داہم صبح اٹھا تو دلشاد کے بارے میں ہاؤس مینیجر سے پوچھا جو دلشاد ہاؤس کی ان کی غیر موجودگی میں دیکھ بھال کرتا تھا اور اس کے بتانے پر داہم کو یقین ہو گیا تھا کہ دلشاد اس سے اپنے باپ کی اولاد میں شراکت کا بدلہ لے رہا ہے تبھی تو ایئرپورٹ پہنچنے کا ٹائم جو سے دیا اپنے سگے اکلوتے بھائی سے ملے بغیر اور بھائی بھی وہ جو آج رات ہی امریکہ سے آیا تھا۔ داہم ناشتہ کرتا اپنا بیگ سیٹ کر کے ساتھ ایئرپورٹ کے لیے نکل گیا "اس سے تو اچھا تھا سیدھا اسلام آباد ہی چلا جاتا میری اکلوتی ماں میرے صدقے اتارتی میرے لیے پسندیدہ کھانے بناتی کم سے کم ایک دن کی پوری اٹینشن تو ملتی ورنہ تو اس پہلی اولاد کے سامنے مجھے کون دیکھتا"

داہم رونے کے ہی در پہ تھا جب اچانک ڈرائیور نے ٹیشو باکس اس کے سامنے کیا تو پیچھے بیٹھا داہم اسے دیکھتے ہوئے بولا "آپ کو کیسے پتا چلا میں رونے والا ہوں" داہم کے چہرے پر بچوں جیسی مسکراہٹ چمکی۔ جس پر ڈرائیور نے باکس واپس رکھتے ہوئے کہا "دلشاد سر نے کہا تھا جب آپ ان کے بارے میں خود سے بڑبڑائے تو آپ کو ٹیشو پیش کر دوں" داہم اس کی بات پر منہ بسورتا باہر دیکھنے لگا۔


"ہننننہ۔۔۔۔ مجھ جیسے ہینڈسم ڈاکٹر بھائی کی قدر ہی نہیں"

کچھ دیر بعد گاڑی ایئرپورٹ رکی تو داہم دلشاد کی طرف دوڑنے والے انداز میں چل کر اس کے گلے لگا تو دلشاد کے ہونٹوں کو داہم کی حرکت نے مسکراہٹ میں ڈھال دیا۔ جب داہم کچھ پل گرنے کے بعد بھی الگ نا ہوا تو دلشاد کہ اٹھا 


"داہم رونا شروع نہیں کر دینا یقین مانو میں یہ بات ہالے کو ضرور بتاؤں گا"

دلشاد کی بات سن کر داہم فوراً علیحدہ ہوا اس سے اور منہ بنا کر بولا 


"گھر تو پہنچ لینے دے پھر دیکھنا کیا کرتا ہوں آپ کے ساتھ جو ظلم آپ نے مجھ پر کیا نا اس کا جواب دینا ہو گا آپ کو" 

داہم سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھ گیا جبکہ دلشاد اس کی بات سن کر قہقہہ لگا اٹھا۔


"سیریسلی! ظلم۔۔۔ مجھے بھی بتاؤ کیا ظلم کر دئے میں نے90 کی ہیروئین پر؟؟" دلشاد مزہ سے کہتا اس کی ساتھ قدم ملانے لگا۔


"آپ تو بات ہی نہیں کرے مجھ سے رات کو اکلوتے بھائی کو انجان شہر میں اکیلا اڑک پر چھوڑ دیا پتا ہے کچھ رستے میں چوروں نے گھیر لیا تھا۔ وہ تو میری اکلوتی ماں کی دعائیں کام آگئی اور میرے اللہ کا دیا حسن تھا جس کی وجہ سے میں بچ گیا ورنہ آپ نے کہا کوئی کثر چھوڑی تھی" داہم نے افسوس سے پھر فخر سے کہا۔


"تمہارا حسن؟؟" دلشاد آئبرو ریز کر کے پوچھنے لگا۔


"مجھ جیسے اتنے ہینڈسم لڑکے کو مار کر کسی نے اپنی آخرت خراب نہیں کرنی تھی" ایک فخر سے بتایا گیا۔


"مجھے افسوس ہے" دلشاد نے کہا۔۔

"اب کیا فائدہ خیر میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گا کیونکہ میں بہت فراخ دل ہوں" داہم نے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔


"مجھے افسوس ہے ان بیچارے چوروں پر۔۔ اور رہی کسی کو نا بتانے والی بات مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا ماما بابا کو پھر میں پورا سچ بتاؤں گا تم مجھے بنا انفارم کیے یہاں آئے پھر دیکھتے ہیں کس کو ڈانٹ پڑتی ہے" 

