کیب بڑے سے خوبصورت بنگلے کے سامنے رکی تو ایک گارڈ آلرٹ ہوتا کیب کی طرف بڑھا۔ داہم باہر نکلا اور گارڈ کی طرف رخ کیا

جس نے سلام کیا اور داہم کا لیگج نکالنے لگا۔ داہم ڈرائیور سے مخاطب ہوا


"کراچی شہر کا استقبال ہمیشہ یاد رہے گا برو۔۔ اللہ حافظ" داہم ڈرائیور کو کہتا گارڈ کو پیمنٹ کرنے کا اشارہ کرتا دلشاد ہاؤس کے اندر بڑھ گیا تو گارڈ لیگج سمبھالتا داہم کی طرف جلدی قدم بڑھانے لگا۔


سر! دلشاد سر بزنس پارٹی میں گئے ہے سر کو دیر ہو جائے گی آپ کے لیے پیغام دیا ہے کہ آپ کھانا کھا کر آرام کرے گے" گارڈ کی بات سن کر داہم اثبات میں سر ہلاتا کھانے کا بول کر اپنا کمرہ پوچھتا اس سمت چل پڑا اور بڑ بڑانے لگا۔۔


"اللہ ایسا بھائی دیا ہے جسے اتنے ہینڈسم ڈاکٹر بھائی کی قدر نہیں" داہم تو بیچارہ وہاب ولا میں سرپرائز دینے کے لئے کراچی آیا تھا کہ کل شام دونوں بھائی مل کر وہاب ولا جائے گے تو سب کے لیے گرینڈ سرپرائز ہوگا اور داہم پلان ماسٹر خود ہی بنا کسی کو بتائے کراچی آپہنچا اور پھر دلشاد کو جب کال کر کے خود کو پک کرنے کا بولا تو دلشاد نے کال پر ہی اچھی طبیعت صاف کی تھی بیچارے کی لیکن ہاں ایک اچھا بھائی ہونے کے ناطے ایڈریس سینڈ کر دیا تھا جس پر داہم نے شکر کا کلمہ پڑھا بھئی داہم کو تو خدشہ تھا کہ کہی وہ اسے یہاں سڑک پر ہی نا چھوڑ دے دلشاد تو تھا بھی ایسا سنجیدہ طبیعت کاا مالک اسے کہا یہ حرکتیں اب اچھی لگتی تھی وہ تو ماضی تھا جب دلشاد وہاب خانزادہ غیر سنجیدہ ہوا کرتا تھا۔ داہم اپنی سوچ جھٹک کر کمرے میں چلا گیا۔


               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ منظر تھا کراچی کی لگ بھگ صبح کا جہاں ایک لڑکی کب سے سڑک کراس کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شاید وہ پہلی دفعہ ہی یہ عمل کر رہی تھی۔ ٹریفک کم دیکھ۔ کر آگے بڑھی تبھی پیچھے سے آتی چمچماتی کار کے ایک دم سے سامنے آنے پر خوف سے آنکھیں بند کر لی اور ہاتھوں میں منہ چھپاگئ اور کار میں بیٹھا شخص اگر بروقت بریک نا لگاتا تو آج اس کی گاڑی سے نا چاہتے ہوئے بھی خون ہو جاتا وہ شخص ماتھے پر بل لیے کار سے باہر نکلا اور سامنے کھڑی لڑکی کو کچھ سخت کہنے ہی والا تھا لیکن جیسے ہی نظر سامنے کھڑی لڑکی کے خوف سے منہ چھپانے اور پھر ہاتھ چہرے سے ہٹانے پر پڑی تو وہ اپنی جگہ پر ایک پل کے لیے منجمد ہوگیا۔ لمبے بھورے بال، بے حد خوبصورت نین نقش، کالی بڑی سی آنکھیں اور سادہ سے پنک لان کی فراک پاجامے اور گلے میں لہراتے ڈوپٹے میں وہ لڑکی بے شک بے حد حسین لگ رہی تھی۔ اور وہاں وہ لڑکی خود کو محفوظ محسوس کر کے اپنے زندہ ہونے کا یقین کر تے ہوئے شکر ادا کرنے میں مگن تھی پھر اس کار خیال آتے جو اسے اڑانے والی تھی غصے کے عالم میں کار کی طرف دیکھنے لگی تو پھر نظریں ہی ہٹانا بھول گئی بلیک تھری پیس سوٹ میں، کالے بال جو جیل سے سیٹ تھے، پٹھانوں جیسی رنگت لیے سامنے کھڑا مغرور نین نقش کا مالک شخص اسے اپنے دل میں اترتا محسوس ہوا وہ بے شک بہت عمدہ پرسنیلٹی رکھتا تھا، اس کی شخصیت دیکھ کر لڑکیاں اسے ایک جھلک میں اپنا دل دے بیٹھتی تھی۔


