چمچماتی گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔ اسے کون نہیں جانتا تھا یہاں بھلا، وہ شمس رفاقت کی خریدی ہوئی طوائف کے نام سے جانی جاتی تھی۔ نمل کو رفاقت صاحب بے پیدا ہوتے ہی اپنے 15 سال کے بیٹے کی طوائف قرار دے کر ظہور آبائی کے سامنے اتنی زیادہ قیمت رکھی تھی کہ وہ کبھی اب نمل کو شمس رفاقت کے علاوہ کسی کے سامنے پیش نہیں کرے گی۔ یہی تو بدلا تھا "رفاقت آنس" کا برقہ سے کہ اس کی بیٹی زندگی بھر شمس رفاقت کی خریدی ہوئی طوائف کے نام سے جانی جائے گی اور کیا خوب بدلا تھا۔ شمس رفاقت نمل کو اپنی دسترس میں لینے کے لئے بے چینی سے اس وقت کا انتظار کر رہا تھا۔
جب اس کے باپ کی دی ہوئی مہلت جو لہ برقہ(نمل کی ماں) نے منت سماجت اور اپنی عزت نفس کو بلائے طاق رکھ کر حاصل کی تھی قہ ختم ہو اور شمس رفاقت نمل کو "شمس رفاقت کی خریدی ہوئی طوائف" کے نام سے آزاد کرے "شمس رفاقت کی رکھیل" کا لقب دے۔ برقہ کی عزت نفس ہاں ایک طوائف کی عزت نفس یہی تو شاید غلطی تھی برقہ کی وہ ایک طوائف ہوتے ہوئے بھی عزت کے خواب دیکھا کرتی تھی اور اس کی خوش قسمتی تھی یا بد قسمتی جب وہ پہلی بار محفل لگانے کے لئے آئی تو اس پر ایک نظر پڑتے ہی وہاں آئے ایک شخص نے اس پر ہمیشہ کے لئے اپنے نام کی مہر لگا دی جس پر برقہ نے اس شخص سے نکاح کے ایجاب و قبول کی شرط رکھی اور اس شخص نے صرف اور صرف ایجاب و قبول ہی ہامی بھر کر برقہ کو خوش فہمی میں مبتلا کر دیا وہ ہر طرح سے برقہ کا خیال رکھتا تھا شاید اسے برقہ کے حسن سے بہت محبت تھی اور شدت پسندی بھی کہ اس نے بائی کو اتنے پیسے دیئے تھے کہ وہ کبھی برقہ کو کسی بھی محفل میں کبھی بھی پیش نہیں کرے گی اور یہ ہی تو اصول تھا کوٹھے کا کہ جب جس لڑکی کی پوری زندگی کی قیمت مل جائے تو اسے اس شخص کے علاوہ کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا۔
برقہ تو اتنے میں ہی خوش تھی لیکن جب نمل کے وجود کا اس شخص(نمل کے باپ) پر آشکار ہوا تو وہ نمل کو اس دنیا میں آئے بغیر ہی چھوڑ کر چلا گیا کیونکہ اس نے برقہ کے ایجاب و قبول کی شرط پر ایک شرط رکھی تھی کہ وہ کبھی اولاد پیدا نہیں کرے گی لیکن جب اس شخص نے بچہ ختم کرنے کی بات کی اور برقہ نا مانی وہ بے مہر شخص یہ کہ کر اسے چھوڑ گیا "تم طوائف ہو چاہے میرے علاوہ تمہیں کسی نے نہیں دیکھا نا ہو لیکن ہو تو ایک طوائف ہی میں اپنی اولاد کی طوائف کے وجود سے پیدائش ہر گز نہیں چاہتا لیکن اگر تم پھر بھی پیدا کرنا چاہتی ہو اس گند میں اس وجود کو شوق سے کرو لیکن یہ مت سوچنا میں تمہیں دنیا کے سامنے اپناؤ گا مجھے میری عزت تم سے اور اس حسن سے زیادہ عزیز ہے" وہ بے مہر شخص یہ کہتا برقہ کو ساکت کر کے ہمیشہ کے لئے چلا گیا اور پلٹ کر بھی نا دیکھا۔
