دلشاد اور داہم کی گاڑی جیسے ہی وہاب ولا میں داخل ہوئی تو نوریز اور مسز وہاب گارڈن میں موجود تھے گاڑی کو آتے دیکھ کر مسز وہاب کے چہرے پر بے پناہ خوشی چمکنے لگی انھیں اور وہاب صاحب، ہالے کو نہیں معلوم تھا کہ داہم کل کے بجائے آج ہی آجائے گا۔ مسز وہاب اپنے قدم پورچ کی سمت بڑھانے لگی تو وہاب صاحب جو ضروری کال کرنے کے لیے ولا میں گئے تھے اپنی بیوی اور ان کے پیچھے چلتے نوریز کی سمت کا تعین کرتے ہوئے پورچ میں رکی گاڑی کو دیکھا تو سمجھ گئے ان کا "شارپ بزنس مین بیٹا" اچکا ہے لہذا وہ بھی ہر دل عزیز بیٹے کی جانب رخ کر گئے۔ سامنے ہی ایک سائیڈ سے دلشاد اور جب دوسری سائیڈ کا دروازہ کھلتے اور داہم کو باہر نکلتے دیکھا تو وہاب صاحب اور زریش بیگم سرپرائزڈ تھے۔


وہی نوریز کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کیونکہ اسے دلشاد نے داہم کے سرپرائز کے حوالے سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تجا۔ اور ولا کے اندرونی دروازے سے باہر نکلتی ہالے کو تو شاکڈ لگا اور وہ بھی 440 والٹ کا۔ ہالے خود کو کمپوز کرتی بے دلی سے اس سمت آئی جہاں زریش بیگم اپنے داہم پر صدقہ واری جارہی تھی اور دلشاد وہاب صاحب کے بغلگیر ہو رہا تھا۔ ہالے نے آتے ہی نوریز کو گھوری سے نوازنہ اولین فرض سمجھا۔ 



جب دلشاد وہاب صاحب سے ملتا نوریز کی طرف پلٹا تو ہالے کو نوریز کو گھورتے پا کر سمجھ گیا تبھی بولا "میں نے منع کیا تھا" اس قدر آہستہ آواز تھی کہ نوریز اور ہالے کے علاوہ کوئی سن ہی نہیں سکا جبکہ ہالے مسکراتی ہوئی دلشاد کو دیکھ کر اس سے حال احوال پوچھنے لگی تو دلشاد نوریز سے بغلگیر ہوتا اسے جواب دینے لگا۔


"ہم بھی ایک عدد حسین سے کزن محترم ہے تمہارے" داہم ہالے کو دلشاد سے بات کرتے دیکھ کر بولا اور نوریز پر ٹوٹ پڑنے والے انداز میں گلے لگا۔ جس پر دلشاد نفی میں سر ہلا گیا اور وہاب صاحب اور زریش بیگم مسکرانے لگے اور ہالے تو اس کی بات سن کر منہ بنا کر بولی۔


"حسین کزن تو نہیں البتہ کسی کی حسین مردانہ محبوبہ ضرور لگ رہے ہو" ہالے کا اشارہ داہم اور نوریز کو ابھی تک گلے لگے رہنے کی طرف تھا۔ وہاب صاحب اور زریش بیگم کو یہی نوک جھوک سے تو اپنا گھر آباد لگتا تھا ورنہ دلشاد تو بہت کم ان سب میں شامل ہوتا تھا۔


"جلنے والوں نے مانا تو سہی میں حسین ہوں" داہم نوریز کے سیدھے گال پر زبردستی کس کرتے ہوئے بولا۔ اس کی حرکت پر دلشاد سمیت نوریز اور وہاب صاحب قہقہہ لگا اٹھے جبکہ زریش بیگم نے اس کے سر پر چت رسید کی اور کھانے کا انتظام دیکھنے کے لئے ولا جانے لگی تو وہاب صاحب بھی ان کی پیروی کرتے ان کے ساتھ چلے گئے۔