دلشاد مزہ سے کہتا گوگلز لگا کر کندھے اچکا گیا اور داہم اس بلیک میلر کو دیکھ کر پہلو بدلتا رہ گیا۔ ان کی فلائٹ اسلام آباد کے لیے پرواز کر چکی تھی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


"ڈیول کنگ ! میں نے انفارمیشن نکال لی ہے" جیک ڈیول کے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا جسے سن کر بیڈ پر کراؤن ٹیک لگائے ڈیول کی آنکھیں فوراً کھل گئی آج ان آنکھوں میں وحشت نہیں تھی بلکہ ایک چمک تھی۔۔ ڈیول نے سر کے اشارے سے جیک کو بولنے کا کہا 


"اس لڑکی کا نام آیت صدیقی ہے اس کا باپ وہی ہے جسے ہشام نے راستے سے ہٹانے کا کہا ہے یہ ہشام کے ساتھ بظاہر تو کام نہیں کرتا لیکن اس کے کالے پیسے کو سفید یہی کرواتا ہے اور اس کے پیسے دبا کر بیٹھا ہے اور اپنے لیے کچھ غنڈے رکھے ہے جو ہشام سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔


"اس کی بیٹی کے بارے میں بتاؤ" ڈیول ناگواری لیے جیک سے بولا۔

"وہ لڑکی کالج میں گریجویشن کی طلبہ ہے عمر 20 سال ہے اور بہت نڈر ہے" جیک اس سے زیادہ اور کیا بتاتا ڈیول کو کہ اس کے لڑکوں کے ساتھ 'موقعالات' کے بھی قصے سن کر آیا ہے۔ اور ایک یہ بات کے آیت کے ساتھ اسکی دوست عائشہ جاوید کی بھی پوری انفارمیشن لے کر آیا ہے اور وہ کس لیے یہ تو جیک خود بھی نہیں جانتا تھا۔


"اوکے۔۔۔ شام کو پارٹی میں جانا ہے مجھے تب تک ڈسٹرب نہیں کرنا" جیک اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا لیکن پیچھے ڈیول کی زبان "آیت صدیقی" کے نام کو بار بار ادا کر رہی تھی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نمل کوٹھی میں داخل ہوتی اپنے کمرے میں جا کر خود کو بند کرتی دروازے کے ساتھ ہی لگی نیچے کو بیٹھتی چلی گئی اور کب گرم سیال آنکھوں کو پار کرتے گالوں کو بھگونے لگے اسے پتا ہی نہیں چلا کب دوپہر سے شام ہو گئی ہوش تو تب آیا جب ازان کی آواز اس کے کان میں داخل ہوئی۔ نمل خود کو سمبھالتی وضو کر کے آج پھر اپنے "رب عظیم" کے سامنے کندھے جھکائے گیلا آنسو سے تر چہرہ لیے اپنی عزت کی حفاظت کی دعائیں کرنے لگی۔


"اے میرے اللہ۔۔ میں تیری بہت کمزور بندی ہوں مجھے معاف کر میری خطاؤں کے لیے۔۔۔

مجھے سر خروع کر دے دینا اور آخرت میں۔۔ میری عزت کو پامال نہیں ہونے دینا میرے اللہ بے شک تو ہی بہترین محافظ ہے۔۔۔

میرا کوئی نہیں تیرے سوا۔۔۔ میری مدد کر میرے اللہ کوئی وسیلہ بنا بنا دے مجھے اس بدنام زمانہ جگہ سے نکال دے" 


نمل اللہ کے سامنے گڑگڑا کر دعائیں مانگتی اور انہیں پورا ہونے کی ہی امید لیے ہی تو جی رہی تھی۔ اچانک دروازہ بجا تو جائے نماز سمبھالتی اٹھی دروازہ کھولا تو ایک ادھیڑ عمر عورت جو سبز رنگ کی شوخ سی ساڑھی پہنے نگینوں سے خود کو سجائے بھرپور میک اپ کے ساتھ نمل کے کمرے کا جائزہ لینے لگی شاید جاننا چاہتی تھی کہ نمل کیا کر رہی تھی جب نظر جائے نماز پر پڑی تو مسکرا گئی


"نمل بی بی طوائف زادی ہو تم حقیقت تسلیم کرو یہ عبادتیں ہم جیسوں کے لیے نہیں" 

ظہورا بائی نمل کی طرف دیکھ کر بولی


"میں تم جیسی نہیں ہوں۔۔۔ ایک دن میں اس قید سے رہا ہونگی اور تم دیکھو گی کہ ایک دنیا مجھے عزت کی نگاہوں سے دیکھے گی" 