جب نمل پیدا ہوئی تو اس کی ماں برقہ اس کا نام "نمل" رکھنا چاہتی تھی لیکن حسد کے مارے شخص رفاقت نے نمل کو اپنے بیٹے کے لیے خریدتے ہی اس کا نام نمل رکھا تھا اس کا تمسخر تھا طوائف زادی "نمل" نہیں "نمل" ہی ہو سکتی ہے صرف ایک چونٹی۔ رفاقت نے اس شخص کے سامنے خود کو ٹھکرائے جانے کا بدلہ لیا تھا برقہ سے۔
نمل جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔
نمل کی گاڑی کا رخ اب کوٹھی کی طرف تھا وہ کوٹھی ایک نام پر رکھی گئی طوائفوں کے لیے تھی لیکن تھی تو بدنام زمانہ جگہ جہاں کوٹھے بے شمار پر کوٹھی صرف ایک تھی۔ "نمل" وہ ایسی تھی ہاتھ لگاؤ تو میلی ہو جائے سفید گلابی رنگت، بڑی سی بھوری آنکھوں، گلاب جیسے ہونٹ، مناسب قد، آبشار جیسی زلفیں وہ خوبصورت نہیں وہ بلا کی خوبصورت تھی 19 سال کی لڑکی 35 سال کے دیو کی قید میں تھی۔ وہ وہ ایک ماں سے اپنی ماں کا نام خود سے جوڑتی تھی اور کہلائی جاتی تھی "نمل برقہ" جسے گند میں رہ کر بھی اللہ نے پاک رکھا ہوا تھا جو باقعدگی سے نماز پڑھتی قرآن کی تلاوت کرتی تھی اور دعا تھی اس کی کی اللہ اسے عزت کی زندگی سے نوازے یا پھر موت دے۔
شمس رفاقت ایک بہت بڑا جاگیر دار تھا جو اپنے باپ کی جگہ سمبھالے ہوئے تھا۔ وہ ایک با روب شخص تھا وہ کسی بھی لڑکی کو دیوانہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن ان سب صلاحیتوں کے باوجود وہ عورت کی عزت کو داغدار کرنے والوں میں سے ہی تھااس کے انتظار کو ختم ہونے میں اب بس آٹھ ماہ رہ گئے تھے اور شمس رفاقت کو آٹھ ماہ کے ختم ہونے کا بے صبری سے انتظار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے 2:00 بج رہے تھے لیکن یہاں تو ہر طرف روشنی تھی ہوتی بھی کیوں نا اس شہر کا دوسرا نام ہی "روشنیوں کا شہر" تھا۔ ہاں جی "کراچی"۔ یہ منظر تھا کراچی کے شاہراہ فیصل روڈ کا جہاں کیب اپنی منزل کی طرف روا دوا تھی اچانک دو بائیکس اس گاڑی کو اور ٹیک کر گئی اور مجبوراً ڈرائیور کو گاڑی روکنی ہی پڑی۔
"کیا ہوا؟؟" پیچھے بیٹھا شخص نا سمجھی سے ڈرائیور سے پوچھنے لگا۔ "سر جی پہلی دفعہ کراچی آئے ہو کیا؟؟" ڈرائیور بے زاری سے گردن موڑ کر اسی سے پوچھنے لگا۔
"تمہیں کیسے پتا چلا؟؟" اس شخص کی تو حیرت کی انتہا تھی شاہد "سر جی! کراچی میں رات کے اس وقت سہی سلامت گاڑی جب روکنی پڑے تو سب سمجھ جاتے ہیں کیا ہوا اور کیا ہونے والا ہے سوائے نئے آے لوگوں کے" وہ شخص گردن سیدھی کرتے ہوئے بولا۔
"کیا؟؟" وہ شخص نا سمجھی سے دوبارہ پوچھنے لگا۔ لیکن تھی بائیک سوار دو لوگوں نے شیشہ بجا کر باہر نکلنے کا کہا جد پر ڈرائیور لبیک کہتے باہر نکلا تو وہ بھی شخص ماجرہ سمجھنے کے لئے باہر آیا۔
بائیک سوار کوئی شک نہیں کہ چور تھے اور کراچی میں یہ تو عام بات تھی ہوتی بھی کیوں نا کراچی والے تو چوروں کو بھی فقیر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے تبھی تو بیچارے لوٹنے کے بعد بڑے فخر سے بتاتے ہیں بھئی ہم نے تو خیرات کی ہے اپنا صدقہ سمجھ کر دے دیا۔ اور آج ان فقیروں کے صدقے حاصل کرنے کا وقت تھا۔