اور لڑکیوں کا ماننا تھا "He is the one and no one like him" اور "دلشاد وہاب خانزادہ" جیسا شخص اور کوئی ہو بھی کہا سکتا تھا اس کا رعب اس کا سٹائل، وہ 28 سال کا امرد تھا لیکن بزنس ایسے کرتا تھا بڑے سے بڑے بزنس مین اس کے گرویدہ تھے۔ عنایہ تو اس شخص کو دیکھتی ہی رہ گئ۔ لیکن جب دلشاد اپنے اس منجمد ہونے والے ایک پل کو ختم کرتا ماتھے پر بل ڈال کر اسے گھورتی ہوئی لڑکی سے بولا "what" تو عنایہ بھی ہوش کی دنیا میں لوٹتی پھر خود کو کمپوز کر کے دلشاد کو غصے سے دیکھنے لگی (مانا کہ ڈیشنگ بندہ ہے لیکن جان تو جان ہوتی ہے بھئی اگر خود ہی مر جاتی تو اس بلا کو کیسے گھورتی) 


"تم پاگل، جاہل آدمی منہ اٹھا کر کار میں بیٹھ جاتے ہو چاہے چلانی کھک نہ آئے" عنایہ تو جیسے غصے سے پھٹ پڑی اور اپنی بے دھیانی سے سڑک کراس کرنے والی غلطی کیوں مانتی بھلا۔ ہنہ۔۔۔ وہ پاکستانی لڑکی ہی کیا جو اپنی غلطی مان لے اور اوپر سے اگر کراچی کی ہو تو کوئی ذرہ منوا کر ہی دیکھا لے۔۔۔

"تم بدماغ عورت منہ سر پر رکھ کر بھی اندھی ہو کر چلتی ہو"

دلشاد کہا کسی کی ایسی گوہر افشائی سن سکتا تھا اور اوپر سے یہ لڑکی ایکسکیوز کرنے کے بجائے اسے ہی سلواتے سنا رہی تھی


"عورت کس کو بولا اندھے آدمی" 

عنایہ تو اپنے لیے عورت لفظ سن کر ہی بے صدمے سے چیخ پڑی تو دلشاد اس پاگل لڑکی کی کمزوری پکڑتا اور آس پاس دیکھتا جہاں کچھ لوگ تماشا دیکھنے کی غرض سے جمع ہو رہے تھے گاڑی کی طرف قدم بڑھا گیا اور دروازہ کھول کر بولا۔

"عورت کو، کیوں تم آدمی ہو کیا؟" دلشاد طنز بھری مسکراہٹ عنایہ کی طرف اچھالتا گاڑی سٹارٹ کرتا وہاں سے نکل گیا اور عنایہ بیج و تاب کھاتی غصہ پیتی روڈ کراس کر گئی اور سامنے ہوٹل پہنچ کر کال کرکے خود کے لئے گاڑی اور ڈرائیور منگوایا جس کے لیے بیچاری نے آج روڈ کراس کرنا اور بقول عنایہ کے جاہل آدمی کے منہ لگنے والا مشکل کام سرانجام دیا تھا جس کی وجہ سے شاید عنایہ جمال حفیظ کا آدھا خون خوف سے اور آدھا خون غصے سے لگ بھگ ختم ہی ہو گیا تھا۔