تو ہالے نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ اب وہ اینٹ کا جواب داہم کو پتھر سے دے سکتی تھی۔ ہالے پھر بھی اپنے ماموں ممانی کے سامنے داہم کا کچھ لحاظ کر لیا کرتی تھی لیکن داہم کی ڈکشنری میں ہالے آفریدی کے لیے لحاظ نام کا کوئی لفظ نہیں تھا۔ خدا جانے داہم کو اسے چھیڑنے میں کیا انعام ملتا تھا۔ 


"بلکل اتنے حسین لگ رہے ہو کہ میرا دل شدت سے تمہارے لیے گا رہا ہے" ہالے مسکراہٹ سجائے آنکھوں میں شرارت لیے جبکہ دلشاد اور نوریز مسکراہٹ دبا کر گانا سننے کے لیے بے تاب تھے۔ ہالے آفریدی اپنے دشمن عزیز "داہم وہاب خانزادہ" کے لیے معمولی گانا تو گانے سے رہی اب۔ 


"کون سا گانا گا رہی ہے؟" داہم اپنی شان کے مطابق گانا سننے کو بے تاب ہوا۔


"تم حسن پری تم جان جہاں۔۔۔۔

تم سب سے حسین تم سب سے جواں۔۔۔"


ہالے سُر سے گانا گاتی داہم کی شان کو زنان میں ملاتی داہم کو آگ لگاتی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی جبکہ دلشاد اور نوریز کا ہنس ہنس کر بڑا حال تھا۔ داہم تن فن کرتا دونوں کا گھور کر ولا کے اندر چل پڑا تو اس کی عقیدت میں نوریز اور دلشاد نے بھی اپنی ہنسی دبا کر اندر کا رخ کیا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اسلام آباد میں ہر طرف اندھیرا تھا رات کا نا جانے کون سا پہر تھا اس وقت ایک سیون سٹار ہوٹل کے سامنے چمچماتی گاڑیاں زار و قطار رکی اور ایک گارڈ نے نیچے اتر کر دروازہ کھولا تو ڈیول کنگ اپنی پوری وجاہت کے ساتھ اترا اور اندر کی طرف قدم بڑھا گیا ہوٹل کے اندر کا منظر وہاں آئے مافیا لوگوں کے ہی شان کا تھا چمچماتا ہول جابجا شباب اور شراب بے تحاشا نفاست سے آئے مرد مہمان شاید ہی اعلان تھا ڈیول کنگ کے پاکستان آنے کا۔ 


ہشام جو کہ امریکہ میں ڈیول کے ساتھ کام کرتا تھا اب دو سال سے پاکستان تھا اپنا مافیا سیٹ اپ جمانے جو کہ ڈیول کے بنا ممکن نہیں تھا آج ہشام نے ڈیول کنگ کے لئے پارٹی رکھی تھی اس کی دو وجوہات تھی پاکستان کی مافیا میں قدم رکھنا اور دوسری وجہ ڈیول کی سالگرہ۔ وہاں کیک نہیں تھا وہ شارپ شوٹر ہاتھ میں کیک نائف پکڑنے سے تو رہا وہاں مافیا کے حساب سے ہی جشن منایا جا رہا تھا۔ 


ڈیول کو دیکھتے ہی ہشام ڈیول کنگ کی طرف بڑھا ڈیول کنگ اپنے قدموں کی چاپ اور اپنی بے پناہ وجاہت سے کسی سلطنت کا بادشاہ لگتا تھا اور وہاں کے مافیا کے کچھ لوگ جو مجبوری سے ڈیول سے ہاتھ ملانے آئے تھے کیونکہ جنگل میں رہ کر شیر سے بیر نہیں رکھنا چاہتے تھے اور ڈیول کی امریکہ میں دہشت کون نہیں جانتا تھا اور پاکستان میں ڈیول کے خاص ہشام کی وحشت سے وہاں سب جان گئے تھے کہ جب آدمی اتنا خطرناک ہے تو مالک کیسا ہو گا۔


