"آیت یار بس کر دو۔۔۔ چلو پلیز لاسٹ پیپر کی خوشی میں ہی چلا دو" عائشہ جو آیت کو گول گپے کھانے کے لیے ساتھ چلنے کا کہہ رہی تھی کب سے اور ایک وہ میڈم تھی جسے گول گپے نا کھانا پسند تھے نا کسی کو کھاتے ہوئے دیکھنا بھلا کیسے چل دیتی اس کے ساتھ- اور عائشہ وہ کہا ایک دو یا چار گول گپوں پر بس کرتی تھی ہاں چار پلیٹ پر ضرور کر دیتی تھی اور آیت کو بس عائشہ کے گول گپوں سے ہی تو نفرت تھی۔ آیت جو عائشہ کی منتیں نظر انداز کر کے اپنی کار کی طرف بڑھ رہی تھی اچانک رکی اور عائشہ کی طرف پلٹی 



"آرڈر کر لو اور جتنا جی چاہے گھر بیٹھ کر کھاؤ لیکن میں نہیں جانے والی" آیت عائشہ کو سمجھانے والے انداز میں بولی تو عائشہ منہ بسور کر ناراضگی کا اعلان کرتی چپ چاپ کار میں بیٹھ گئی آیت ہی عائشہ کو کالج سے پیک اینڈ ڈراپ کرتی تھی۔ آیت نفی میں سر ہللاتی ڈرائیونگ سیٹ سمبھال گئی۔ آیت اور عائشہ کی کالج کا لاسٹ پیپر اور ڈے تھا۔


عائشہ کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی اٹھی جب آیت نے گاڑی عائشہ کے فیورٹ سٹال کے پاس روکی اور عائشہ کے لیے کار میں ہی پلیٹ منگوالی اور تنبیہ کے ساتھ صرف ایک پلیٹ پر ہی بس کرنے کا کہا تو عائشہ نے بھی اپنی جان سے زیادہ عزیز دوست کی بات مان لی۔ ابھی عائشہ کی پلیٹ میں دو گول گپے اپنے قتل کا انتظار کر ہی رہے تھے اور آیت جو کب سے باہر دیکھ کر ہی اگنور کر رہی تھی کسی کی ونڈو نازک کرنے پر شیشہ نیچے کرتی پوچھنے لگی 


"یس۔۔۔۔" تبھی سامنے تھری پیس سوٹ اور ماسک میں کھڑے آدمی نے پسٹل نکال کر آیت کے ماتھے پر رکھی اور کار کی چابی نکال کر نیچے اترنے کی طرف اشارہ کیا عائشہ بھی شیشہ ناک ہونے پر اسی طرف متوجہ تھی۔ آیت اور عائشہ زندگی میں پہلی دفعہ اس صورتحال کا سامنا کرتی حیران تھی۔ آیت نیچے اترنے لگی جب عائشہ نے اسے روکنا چاہا تو اس آدمی نے عائشہ کی طرف پسٹل کر کے اسے بھی کار سے اترنے کا اشارہ کیا۔ 


باہر آیت کی گاڑی کے پیچھے کئی بلیک کلر کی کاریں تھی اور اس آدمی جیسے جا بجا کتنے ہی آدمی منہ پر ماسک لگائے ہاتھ میں پسٹل لئے کھڑے تھے۔ آیت اس آدمی کا اشارہ کرنے پر کار کی سمت بڑھتے ہوئے عائشہ کو جانے دینے کا کہنے لگی وہ سمجھ گئی تھی وہ لوگ اسے ہی کڈنیپ کرنے آئے ہیں۔ جس پر اس آدمی کے بولنے سے پہلے ہی عائشہ آیت کا ہاتھ پکڑ کر بولی


"میں تمہارے ساتھ جاؤں گی" آیت اسے گھور کر رہ گئی اور دونوں جا کر کار میں بیٹھی ان کے بیٹھتے ہی ڈرائیور سیٹ سمبھالے جیک نے پیچھے مڑ کر پہلے آیت اور پھر عائشہ کے منہ پر رومال رکھا جس سے وہ غنودگی میں چلی گئی اور گاڑی ڈیول کے پیلس کی طرف سفر کرنے للگی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


"زیادہ دور نہیں گئی ہوگی اچھی طرح ہر طرف دیکھو" ظہورا بائی جلی پیر کی بلی کی طرح یہاں سے وہاں چکر لگاتی ہوئی بولی۔ نمل جو رات پتا نہیں کس پہر وہاں سے بھاگ نکلی تھی اور اب ظہورا بائی شمس رفاقت کے اشتعال کے ڈر کا سوچ سوچ کر اس کی جان پر بن رہی تھی۔ شمس رفاقت نے ظہورا کو نمل کا خیال اور نگرانی دونوں کا سخت لفظوں میں کہا تھا لیکن کبھی بھی نمل پر سختی کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی نمل کبھی بھی کوٹھی سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی تھی تو ظہورا بائی بھی اس بات سے غافل ہو گئی۔