عنایہ جمال صاحب کی اکلوتی منت مرادوں کی اولاد تھی عنایہ جب پیدا ہوئی تو جمال صاحب صرف ایک ملازمت پیشہ انسان تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ ترقی کی منزلوں کو چھوٹے ہوئے آج ایک مشہور بزنس مین تھے اور ان کا ماننا تھا انھیں جو کچھ بھی ملا ہے وہ عنایہ کے بخت سے ملا ہے اور ان کی اس بات کو دنیا مانتی بھی تھی کوئی شخص صرف چند سالوں میں ہی ترقی کی منزلوں کو چھو لے تو خواب ہی ہو سکتا ہے تبھی تو "عنایہ جمال حفیظ" اونچے بخت والی کہلاتی جاتی تھی۔ عنایہ کی ماں کا انتقال ہو چکا تھا اب بس عنایہ کی فیملی میں وہ اور جمال صاحب ہی تھے۔


               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"آیت یار کیا کر رہی ہو اب بس کر دو یہ گیم کھیلنا" عائشہ عاجزی سے آیت کو بولی جو یہاں جب سے آئی تھی گیم ہی کھیل رہی تھی۔


"تو کیا کروں؟؟" آیت آبرو ریز کر کے بولی۔ اسے اپنا برتھ ڈے منانا بلکل پسند نہیں تھا لیکن عائشہ کی فرمائش پر بے دلی سے یہاں آئی تھی۔


"آڈر جا کر چیک کرو آیا کیوں نہیں" عائشہ اسے حکم دیتی سیلفی لینے لگی ایسا لگ رہا تھا آج برتھڈے آیت کا نہیں عائشہ کا ہے وہ اپنے معصوم سے چہرے اور سادہ سی خوبصورتی لیے پرکشش لگ رہی تھی پیچ کلر کی ویلوٹ کی فراک میں البتہ جس کا برتھڈے تھا وہ بلیو جینز اور پیچ کلر کی ٹوپ (جو اسے عائشہ نے یہاں آنے سے پہلے گفٹ دی تھی اور بولا تھا آج سیم کلر کے پہنے گے اور آیت کو پہنی ہی پڑی) میں، کمر پر پھیلے ہوئے بال وہ اس عام حلیے میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی


"میرا برتھڈے ہے یا تمھارا جو مجھے ہی کیک لانے کو بول رہی ہو؟؟" آیت موبائل سائیڈ پر رکھتی اس سے پوچھنے لگی۔


"افکورس یار تمھارا۔۔ میں یہ کام بہت خوشی سے سرانجام دیتی اگر اس۔ وقت مجھے سیلفی نہ لینی ہوتی" عائشہ بے نیازی سے کہتی سیلفی لینے لگی تو آیت کو ہی اٹھ کر جانا پڑا۔


آیت کیک جلدی لانے کا کہتی پلٹی ہی تھی اس کا تصادم بری طرح کسی شخص سے ہوا اگر بروقت وہ آدمی نا تھامتا آیت کو تو یقیناً زمین بوس ہو جاتی سر میں اٹھتی ٹھیسوں کے ساتھ آیت نے سر اٹھا کر جب سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو اپنی نیلی پراسرار آنکھوں سے آیت کے خوبصورت چہرے کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا آیت کو وہ شخص بہت ہی پسند آیا لیکن آیت کو جس نظروں سے دیکھ رہا تھا آیت نے تیش کے عالم اس آدمی کا ہاتھ جھٹکا جو کہ آیت کے لیے آسان کام نہیں تھا۔


