تم اندھے ہو چکے ہو؟
وہ اطمینان سے اپنا بیگ اٹھائے بے نیازی سے اندر جارہا تھا۔ معیز کے چلانے پر اس نے پلٹ کر اس کو دیکھا اور لاؤنج کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ معیز کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی۔ وہ تیز تیز قدموں سے اس کے پیچھے اندر چلا آیا۔
اگر تم نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو میں تمہارا ہاتھ توڑ دوں گا۔ اس کے قریب پہنچتے ہوئے معیز ایک بار پھر دھاڑا۔ اس نے بیگ کندھے سے اتار کر نیچے رکھ دیا اور دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر کھڑا ہو گیا۔ نکالوں گا۔۔۔۔۔۔۔ تم کیا کرو گے۔۔۔۔۔؟ ہاتھ توڑ دوں گے؟ اتنی ہمت ہے؟
یہ میں تمہیں اس وقت بتاؤں گا جب تم دوبارہ یہ حرکت کرو گے۔ معیز اپنے کمرے کی طرف بڑھا مگر اس کے بھائی نے پوری قوت سے اس کا بیگ کھینچتے ہوئے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔
نہیں تم مجھے ابھی بتاؤ۔ اس نے معیز کا بیگ اٹھا کر دور پھینک دیا۔ معیز کا چہرہ سرخ ہوگیا اس نے زمین پر پڑا ہوا اپنے بھائی کا بیگ اٹھا کر دور اچھال دیا۔ ایک لمحے کا انتظار کیے بغیر اس کے بھائی نے پوری قوت سے معیز کی ٹانگ پر ٹھوکر ماری۔ جواباً" اس نے پوری قوت سے چھوٹے بھائی کے منہ پر مکا مارا جو اسکی ناک پر لگا۔
اگلے ہی لمحے اس کی ناک سے خون ٹپکنے لگا۔ اتنے شدید حملے کے باوجود اس کے حلق سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ اس نے معیز کی ٹائی کھینچتے ہوئے اسکا گلا دبانے کی کوشش کی۔ معیز نے جواباً" اسکی شرٹ کو کالر سے کھینچا۔ اسے شرٹ کے پھٹنے کی آواز آئی۔ اس نے پوری قوت سے اپنے چھوٹے بھائی کے پیٹ میں مکا مارا اس کے بھائی کے ہاتھ سے اسکی ٹائی نکل گئی۔
ٹھہرو میں تمہیں اب تمہارا ہاتھ توڑ کر دیکھاتا ہوں۔ معیز نے اسے گالیاں دیتے ہوئے لاؤنج کے ایک کونے میں پڑے ہوئے ایک ریکٹ اسکے بھائی کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے پوری قوت سے گھما کر اتنی برق رفتاری کے ساتھ اس ریکٹ کو معیز کے پیٹ میں مارا کی وہ سنبھل یا خود کو بچا بھی نا سکا۔
اس نے یکے بعد دیگرے معیز کی کمر اور ٹانگ پر برسا دیے۔ اندر سے ان دونوں کا بھڑا بھائی اشتعال کے عالم میں لاؤنج میں آگیا۔
کیا تکلیف ہے تم دونوں کو۔۔۔۔ گھر میں آتے ہی ہنگامہ شروع کر دیتے ہو۔ اس کو دیکھتے ہی چھوٹے بھائی نے اٹھا ہوا ریکٹ نیچے کر لیا۔
اور تم۔۔۔۔۔ تمہیں شرم نہیں آتی اپنے سے بڑے بھائی کو مارتے ہوئے۔ اس کی نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے ریکٹ پر گئی۔
نہیں آتی۔ اس نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہوئے ریکٹ ایک طرف اچھال دیا اور بڑی بے خوفی سے کچھ فاصلے پر پڑا ہوا اپنا بیگ اٹھا کر اندر جانے لگا۔ معیز نے بلند آواز میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا
تم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ وہ ابھی تک اپنی ٹانگ سہلا رہا تھا
ہاں کیوں نہیں۔ ایک عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ سیڑھیوں کے آخری سرے پر رک کر اس نے معیز سے کہا۔ اگلی بار تم بیت لے کر آنا۔۔۔۔۔۔۔ ٹینس ریکٹ سے کچھ مزہ نہیں آیا۔۔۔۔۔۔ تمہاری کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی
معیز کا اشتعال آگیا۔ تم اپنی ناک سنبھالو۔۔۔۔۔ وہ یقیناً ٹوٹ گئی ہے" معیز غصے کے عالم میں سیڑھیوں کو دیکھتا رہا۔ جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا تھا
…………………………………………………….