"بے رحم شوٹر" ڈیول ہشام سے ملتا وہاں رکھے مہنگے کاوچ پر اپنی پوری شان سے بیٹھ گیا وہ جگہ تھی سربراہ کی اور مافیا سربراہ ڈیول کنگ کے علاوہ اور کون ہو سکتا تھا۔


اتنے میں ہر طرف اندھیرا ہو گیا اور ایک لڑکی اور ڈیول کنگ پر سپوٹ لائٹ پڑی اور میوزک پلے ہوا تو وہ لڑکی اپنے کام میں مگن ہو گئی اور گانے کے لرکس پر سٹیپ کرنے لگی۔ ڈیول کو عورت ذات کا یوں ساز و سامان بنے سے نفرت تھی۔ جسے بہت ہی ناگواری سے ڈیول ایک پل کے لئے دیکھ کر اپنا رخ دوسری طرف کر گیا جب وہ لڑکی سٹیپ کرتی ڈیول کے قریب آتی اس کے بازو پر ہاتھ پھیرنے لگی تو ڈیول نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر سامنے کرتے ایک زور دار تھپڑ رسید کردیا جس سے وہ لڑکی زمین پر جا گری۔


اور پورے ہال میں سناٹا چھا گیا جہاں کچھ لوگ ڈیول کی اس حرکت کی وجہ نا جان پائے وہی سائیڈ کھڑا جیک ہشام کو مسکرا کر لگا کیونکہ جیک، ہشام اور پورا امریکہ جانتا تھا کہ ڈیول نا لڑکیوں کو لے کر کوئی غلط کام کرتا ہے اور کوئی کرے تو اسے اپنی گولی سے نوازے میں دیر ہر گز نہیں کرتا۔ اسے یہ لڑکیوں کو پیش کرنا پسند نہیں تو ہشام نے یہ کیسے ہونے دیا اور ہشام نے اپنے آدمی جسے پارٹی کی ذمہ داری دی تھی خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے اسے یہ پھیلاوا سمیٹنے کا کہا جسے وہ جلدی سمیٹ گیا اور ہشام نے آگے بڑھ کر ڈیول سے معذرت کی۔


جس کا جواب آنکھوں میں خون لئے ڈیول نے یہ کہہ کر دیا "دوبارہ ایسا ہوا تو تم اور تمہارے کتوں کی بوٹیاں نوچ لونگا" ہشام شرمندہ ہو کر اثبات میں سر ہلا گیا اور کیا کر سکتا تھا۔ پارٹی میں مافیا کے کچھ لوگوں سے ڈیل کی گئی تو ڈیول نے ہشام سے صدیقی صاحب کی بیٹی "آیت صدیقی" کو کڈنیپ کرنے کا کہا جس پر ہشام اور جیک اس کی طرف دیکھنے لگے بھلا اتنے سے کام کے لیے ڈیول صدیقی کی بیٹی کو کڈنیپ کرنے کا کیوں کہہ رہا تھا ور حیرت یہ کہ کسی لڑکی کو کیونکہ انہیں یاد ہی نہیں پڑتا کہ ڈیول نے کسی کام کے لیے کبھی عورت کو مہرا بنایا ہو تو آج ایسا کیا ہوا۔


جبکہ سامنے بیٹھے ڈیول کی نیلی آنکھوں میں کچھ دیر پہلے والا لہو غائب ہو کر اسکی جگہ چمک نے لے لی تھی۔ ان کی نظروں اور حیرانی کو سمجھتا ڈیول آگے کو ہوا اور مسکراہٹ لیے کہنے لگا

"صدیقی کی بیٹی کو اٹھوا لو آج میری سالگرہ کو اس کی پیشی ہی مکمل کرے گی "آیت صدیقی" میری سالگرہ کا حسین لمحہ ہو گی" 