نمل ظہورا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔ کیا یقین تھا اس کا کیا ماں تھا خدا پر۔


"ہاہاہاہا ۔۔۔۔ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھو یہی کرسکتی ہو تم" ظہورا بائی یہ کہتے کمرے سے باہر بکل گئی اور نمل پھر اپنی سوچوں میں گم ہو گئی۔ کیا لکھا تھا اس طوائف زادی کے نصیب میں 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


"کیا کر رہی ہو بھئی" 

نوریز آج دلشاد کے آنے کا سن کر وہاب ولا آیا تا آنٹی سے پتا چلا ہالے کچن میں ہے تو اس نے کچن میں آتے ہالے سے سوال کیا جبکہ اس کی آواز پر ہالے نے اس کی جانب دیکھا جو آج بلیو جینز اور بلیو ہی ٹی شرٹ میں سبز آنکھوں میں چمک لیے ہمیشہ کی طرح رف حلیے میں قیامت ڈھا رہی تھی۔ 

نوریز کا گھر بھی وہاب ولا کے قریب ہی تھا اور وہاب ولا میں اس کا آنا عام بات تھی وہاب صاحب اور ان کی مسز نوریز سے بھی دلشاد اور داہم کی طرح باپ کا بزنس سنبھال رہا تھا لیکن نوریز کو کاشان صاحب کے ساتھ ساتھ احان صاحب(نوریز کے چاچا) کا بھی سپورٹ تھا اس لیے وہ کبھی کبھی اپنا سنگنگ کا شوق بھی پورا کر لیتا تھا۔ 


احان صاحب کی اہلیہ اور دو بچوں کا انتقال کار ایکسیڈنٹ میں کافی سال پہلے ہی ہو چکا تھا اور اس حادثے کے بعد انہوں نے خود کو بزنس میں مصروف کر لیا تھا۔۔۔


"دلشاد آرہا ہے نا تو اسکے لیے پوٹنگ بنا رہی ہوں" ہالے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو نوریز کچن میں موجود ڈائیننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔


"اگر داہم بھی کل کے بجائے آج ہی آ جاتا تو وہ بھی تمہارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی ڈیش انجوائے کر پاتا" نوریز کو پتا تھا آج صرف دلشاد ہی نہیں آنے والا تھا تبھی وہ ہالے کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا شاید اس لیے بولا۔۔۔۔


"انجوائے! نہیں بلکل نہیں شام کو بیمار ہو کر کہتا ناکام شیف نے ناقابل قبول کھانا کھلا کر میرے معدے کو کسی قابل نا چھوڑا اور ملک کے قیمتی اثاثے کو ختم کرنے کی کوشش کی وہ تو میری اکلوتی ماں کی دعائیں اور میرے اللہ کا دیا حسن تھا جس کی وجہ سے بچ گیا" 

ہالے پوری داہم کی نقل اتارتے ہوئے بولی تو نوریز کو ہنسی روکنا مشکل ہوگیا۔


"یار ہالے اگر آگیا تو؟؟" نوریز نے مشکل سے ہنسی روکتے ہوئے ہالے کو کچھ دیر بعد کے مستقبل سے آگاہ کرنا چاہا۔


"یہ تم بار بار داہم کے آج آنے کی بات کیوں کر رہے ہو؟؟" 

ہالے ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر جانچتی نظروں سے نوریز کی طرف پلٹی تو نوریز اطمینان سے پانی گلاس میں ڈال کر منہ سے لگا گیا اور بولا 

"ویسے ہی میری گٹ فیلنگز کہ رہی ہے کہ وہ آج ضرور آے گا" نوریز گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کندھے اچکا کر بولا۔


"ہنہ ۔۔۔ ایسے تم کرن ارجن کی ماں ۔۔۔۔ میرے کرن ارجن آئے گے۔۔۔" 

"اور اس ڈائیلاگ کے بعد کرن ارجن آ بھی جاتے ہیں" نوریز اب قدر اطمینان سے بولا تو ہالے کو خطرے کی گھنٹیاں بجتی سنائی دی۔ ہالے نوریز کی طرف قدم بڑھا رہی تھی کہ سچ پتا کر سکے کہ وہ بلا آج آئے گی یا نہیں لیکن اس کا ارادہ بھانپتے نوریز کسی کال کے بہانے سے اٹھ کر کچن سے باہر بکل گیا اور پیچھے ہالے پیر پٹختی رہ گئی 

"یا اللہ آج اس بلا کو ٹال دینا آج کا دن خراب نا ہونے دینا پلیز۔۔ کل سے پکا اس بلا کو جھیلنے کے لیے خود کو تیار رکھو گی" ہالے دعا کرتی اپنے کام میں مگن ہو گئی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