"چل بے نکالوں جو کچھ بھی ہے تمھارے پاس" ایک چور پسٹل ہوا میں لہراتے ہوئے بولا۔ وہ چار چور منہ پر رومال لگائے ہوئے تھے اور چوروں ہی والے حلیے میں تھے دو بائیک پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے جبکہ ایک ڈرائیور کے آگے اور دوسرا اس شخص کے آگے تھا۔ اس روڈ پر بہت سی بائیکس اور گاڑیاں آ جا رہی تھی لیکن کوئی کیا کر سکتا تھا کوئی نا کوئی تو روز ہی لوٹتا تھا اور اب چوروں والی کھائی میں کود کر کوئی آ بیل مجھے مار والی کہانی کیوں کرنا چاہے گا بھلا۔
"بھائی لے لو" وہ ڈرائیور اپنا موبائل اور آج کی ساری کمائی سامنے کھڑے چور کے حوالے کرتا بولا۔ چور نے موبائل اور پیسے اپنی جیبوں میں ڈالتے ہوئے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا جو اشارہ سمجھتے ہی اس شخص کی طرف لپکا جو معصوم سی شکل بنائے سب دیکھ رہا تھا۔
" تجھے الگ اے بولو۔۔۔ نکال" اس چور کے بولتے ہی اس شخص نے اپنا والٹ اور موبائل اسے دے دیا۔ چور والٹ کھولتے ہی وہاں کیش نا پاکر اسے دیکھنے لگا اور پھر بولا "کیش دے"
"میرے پاس تو صرف کارڑز ہی ہے آپ کسی کیش کاؤنٹر پر جا کر نکلوالے" اطمینان سے سمجھایا گیا۔
"ابے او ہے کون تو؟" وہ چور تو اس کی بات سن کر دنگ رہ گیا۔
"داہم وہاب خانزادہ" فخر سے بتایا گیا۔ لمبا قد، سفید رنگت، دلفریب نقوش، آنکھوں میں دلکشی اور چہرے پر بلا کی معصومیت لیے، بلیک جینز اور گرے ٹی شرٹ میں وہ واقعی فخر کے قابل تھا۔
"زیادہ شانا بن رہا ہے؟؟" دوسرے چور نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا۔
"نہیں ڈاکٹر بن رہا ہوں" داہم آج شدید چوروں کو اپنا پورا بائیوڈیٹا دینے پر تلا ہوا تھا اطمینان سے بتایا گیا۔
"زیادہ بکواس نہیں یہی ٹھوک دوں گا" ایک چور طیش سے بولا "بھائی ٹھوک دو ایسی زندگی کیا کام کی جہاں عزت نہیں" داہم افسوس سے کہتا خود ہی پسٹل کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔
"ڈرامے نہیں رچا سمجھا" اب تو داہم کے سامنے کھڑے چور کا ظبط ہی ٹوٹ گیا تھا زور سے دھاڑا۔
"ڈرامے! اسے بھی یہی لگتا ہے میں ڈرامے کرتا ہوں" داہم کو ایک دفعہ پھر افسوس نے آگھیرا سر جھٹک کر بولا۔
"کسے؟؟" کب سے چپ بیٹھے چور کو اچانک تجسس ہوا۔
"ہے میرا اپنا جس کے پاس میرے لیے وقت نہیں اور میں اس کی محبت میں یہاں انجان شہر میں آگیا ہوں لوٹ بھی چکا ہو"
داہم اس سوال پوچھنے والے چور کی طرف رخ کر کے بولا۔۔
"بس کر بھائی ہوگی اس کی محبوبہ اور تونے بہن کا رشتہ دینا ہے اسے جو اتنی پوچھ گچھ کر رہا ہے" دوسرا چور عاجز آکر بولا۔
"بھائی میں اپنی امی کی مرضی کے بنا شادی نہیں کروگا" داہم کو ایک اور فکر نی آگھیرا والدین کی بنا رشتہ کی بات۔۔
"محبوبہ ماں سے پوچھ کر بنائی تھی؟؟" چور بھائی نے طنز کا تیر چلایا۔
