لی ہے تم نے" عائشہ منت بھرے لہجے میں بولی تو آیت نے بھی اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھا اس کی کلاس کا وقت ہوگیا تھا قدم پیچھے کئے تبھی وہ لڑکا عائشہ کی طرف مشکور نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا "آپ فرشتہ ہے میرے لیے شکریہ" اور آیت یہ سن کر آگ ہی تو لگ گئی فوراً بولی "اور اس فرشتے کو چھیڑنے والے تم جہنم کے لفنگے" یہ سنتے ہی لڑکے کو سمجھ لگی کیوں وہ اس حالت میں کچھ دیر پہلے کیے گئے اپنے غیر اخلاقی عمل کی وجہ سے یہاں تک پہنچا۔
"بہن مجھے معاف کر دو آئیندہ کبھی یہ غلطی نہیں ہو گی"
وہ لڑکا ندامت سے کہتا اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے عائشہ سے بولا۔
"کوئی بات نہیں بھائی آپ کو احساس ہو گیا کافی ہے آئیندہ کسی بھی لڑکی کو پریشان نہیں کیجئے گا" عائشہ کہا لڑائی مار پیٹائی دیکھ سکتی تھی اور کہا وہ لڑکا اس کی وجہ سے سیدھا کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا۔ افسوس سے فوراً بولی۔
جبکہ اس کی بات سن کر آیت نے مٹھیاں بھینچ لی اور بولی "بھائی کی بہن اب چلنا ہے؟؟ یا بھائی کی مرہم پٹی بھی کروا کر آؤ گی؟؟"
عائشہ گڑبڑا کر سیدھی ہوتی آیت کے ساتھ کلاس کی سمت قدم بڑھانے لگی۔
عائشہ آیت کی واحد دوست تھی۔ آیت امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی جبکہ عائشہ مڈل کلاس گھرانے سے تھی۔ ان کی دوستی سکول میں ہوئی تھی عائشہ کے والد جاوید صاحب ایک ملازمت پیشہ انسان تھے لیکن انہوں نے اپنی دو بڑی بیٹیوں سے زیادہ عائشہ کی بہترین تعلیم پر توجہ دی اس کی ایک وجہ اپنی بہنوں سے زیادہ لائق ہونا تھی اسی لیے آج عائشہ اتنے مہنگے کالج کی طلبہ تھی اور %50 سکولر شپ بھی۔ اور آیت صدیقی اپنے خونی رشتوں کی نفرت کی شکار لڑکی تھی اس کے باپ نے محبت کی شادی کی تھی اس کی ماں سے لیکن دوسری شادی۔ یہ شاید آیت کا سب سے بڑا گناہ تھا کہ وہ نا تو صدیقی صاحب کی پہلی بیگم کو پسند تھی نا ان کی بیٹی کو اور صدیقی صاحب تو آیت سے اسی دن نفرت کرنے لگے جب آیت اس دنیا میں آئی اور ان کی محبوب بیوی خالق حقیقی سے جا ملی۔ اب آیت تو ان لوگوں کی نفرت سہتے سہتے خود بھی پتھر دل بن چکی تھی۔
ایک جو واحد محبت کا رشتہ تھا وہ دوستی تھی عائشہ جاوید کی دوستی جس کے لیے آیت صدیقی اپنی جان بھی دے سکتی تھی عائشہ بھی تو اس سے اپنی بہنوں سے بڑھ کر محبت کرتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مجھے معاف کر دو devil king" رسیوں میں جکڑا شخص سامنے اپنی موت کو دیکھ کر بولا ایک خوف تھا جو اس کے روم روم سے جھلک رہا تھا۔ وہی خوف جو امریکہ کے لوگوں کو صرف "devil king" کے نام سے ہی آنے لگتا آتا بھی کیوں نہ اس کی بے رحمی اور سفاکیت کے چرچے ہر طرف مشہور تھے۔ لمبا قد، کسرتی جسم، سفید گلابی رنگت، کھڑے مغرور نین نقش اور نیلی پراسرار سی آنکھیں، کالے بال جو ہر وقت جیل سے سیٹ رہتے تھے بلیک تھری پیس میں وہ مافیا devil King تو کہیں سے نہیں لگتا تھا وہ تو کسی ریاست کا شہزادہ کی سی پرسنیلٹی اور روب کا مالک شخص تھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے بیٹھا