"اپنی کوئی بہن نظر آ رہی ہے مجھ میں جو اس طرح گھور رہے ہو" آیت طیش سے کہتی ایک سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی لیکن سامنے والے نے ہاتھ آگے بڑھا کر آیت کا رستہ روک دیا۔


"بہن تو نہیں لیکن ہونے والی محبوبہ نظر آرہی ہے" ایک سائیڈ کی مسکراہٹ لیے تھری پیس سوٹ میں وہ شخص بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔


"تم اسٹائلش لفنگے! ایک ہاتھ توڑ کر دوسرے میں تھما دو گی زیادہ بکواس کی تو" آیت انگلی ہوا میں لہراتی بولی۔ جبکہ اس کی یہ بات سن کر جیک کو تا ہنسی آگئی جسے اس نے دوسری طرف منہ کرکے بڑی مشکل سے روکا کیوں کہ آگر ڈیول کینگ دیکھ لیتا تو کوئی بعید نہیں ڈیول اسے شوٹ کر دیتا۔


"اسٹائلش لفنگا! انٹرسٹنگ" ڈیول داد دینے والے انداز میں بولا۔ اتنے میں ہی عائشہ وہاں پہنچی کہ کیک اور آیت دونوں ہی کہا رہ گئے لیکن جب وہاں پہنچی تو سچویشن سمجھ گئی کیونکہ آیت جیسی دوست کے ہوتے اسے عادت ہو گئی تھی لیکن اسے جیک کو ہنستے دیکھ کر اسے یہی لگا کہ وہ آیت پر ہنس رہا ہے تو عائشہ غصے سے اس کے سامنے آئی۔


"پہلی دفعہ برش کیا ہے جو دانتوں کی نمائش کر رہے ہو" عائشہ کے بولنے پر جہاں جیک گڑبڑا کر ناگواری سے اسے دیکھنے لگا وہی ڈیول اور آیت بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ڈیول کے کچھ بوڈی گارڈ جو اس کے اور جیک کے ساتھ ہی ریسٹورنٹ آئے تھے سارہ منظر حیرت سے دیکھ رہے تھے ڈیول جس کے سامنے لوگ لفظ گن کر بولتے تھے ایک لڑکی کی الٹی باتیں سن رہا تھا اور جیک جو ہمیشہ خطرے کو بھانپتے ہوئے آلرٹ رہتا تھا عائشہ کے اچانک زبانی حملے پر گڑبڑا گیا تھا۔


"میرے دانت ہیں نمائش کروں یا کرائے پر دوں محترمہ آپ کو کیا تکلیف؟" جیک بھی اپنی بے عزتی کہاں برداشت کرنے والا تھا تن کر بولا


"شرم تو نہیں آتی بیچاری اکیلی لڑکی کی مدد کرنے کے بجائے اس پر ہنس رہے ہیں " عائشہ کو اچانک افسوس ہوا۔


"بیچار؟؟" ڈیول تو آیت کے لئے اس لفظ کو سنتے ہی ایک آئبرو ریز کر کے اس کا جائزہ لینے لگا کہ وہ کس اینگل سے بیچاری لگ رہی ہے اس کا مطلب سمجھتے ہوئے آیت بے عائشہ کو گھور کر دیکھا جس عائشہ بنا تاب لیے جیک کی ہی طرف متوجہ رہی۔


"آیت چلو یہاں سے ساری برتھڈے کا موڈ خراب کر دیا" عائشہ آیت سے بولتی اسے ساتھ لئے اپنے ٹیبل کی طرف چل پڑی اور پیچھے جیک اس کی اس قدر بہادری پر سر سے پاؤں تک سلگ گیا کہ ایک تو بدتمیزی کی اور اوپر سے بنا ایکسکیوز کیے چلی بھی گئی۔ ڈیول جیک کے قریب آتا اسے آیت کی بارے میں انفارمیشن نکالنے کا کہتا اس کام کی طرف متوجہ کرتا جس کے لیے وہ یہاں آئے تھے آگے بڑھا تو جیک بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔


               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

       

                                                 جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