"استغفراللہ کراچی کے معزز چور بھائیوں میں خاصا شریف بندا ہوں" داہم فوراً اپنی صفائی میں کانوں کو ہاتھ لگا کر بولا۔۔
"تو یہاں کیا شرافت کی کتاب چھپوانے آیا ہے" ایک اور چور بھائی کا طنز
"اپنے باپ کی پہلی اولاد کو سرپرائز دینے پر! اس کی وجہ سے مجھے ہی کنگال ہو کر سرپرائز مل گیا" داہم افسوس سے سر جھٹک کر معصومیت سے چوروں کی طرف رخ کرکے بولا۔
"باپ کی پہلی اولاد؟؟" چوروں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور بھی اب نا سمجھی سے داہم کی طرف دیکھ کر یک زبان چوروں کے ساتھ بول اٹھا۔
"اس کا بڑا بھائی ہوگا" ایک چور پہلے حیرت سے پھر دماغ لگا کر بولا
"بلکل۔۔ میرا بڑا بھائی" داہم کنفرم کرتے ہوئے چمکتی آنکھیں لیے بولا
"تو وہ آیا نہیں تجھے لینے؟؟" ایک اور سوال کیا گیا۔
اس کا کہنا ہے کہ (داہم پاس کھڑے چور کے کندھے پر ایک ہاتھ رکھ کر بولا جو پہلے تو اسے گھور گیا لیکن پھر بات کی طرف متوجہ ہوا)
میں "دلشاد وہاب خانزادہ" ہوں
تیرے باپ کی پہلی اولاد
لیکن تیرے باپ کا ڈرائیور نہیں
تو مجھ پر تو حکم چلانا ہی نہیں
"سگا بھائی ہے؟؟" ڈرائیور نے کسی خدشے سے پوچھا۔
"الحمدللہ" داہم برا منانے والے انداز میں ڈرائیور کی بات سن کر بولا۔
"ہمممم خیر چھوڑ دو اسے۔۔۔ بیچارہ اپنے بھائی کا ستایا ہوا ہے" ایک چور نے جانے کے نئے گانے کی ٹانگ توڑتے ہوئے بولا۔
اس کے انداز پر داہم اور ڈرائیور سمیت تمام چور بھی ہنس پڑے۔ یہاں کا منظر دیکھ کر کوئی کہ ہی نہیں سکتا یہاں کچھ دیر پہلے پسٹل دکھا کر چوری کی جا رہی تھی۔ اب منظر یوں تھا کہ چور داہم کا والٹ اور موبائل واپس کر کے اسے یہ بول کر جارہے تھے کہ اگر تیرا بھائی تجھے کچھ بھی بولے بس اس نمبر پر کال ملا دینا (جو نمبر چور بھائی نے داہم کے موبائل پر نمبر ڈائیل کر دیا تھا) بس پھر دیکھنا تیرا بھائی تیرے قدم چومیں گا۔
اب داہم ان بیچاروں کو کیا بتاتا جس کی وہ بات کر رہے ہے اسے اگر اس گوہر افشانی کی بھنک بھی پڑ گئی تو یہ خود اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہو پائے گے۔
"بھائی پیٹرول بھروانے کے لئے پیسے دے دو" ڈرائیور کو پیٹرول کی فکر لگ گئی تھی ان دریا دل چوروں کو مخاطب کر گیا۔ اور اس کی اچھی قسمت تھی شاہد جو کچھ نہیں سارے پیسے اور موبائل اسے کو واپس کر گئے۔
"کراچی کے لوگ واقعی ذرہ ہٹ کے ہیں کراچی کے تو چور بھی فراغ دل نکلے" داہم کو کراچی کے بارے میں یہی تاثر ملا تو وہ مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کار میں بیٹھ گیا۔ اور ڈرائیور نے کار دلشاد ہاؤس کے راستے پر موڑ لی جو ایڈریس داہم نے اسے دکھایا تھا۔
کراچی میں دلشاد کا خود کا محل نما بنگلہ تھا جب بھی وہ کراچی کسی بھی میٹنگ کے سلسلے میں آتا تو وہی ٹھہرتا دلشاد کو ہوٹل میں سٹے کرنا پسند نہیں تھا اور آج داہم پہلی بار دلشاد ہاؤس جا رہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

0 Comments