شاید نمل کو یہی اعتماد حاصل کرنا تھا جس سے وہ فائدہ اٹھا کر یہاں سے آسانی سے نکل سکے اور وہ کامیاب بھی ہو گئی تھی۔


"بائی ہم نے آس پاس پورے علاقے میں دیکھا وہ کہی نہیں ہے" دروازے سے آتے غنڈوں کے ٹولے نے ظہورا بائی کو بری خبر سنائی۔ اور کچھ غنڈے جنہیں ظہورا بائی ابھی شہر جانے کا حکم دے رہی تھی ان کی بات سن کر رک گئے۔


"جائے گی کہا طوائف زادی ہے لوٹ کر تو کوٹھے پر ہی آئے گی۔ جاؤ جا کر شہر میں ڈھونڈو کبھی یہاں سے باہر تو گئی نہیں اسے کیا معلوم جگہ کا وہی کہی دھکے کھا رہی ہوگی"

ظہورا تمسخر سے کہتی سفینہ کے کمرے کی طرف چل پڑی جہاں وہ بوڑھی عورت ہاتھوں میں تسبیح لئے اللہ کے کلام کا ورد کر رہی تھی ظہورا اس کی طرف بڑھی۔


"اگر تجھے کچھ معلوم ہے تو بتا دے ورنہ اچھا نا تیرے ساتھ ہو گا نا تیری چہیتی کے ساتھ۔۔۔۔ ڈھونڈ تو لوگی میں اسے۔"


سفینہ میٹرک پاس تھی اور اپنے گاؤں کے ایک لڑکے سے محبت کر بیٹھی تھی جس نے اسے نکاح کا وعدہ کر کے یہاں لا کر بیچ دیا تھا اللہ نے ماں باپ کی عزت خاک کرنے کی سزا اسے دی تھی شاید جو پہلے کوٹھے کی زینت بنی پھر خودکشی کی کوشش کرنے پر اپاہج ہو کر کوٹھی میں رہنے لگی۔ 


جب برقہ اس دنیا سے رخصت ہوئی تو نمل کا خیال رکھنے والی سفینہ ہی تھی سفینہ نے نمل کو قرآن نماز کے ساتھ ساتھ اسکول کی تعلیم خود ہی دی تھی شاید وہ اسے دینا کی سمجھتی ہی نہیں تھی اللہ نے اسے 19 سال تک غلط جگہ پر باعزت محفوظ رکھا تھا۔ لیکن سج یہ تھا کہ نمل نے سفینہ کو بھی اس عمل سے آگاہ نہیں کیا تھا شاید ظہورا بائی کے سفینہ پر ظلم کرنے کے ڈر سے۔


"مجھے نہیں پتا ظہورا۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں میری بچی کہا ہو گی۔۔ اسے باہر کی دنیا کا کچھ نہیں پتا" سفینہ بھی فکر سے بولی جبکہ ظہورا اس کی آنکھوں میں سچ دیکھ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔ پیچھے سفینہ خوش بھی تھی کہ نمل شمس رفاقت کا شکار ہونے سے پہلے ہی یہاں سے چلی گئی لیکن اسے ڈر بھی تھا باہر کی دنیا کی درندگی کا۔


"یا اللہ اس معصوم کی حفاظت کرنا میرے اللہ اسے کسی محفوظ ہاتھوں میں پہنچا دے" سفینہ نمل کے لیے دعا کرنے لگی جبکہ ظہورا باہر شمس رفاقت کے خوف میں تھی وہ تو شکر تھا کہ شمس ایک ماہ کے لیے لاہور گیا ہوا تھا ورنہ آج ظہورا بائی کے ساتھ کچھ نا کچھ برا کر گزرتا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت کو جب ہوش آیا تو خود کو ایک کمرے میں بیڈ پر پایا۔ آہستہ آہستہ جب کچھ گھنٹوں پہلے گزرا وقت یاد آیا تو فوراً آنکھیں کھل گئی اور ایک دم سے آٹھ کر بیٹھ گئی۔ اور اپنے ساتھ کچھ غلط نا ہونے کا جائزہ لینے لگی تو اس کی حرکتیں نوٹ کرتے ہوئے سامنے بیٹھے شخص کے لبوں پر دلفریب سی مسکراہٹ آئی اور نیلی آنکھوں میں ایک چمک در آئی۔ آیت نے جب خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کی تو سامنے سر اٹھا کر دیکھا اس کے چہرے پر پڑتی سورج کی ہلکی سی شعاعیں نیلی آنکھیں اور مسکراتا چہرا اور بلیک اینڈ وائٹ ٹراؤزر ٹی شرٹ میں وہ پہلی ملاقات سے زیادہ آج آیت کو پیارا لگا۔ 