سامنے بیٹھے غدار کو دیکھ رہا تھا جس نے اس کے گینگ کی انفارمیشن "ڈیول کینگ" کے دشمنوں تک پہنچانے کی کوشش کی تھی جو بروقت اس کی ٹیم نے ناکام کر دی تھی۔ ڈیول کینگ خود کا خون معاف کر سکتا ہے لیکن غداری نہیں یہ بات ڈیول کینگ کے ٹیم کے تمام لوگوں کو معلوم تھی لیکن پھر بھی غداری کی کوشش یہ شخص تو واقعی قابل دید شخص تھا اس لیے تو ڈیول کینگ یہاں خود آیا تھا تاکہ سب کو معلوم ہو سکے "ڈیول کینگ" سب کو بتا سکے غداری کی سزا موت دیتا ہے۔ "مجھے معاف کر دو ڈیول کینگ میرے بیوی بچوں پر ترس کھاؤ" لیکن سامنے والا بے سود جیسے کچھ سن ہی نا رہا ہو۔ "خون کرنے والے کو معاف کر بھی سکتا ہوں لیکن غداری نہیں " یہ کہتے ہی ڈی۔کے اٹھا اور پیٹھ اس غدار کی طرف تھی جو خوف سے کانپ رہا تھا پھر اس نے ڈی۔کے کا بائیاں ہاتھ ہوا میں اٹھتا دیکھا جس میں پسٹل تھی اور ایک فائر کی آواز اور سامنے بیٹھے شخص کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی یہ تو سب جانتے ہیں کہ "ڈیول کینگ" آنکھیں بند کر کے بھی فائر کرے تو بھی سامنے والا بچ نہیں سکتا۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ "ڈیول کینگ" بلڈنگ کے باہر قدم بڑھا رہا تھا اور اس کے آدمی دائیں بائیں چل رہے تھے۔ بلیک تھری پیس سوٹ میں "ڈیول کلنگ" اپنے قدموں کی چاپ سے سامنے والے کو دنیا فتح کرنے کا گمان دے رہا تھا اور اس کے آدمی جو ہر سب ہمیشہ رائل بلیو کلر کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس رہتے تھے "ڈیول کینگ" کے آدمی ہونے کا ثبوت دے رہے تھے۔ جیک جو کہ ڈیول کینگ کا خاص تھا ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا تھا سائے کی طرح آگے بڑھ کر کار کا دروازہ کھولا ڈیول کینگ کے بیٹھتے ہی دوسری جانب آ بیٹھا۔ "ڈیول ہشام نے پاکستان میں تمہارے لیے پارٹی رکھی ہے کل" جیک بول کر ڈیول کے جواب کا منتظر ہوا۔ اوکے کل چلے گے پاکستان ہشام سے ملنے بھی اور قبضہ کرنے بھی، ڈیول اتنا کہتا مسکراہٹ سجائے باہر دیکھنے لگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"نوریز"
"نوریز"
ہر طرف زور و شور سے نوریز کے نام کے نعرے لگائے جا رہے تھے لگاتے بھی کیوں نا مشکلوں سے تو "نوریز کاشان یوسفزئی" اپنی آواز اپنے چاہنے والوں کو سنانے کا شرف بخشتا تھا۔ یہ منظر اسلام آباد یونیورسٹی کا تھا جہاں ہر شخص "نوریز کاشان یوسفزئی" کا منتظر تھا اور اسٹیج پر لگا مائک بھی۔ بہار کا موسم، ڈھلتی شام ایک خوبصورت منظر کی گواہی دے رہے تھے۔ سامنے سے وہ آتا نظر آیا اور اسٹیج پر لگے مائک کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ لمبا قد، فاف رنگت، کھڑے نقوش، کالے بال جو پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے بلیک جینز اور شرٹ میں، سبز آنکھوں میں چمک لیے وہ رف حلیے میں بھی وہاں کھڑی کئی لڑکیوں کے دل میں اُتر چکا تھا۔ وہ تھا ہی ایسا دل میں اترنے والا شوخ مزاج لیکن مجال جو آج تک کسی بھی لڑکی کو نظر بھر کر دیکھا بھی ہو۔ اور جب سے اس کی یونی ختم ہوئی تو وہاں کے جونئرز اس کی آواز کو مس کرتے تھے اور آج تو انہیں موقع ملا تھا اس ساحر کی آواز کو سننے کا کیونکہ آج نوریز کے بیج کو یونی میں مدعو کیا گیا تھا ہاں یہ بات الگ تھی کہ نوریز کا دل نہیں تھا آنے کا اپنے گردے کے بنا لیکن آنا پڑا ارسلان کے نئے نئے نکاح کی خوشی میں کیونکہ ارسلان کی منکوحہ جو اس کی کلاس فیلو رہ چکی تھی اس نے ارسلان سے نوریز سے اپنا فیورٹ سونگ گانے کی فرمائش کی تھی جس کے لیے بیچارے ارسلان نے اپنی ساری جمع پونجی نوریز پر لٹا دی تھی۔
اور ایک محبوب کی طرح سارے نکھرے جھیلے تھے "آہ نوریز تجھے اللہ پوچھے" ارسلان تو بیچارہ یہ ہی سوچ سکتا تھا بول تو پھر بھی نہیں سکتا تھا۔ "اہممم گڈ ایوننگ گائیز" نوریز کی آواز پر ارسلان اپنی سوچ جھٹک کر متوجہ ہوا کیونکہ باقی سب تو پہلے ہی سے دل تھام کر دیدار نوریز میں مصروف تھے۔ "یہ سونگ ہمارے بیج کے فرسٹ کپل کے لیے " نوریز نے یہ کہتے ہی گٹار تھام لیا اور اپنی آواز کا سحر برسانے لگا۔ ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے تیرے بنا کیا وجود میرا گانے کے پہلے پہرے میں ہی لڑکیوں نے اپنا دل تھام لیا اور نوریز کو دل ہار بیٹھنے والی نظروں سے دیکھنے لگی اور جس پر دل ہارا جا رہا تھا وہ اپنی دھن میں مگن آنکھیں بند
کئے گٹار کے تار چھیڑتے ہوئے گنگنانے میں مصروف تھا
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے تیرے بنا کیا وجود میرا
🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶
تجھ سے جدا اگر اگر ہو جائے گے تو خود سے ہی ہو جائے گے جدا
کیونکہ تم ہی ہو اب تم ہی ہو میری زندگی اب تم ہی ہو
🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶
چین بھی میرا درد بھی میری عاشقی اب تم ہی ہو تیرا میرا
رشتہ ہے کیسا اک پل دور گوارا نہیں
(یہ لیریکس گاتے ہی نوریز نے آنکھیں کھول کے ارسلان اور دعا کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا جو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے۔ نوریز کے اشارہ کرنے پر سب لوگوں نے اس کپل کی طرف دیکھ زور دار ہوٹنگ کی جس سے دعا چھیپ گئی اور ارسلان مسکرا کر اسے دیکھنے لگا)
تیرے لیے ہر روز ہے جیتے
تجھ کو دیا میرا وقت سبھی
کوئی لمحہ میرا نہ ہو تیرے بنا ہر سانس پہ نام تیرااااا
کیونکہ تم ہی ہو اب تم ہی ہو میری زندگی
اب تم ہی ہو چین بھی میرا درد بھی میری عاشقی اب تم ہی ہو
🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶
نوریز اسٹیج سے نیچے اترتا سٹوڈنٹس سے خود خو بچاتا اس سے ملنے آرہے تھے ارسلان کی طرف قدم بڑھا رہا تھا جب اچانک کسی لڑکی کے نرم ہاتھ کا لمس اپنے بائیں کندھے پر محسوس کیا نوریز سمجھ گیا یہ کون ہے کیونکہ نوریز اسے پہلے ہی اسٹیج کے سینئر سائڈ پر کھڑے دیکھ چکا تھا اور نا بھی دیکھتا تو بھی جان جاتا کیونکہ یہ ہمت نوریز کی زندگی میں ایک ہی لڑکی کر سکتی تھی "ہالے آفریدی" "کاش یہ سونگ تم صرف میرے لیے گاتے" ہالے آہ بھرتی نوریز کے سامنے آتی اور نوریز اور نوریز ارسلان سے ملنے کا ارادہ ترک کرتا اس سے مخاطب ہوا۔ "اتنی اچھی شکل نہیں تمہاری " نوریز ناراضگی سے کہتا ایک سائڈ چلنے لگا۔ ناراض ہوتا بھی کیوں نہ نوریز کے ساتھ آنے کو تو منع کر دیا تھا میڈم نے اور اب اچانک نمودار ہوگی۔ جبکہ ہالے نوریز کے پیچھے پیچھے قدم رکھتی چلنے لگی "الحمدللہ ایک دنیا مرتی ہے اس شکل پر" قہقہہ لگا کر بتایا گیا وہ دنیا نہیں جنات کا گاؤں ہوگا کیونکہ ایسی شکل پر جنات ہی مرتے ہیں، نوریز پلٹ کر اسکی حرکت دیکھتا ہوا بولا۔ "تم میرے قدم کے پیچھے قدم کیوں رکھتی ہو؟؟" جھنجھلا کر پوچھا گیا جبکہ ہالے آنکھوں میں چمک لیے اسے دیکھنے لگی۔
"کیونکہ میں تمہارے ساتھ قدم ملا کر نہیں چل سکتی" ایک آہ کی سی کیفیت میں بتایا گیا "کیوں؟؟" نوریز کو اس کی بات سمجھ نہیں آئی۔ "ڈر لگتا ہے بھئ تم چلتے چلتے دھکا دے دو مجھے جناتوں کی بستی میں" ہالے آنکھوں میں نمی لئے ہنستے ہوئے بولی(ایک دنیا جانتی تھی ہالے کی آنکھوں میں کس کے نام کی محبت چمکتی تھی پر جس کا نام تھا وہی انجان تھا) اتنا بھی ظالم نہیں خیر میں اب کیسے آئی ہو تم نے مجھے منع کر دیا تھا تو اب کیسے؟؟"نوریز نے آئیبرو ریز کر کے پوچھا۔ "بس یار ممانی کو ایکسکیوز کر کے آگئی بہت بورنگ پارٹی تھی خواتین کی" ہالے نے پارکنگ کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بتایا۔ "آپ بھی خواتین میں شامل ہوتی ہے میڈم" نوریز اسکی بات پر ہنستے ہوئے بولا۔ "ایسی پارٹیز سے چڑ ہے مجھے لیکن ممانی زبردستی لے گئ بہت مشکلوں سے انہیں منا کر آئی ہوں" ہالے اپنی کار سے ٹیک لگا کر بولی۔ "ہاہاہا۔۔ خیر دلشاد کب آرہا ہے واپس؟؟"
نوریز اس کی سچویشن سے لطف لیتے ہوئے قہقہہ لگا اٹھا اور پھر اپنے جگری یار کے بارے میں پوچھنے لگا۔ جو کراچی بزنس میٹنگ کے لیے گیا ہوا تھا۔ ہالے دلشاد کی پھوپھی ذات تھی آفریدی صاحب اور ان کی بیگم کا 15سال پہلے پلین کریش میں انتقال ہوگیا تھا اور 10 سالہ ہالے اپنے ماموں اور ممانی کے ساتھ رہنے لگی جن کے خود کے دو بیٹے تھے۔ "دلشاد وہاب خانزادہ" اور اس سے چھوٹا "داہم وہاب خانزادہ" دلشاد 28 سال کا ایک خوبرو نوجوان تھا جو اپنے باپ کا بزنس سنبھال رہا تھا جبکہ داہم 21 سال کا میڈیکل سٹوڈنٹ تھا جو امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ داہم جب بھی پاکستان آتا وہاب ولا میں رونق لگا دیتا جبکہ دلشاد سنجیدہ طبیعت انسان تھا۔ ہالے اور دلشاد کی خوب دوستی تھی اس کے ہمراہ ہی نوریز سے 15 سال پہلے اس کی دوستی ہوئی البتہ داہم سے اس کی ایک پل کو نہیں بنتی تھی جو اس سے دو سال چھوٹا ہونے کے باوجود احترام تو بہت دور کی بات اس کو ٹیز کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتا تھا۔ اس کے امریکہ جانے پر شکر کا کلمہ پڑھنے والی وہاب ولا کی واحد ہستی "ہالے آفریدی " تھی۔ "کل آرہا ہے اور ساتھ ہی وہ شیکسپیئر کا دادا بھی " ہالے کو دلشاد کے آنے کی خوشی سے زیادہ داہم کے آنے کا دکھ تھا جو کل ہی ایک ہفتے کے لیے پاکستان مسز وہاب کے یاد کرنے پر آرہا تھا۔ شیکسپیئر نام دینے کی اپنی ہی ایک کہانی ہے بھئی وہ بھی آپ کو آگے چل کر پتا چل جانی ہے۔ "اوہ! بھئی کیوں ہے تمہیں اس سے کھار اتنا اچھا تو ہے بیچارہ" نوریز مصنوعی افسوس سے کہ رہا تھا کیونکہ وہ بھی اچھے سے داہم کے کارناموں سے واقف تھا اور اس کی یہ بات اس وقت ہالے کو زہر لگ رہی تھی۔ تمہیں تو اچھا ہی لگے گا نا پارٹ ٹائم محبوبہ جو ہے تمہارا، ہالے بھی سرخ چہرا لیے بولی اور آگے بڑھ کر نوریز کو سائیڈ کرتی گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی۔ "پارٹ ٹائم کیوں فی الحال تو فل ٹائم ہے لیکن تمہیں کیوں مرچیں لگ رہی ہیں جیلس ہو رہی ہو کیس؟؟"
نوریز اس کی گاڑی کو آدھا کھلا دروازہ بند کرتے ہوئے بولا وجہ ہالے کو اور تپانا تھی۔ "ہنہ۔۔۔۔جیلس اور ہالے آفریدی دونوں ناممکن بات ہیں" ایک ادا سے بال جھٹک کر شان بے نیازی سے کہا گیا۔ ہالے آفریدی خود سراپائے حسن تھی مہرون شلوار قمیض میں ایک سائیڈ ڈوپٹہ لیے کالے بال جو کمر تک آتے تھے، سفید سرخ رنگت، بڑی بڑی کالی آنکھیں حسین نین نقش لیے ایک مکمل حسین لڑکی تھی جو بنا میک اپ کے بھی کسی حور سے کم نہ تھی۔ "مان لو جیلس یو میں اپنی محبوبہ کو نہیں بتاؤ گا۔۔پکا" نوریز شرارت لیے آنکھیں جھپکا کر بولا اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔ "بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری مردانہ محبوبہ" ہالے اسے آنکھیں دیکھاتی کھینچ کر اپنی گاڑی سے دور کرتی ڈرائیونگ سیٹ سمبھالتی زن سے گاڑی وہاں سے لے گئی۔ ہالے کہاں برداشت کر سکتی تھی "داہم وہاب خانزادہ "عرف" شیکسپیئر کے دادا" ک اتنی ہمایت کوئی شک نہیں تھا وہ پاکستان میں نا ہوکر بھی ہلے کا درد سر بنا رہتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں جا رہی ہو اب" نمل اٹھتے ہوئے اپنی چادر سہی کرتی بولی۔ "اتنی بھی کیا جلدی ہے " شمس تمسخر سے کہتا روکنگ چیر پر سیدھا ہو کر بیٹھا اور شیطانیت سے اسے گھورنے لگا وہی کام جو پچھلے دو گھنٹوں سے کر رہا تھا۔ "تمہارے دو گھنٹے پورے ہو چکے ہیں اب ان غلیظ نظروں سے گھور لیا ہو تو اپنے ڈرائیور کو بولو کوٹھی چھوڑ آئے مجھے" نمل اشتعال سے بولتی پہلو بدل گئی۔ طوائف ہو کر اتنی اکڑ اچھی بات نہیں، شمس دلچسپی سے اس غصے کو دیکھتے ہوئے بولا۔ "تمہیں خدا کا خوف نہیں شمس ڈرو اللہ سے اس کی پکڑ سے" نمل بے بسی سے اس کی طرف دیکھ کر بولی۔ "ہاہایا۔۔۔طوائف کے منہ سے اللہ کا نام تم ایک چونٹی ہو"نمل برقہ " اپنے بل سے نکلو باہر ورنہ شرافت تمہیں بھوکا مارے گی " شمس مذاق اڑانے والے انداز میں کہتا نمل تک پہنچا اور اس کے چہرے کو چھونے لگا تبھی اس کا ارادہ بھانپ کر نمل فوراً پیچھے اور دیوار پر لگی پینٹنگ سے جا ٹکرائی۔ "ایک دن یہ طوائف تمھارا سر کچلے گی"شمس رفاقت "اور ایک عام لڑکی کی طرح عزت سے زندگی گزارے گی" نمل اعتماد سے کہتی وہاں رکی نہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔

0 Comments