ڈیول یہ کہتا وہاں سے جانے کے لیے اٹھا تو پارٹی وہی ختم ہو گئی ڈیول اس لڑکی کے ساتھ کیا کرنے والا تھا اب یہ بات جیک اور ہشام دونوں کو ہی پریشان کر رہی تھی ان دونوں نے بھی آج تک عورت ذات کی کبھی تذلیل نہیں کی تھی تو ایک لڑکی کو اٹھوانا "جو ہو گا دیکھا جائے گا" جیک ہشام کی پریشانی سمجھتا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ڈیول کے پیچھے چل پڑا کیونکہ جیک کو کچھ حد تک اندازہ ضرور تھا کہ کل کیا ہونا ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


"آپ راحیل کو بالے اتنی کیا جلدی ہے اچانک سے نکاح" عنایہ ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے جمال صاحب سے مخاطب ہوئی۔ عنایہ اور راحیل کی منگنی کو دو ماہ ہوئے تھے۔ راحیل جمال صاحب کے بزنس پارٹنر سلطان ملک کا بیٹا تھا اور جمال صاحب کو عنایہ کے لیے راحیل کا پروپوزل ہر طرح سے سہی لگا تو انہوں نے پرانی رنجش کو بھلا کر عنایہ کا ہاتھ راحیل کے ہاتھ میں دے دیا تھا اور اب سلطان اور راحیل دونوں اس ویک اینڈ پر نکاح کرنے کا کہہ رہے تھے جبکہ عنایہ اس بات پر راضی نہیں تھی یہ بات نہیں تھی کہ عنایہ کو راحیل پسند نہیں تھا راحیل جیسے شخص کو تو ہر لڑکی چاہتی ہو گی وہ مناسب شخصیت کا مالک شخص تھا اور ویل سٹیبلائش تھا۔


لیکن ایک بات تھی عنایہ جیسی خوبصورت لڑکی راحیل کے ساتھ جچتی نہیں تھی۔ راحیل اور عنایہ ایک دوسرے کو دیکھ اور مل چکے تھے۔ 

"بیٹا ایک دن ہونا ہی ہے نکاح تو دیر اور جلدی کیا لیکن ہاں مجھے بھی اچانک نکاح میں جلدی سمجھ نہیں آئی لیکن سلطان کہہ رہا تھا وہ کافی دنوں سے یہ بات کرنا چاہتا تھا لیکن میں آؤٹ آف کنٹری تھا تو بات نہیں کرسکا"


جمال صاحب مسکراتے ہوئے عنایہ کو سمجھانے والے انداز میں بولے 

"بٹ ڈیڈ آپ اکیلے ہو جائے گے" عنایہ بھی آخر ایک بیٹی تھی اپنے باپ کے اکیلے رہ جانے کا دکھ نہ ہوتا۔ اس کی بات سنتے جمال صاحب نے شفقت اور محبت سے اس کی طرف دیکھا وہ منت مرادوں سے مانگی اکلوتی اولاد تھی ان کی جو کچھ دنوں میں رخصت ہونے والی تھی غم تو انہیں بھی بہت تھا۔


"میرا بچہ میں تو ویسے ہی زیادہ تر آؤٹ آف کنٹری ہوتا ہوں اور راحیل اور تم تو کراچی میں رہو گے اور تم جب چاہے مجھ سے مل سکتی ہو راحیل اتنا بھی بڑا نہیں جو تمہیں مجھ سے ملنے نا دے" جمال صاحب اسے اداس دیکھ کر سمجھاتے اور پھر شرارت سے آخر میں کہتے اسے گلے لگا گئے۔


"ڈیڈ۔۔۔۔۔۔" عنایہ ان کی بات سمجھ کر انہیں خفا نظروں سے دیکھنے لگی۔ جس پر جمال صاحب قہقہہ لگا اٹھے ان کا بس چلتا تو وہ کبھی بھی عنایہ کو خود سے دور نا جانے دیتے مگر انھیں اپنی بیٹی کی زندگی مکمل چاہیے تھی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