لیکن وہ اس وقت کڈنیپ تھی اور کڈنیپ کرنے والا "اسٹائلش لفنگا" تھا۔ آیت بیڈ سے نیچے اترتی تن فن کرتی اس تک پہنچی جو کاوچ پر براجمان تھا جیسے کوئی شہنشاہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے ایک ہاتھ پر اپنا چہرا ٹکائے اور دوسرا ہاتھ کوچ پر رکھے۔۔۔


"تم! تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کڈنیپ کروانے کی اور میری دوست کہا ہے؟؟" آیت ایک سانس میں ہی اس سے سوال کرتی غصے سے پھٹ پڑی۔ 


"میری ہمت تو بہت ہے اور بھی بہت کچھ کرنے کی اور رہی بات تمہاری دوست کی تو ڈونٹ وری مس غنڈی آفت وہ محفوظ جگہ پر ہے"۔ ڈیول کھڑا ہوتا اس کی طرف رخ کرتا سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے بولا۔ 


"مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟؟" ایک اور سوال پوچھا گیا۔ 

"اپنی برتھڈے کو سپیشل بنانے کے لئے" اطمینان سے جواب دیا گیا۔

"تمہاری برتھڈے؟ میں تمہاری کوئی محبوبہ نہیں ہوں" آیت غصے سے بولی۔


"ہونے والی بیوی تو ہو" ڈیول اس کے غصے کو نظر انداز کرتا بولا۔ تو آیت کو اس کی بات پر تیش آیا اور اسے پنچ مارنے لگی جسے بڑی مہارت سے روکتے ہوئے ڈیول نے اس کا ہاتھ اس کی کمر سے پن کر دیا۔


"بیوی! بیوی تو نہیں تمہاری قاتلہ ضرور بنو گی" آیت خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔ تو اس کی بات پر ڈیول کا قہقہہ کمرے میں گونجا۔


"تمہارے قتل کرنے کا انتظار رہے گا ڈیئر غنڈی آفت" ڈیول شرارت سے کہتا اسے آزاد کرتا کمرے سے باہر نکل گیا اور آیت اپنا ہاتھ مسلتی دروازے کی طرف لپکی لیکن دروازہ لاک پا کر واپس بیڈ پر آکر بیٹھی اور یہاں سے نکلنے کا سوچنے لگی اور عائشہ کو بھی تو ڈھونڈنا تھا اسے۔ جبکہ دوسری طرف ڈیول جیک کے پاس پہنچا جو شرمندہ سا سر جھکائے پیلس کے خوبصورت سے ہال میں صوفے پر بیٹھا تھا ڈیول اس کے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گیا تو جیک پہلو بدل گیا۔ 


"اب بتاؤ کیوں اس لڑکی کو کیوں لائے ہو؟؟ جبکہ اس لڑکی کو اس کے گھر چھوڑ کر آنا کوئی مشکل مرحلہ نہیں تھا" ڈیول جانچتی نظروں سے جیک کو دیکھ کر بولا جو حفیف سا ہو گیا اور دوبارہ شروع جھکا گیا۔


"پتا نہیں میرا دل کیا بس میں لے آیا" جیک نے سادہ سا جواب دیا۔

"چاکلیٹ لے کر نہیں آئے جو یہ بول رہے ہو اصل مدعے پر آؤ جیک" ڈیول کے بولنے پر جیک گڑبڑا کر سیدھا ہوتا اسے دیکھنے لگا جو بڑی توجہ سے جیک کو ہی دیکھ رہا تھا۔ 


"مجھے وہ پسند ہے" جیک کے بولنے پر ڈیول کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔

"وہ کون؟؟ تمہاری بہن؟؟" ڈیول کے کہنے پر جیک نے اپنے کانوں کو چھوا۔

"استغفراللہ۔۔۔ میری بہن نہیں ہے میں اپنے مرحوم ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں" جیک کا تو ڈیول کی بات سن کر دل بند ہونے والا تھا فوراً منہ بنا کر بولا 


"تم سے کافی چھوٹی ہے بہن بنا لو کوئی مزاحقہ نہیں ویسے بھی اس کا کوئی بھائی نہیں" ڈیول کی بات پر جیک کا منہ کھل گیا مطلب ڈیول کو پتا تھا کہ جیک آیت کے ساتھ عائشہ کی انفارمیشن نکال چکا ہے جبکہ جیک کی حالت دیکھ کر ڈیول کا بے ساختہ ہال میں قہقہہ گونجا تو جیک بھی سر جھکا گیا۔


"میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں" آخر کار جیک نے ڈیول کو دل کی بات بتا ہی دی جس پر ڈیول نے سر اثبات میں ہلایا تو جیک کو راحت ہوئی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نوریز اپنے آفس سے باہر آتا کار ڈرائیو کرتے ہوئے وہاب انڈسٹری کی جانب جا رہا تھا جب اچانک ایک لڑکی کو کچھ آوارہ لڑکوں کے بیچ پھنسے ہوئے دیکھا وہ روڈ کافی سنسان تھا اور دوپہر کا وقت وہ کسی انجانے جذبے کے تحت کار سائیڈ لگاتا اتر کر ان لڑکوں کی طرف پہنچا جن کا حلیہ ان کے مشکوک کردار کی گواہی دے رہے تھا اور وہ لڑکی سفید شلوار سوٹ میں سفید ہی چادر سے خود کو ڈھانپے ہاتھ میں مسافر بیگ لئے کھڑی تھی 


نوریز کے سامنے اس کی پیٹھ تھی جب ان چار لڑکوں میں سے ایک اس لڑکی کی طرف بڑھا تو بھاگنے کی غرض سے وہ لڑکی پلٹی اور بری طرح نوریز کے چوڑے سینے سے ٹکرا گئی اور بیگ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین بوس ہو گیا تو نوریز پیچھے ہوتا اس لڑکی کا بیگ اٹھا کر اسے دینے لگا تو نگاہ اس کے بے حد حسین پیروں سے ہوتی ہوئی اس کے محروتی ہاتھوں پر گئی اور چہرا دیکھنے کے احساس سے نگاہیں خود با خود اس لڑکی کے چہرے کا طواف کرنے لگی 


بڑی بڑی خوبصورت سی آنکھیں، دلکش نین نقوش گلاب جیسے ہونٹ بے شک وہ لڑکی سراپائے حسن تھی۔ نوریز جیسا مضبوط اعصاب کا مالک شخص بھی اسے محوت سے دیکھنے لگا۔ جب ایک لڑکا نمل کی کلائی پکڑنے کی کوشش کرنے لگا اور نمل جھٹک کر پیچھے ہوئی تو نوریز ہوش کی دنیا میں واپس آتا اس لڑکے کا ہاتھ روک گیا وہ لڑکا اور باقی سب بھی نوریز کو غصے سے دیکھنے لگے اور غصے سے بولے 


"ابے ہیرو نکل یہاں سے لڑکی ہماری ہے" اس لڑکے نے نوریز کی وجاہت، کسرتی جسم تھری پیس بلیو سوٹ اور بے تحاشا مغرور سے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا تو نوریز کے ماتھے پر کسی بھی عورت کے لیے ایسے الفاظ سن کر بے تحاشا بل پڑے یہی تو فرق تھا نوریز اور سامنے کھڑے لڑکوں کی تربیت کا ایک کسی انجان اکیلی لڑکی کی عزت کی حفاظت کے لیے کھڑا تھا تو دوسری طرف وہ لڑکے اس اکیلی لڑکی کی عزت پامال کرنے کے لیے۔ ایک اور لڑکا سامنے آتا نوریز کو جانے کا کہنے لگا۔


"چل ہیرو پہلا حق ہمارا ہے اس لڑکی نے ہمیں بہت دوڑایا ہے تو کچھ گھنٹوں بعد آجانا پھر لے جانا تب تک ہمیں مزے کرنے دے" وہ لڑکا انکھ مارتا ہوا حباثت سے بولا۔ اور نمل ان بے ہودہ الفاظ پر غصے اور دکھ سے سر نیچے جھکائے آنسو بہانے لگی تھک ہی تو گئی تھی بیچاری۔


 اپنی عزت کی حفاظت شمس سے کرنے کے لیے تو کوٹھی سے نکلی تھی بس کے دھکے کھائے کچھ مردوں کے راستے میں اٹھنے والی غلیظ نظروں کو برداشت کیا اور کیا ملا وہی مرد جو اسے گھیرے کھڑے تھے نوچنے کے لئے اس سے اچھا تو وہاں سے باہر ہی نا نکلتی کم سے کم کچھ مہینے اور عزت سے کوٹھی میں گزار لیتی 19 سال کی تھی کمزور مگر مضبوط لڑکی جو اکیلے اپنی حفاظت کے لیے دنیا سے لڑنے نکلی تھی۔


نوریز نے ایسی بکواس کرنے والے لڑکے کے منہ پر زود دار پنچ مارا جس سے وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرا تو دوسری طرف کھڑے لڑکے نے ہاتھ ہوا میں لہرا کر نوریز پر حملہ کرنا چاہا جسے نوریز نے گھوم کر اپنے دوسرے ہاتھ سے روکتے ہوئے ایک زور دار پنچ اسی کے پیٹ پر دے مارا۔



جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