مسز سمانتھا رچرڈز نے دوسری رو میں کھڑکی کے ساتھ پہلی کرسی پر بیٹھے ہوئے اس لڑکے کو چوتھی بار گھورا۔ وہ اس وقت بھی بڑی بے نیازی سے کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھا۔ "وقتاً فوقتاً" وہ باہر سے نظریں ہٹاتا۔۔۔ ایک نظر مسز سمانتھا کو دیکھتا اس کے بعد پھر اسی طرح باہر جھانکنے لگتا۔
اسلام آباد کے ایک غیر ملکی اسکول میں وہ آج پہلے دن اس کلاس کی بیالوجی پڑھانے کے لیے آئی تھیں۔ وہ ایک ڈپلومیٹ کی بیوی تھیں اور کچھ دن پہلے ہی اسلام آباد اپنے شوہر کے ساتھ آئی تھیں۔ ٹیچنگ ان کا پروفیشن تھا اور جس جس ملک میں انکے شوہر کی پوسٹنگ ہوئی تھی وہ وہاں کے سفارت خانہ سے منسلک اسکولز میں پڑھاتی رہیں۔
اپنے سے پہلے بیالوجی پڑھانے والی ٹیچر مسز میرین کی سکیم آف ورک کو ہی جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کلاس کے ساتھ کچھ ابتدائی تعارف اور گفتگو کے بعد دل اور نظام دوران خون خی ڈائیگرام رائیٹنگ بورڈ پر بناتے ہوئے سمجھانا شروع کیا۔
ڈائیگرام کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے اس لڑکے کو کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا۔ پرانی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اپنی نظریں اس لڑکے پر مرکوز رکھتے ہوئے انہوں نے اچانک بولنا بند کردیا۔ کلاس میں یک دم خاموشی چھا گئی۔
اس لڑکے نے سر گھما کر اندر دیکھا۔ مسز سمانتھا سے اسکی نظریں ملی انہوں نے مسکرا کر ایک بار پھر اپنا لیکچر شروع کر دیا۔ کچھ دیر تک انہوں نے اسی طرح بولتے ہوئے اپنی نظریں لڑکے پر رکھیں جو اب اپنے سامنے پڑی نوٹ بک پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا اس کے بعد مسز سمانتھا نے اپنی توجہ کلاس میں موجود دوسرے اسٹوڈنٹس پر مرکوز کرلی، انکا خیال تھا کہ وہ خاصا شرمندہ ہو چکا ہے اس لیے اب دوبارہ باہر نہیں دیکھے گا۔
لیکن صرف دو منٹ بعد ہی انہوں نے اسے ایک بار پھر کھڑکی سے باہر متوجہ دیکھا۔ وہ ایک بار پھر بولتے بولتے خاموش ہوگئیں۔ بلا توقف اس لڑکے نے گردن موڑ کر پھر انکی طرف دیکھا۔ اس بار مسز سمانتھا مسکرائی نہیں بلکہ قدرے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے ایک بار پھر لیکچر دینا شروع کردیا۔
چند لمحے گزرنے کے بعد انہوں نے رائیٹنگ بورڈ پر کچھ لکھنے کے بعد اس لڑکے کی طرف دیکھا تو وہ ایک بار پھر کھڑکی سے باہر کچھ دیکھنے میں مصروف تھا۔ اس بار انکے چہرے پر کچھ ناراضی نمودار ہوئی اور وہ کچھ جھنجھلاتے ہوئے خاموشی ہوگئی۔ اور ان کے خاموش ہوتے ہی لڑکے نے کھڑکی سے نظریں ہٹا کر انکی طرف دیکھا اس بار لڑکے کے ماتھے پر بھی کچھ شکنیں تھیں۔
ایک نظر مسز سمانتھا کو ناگواری سے دیکھ کر وہ پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ اسکا انداز اس قدر توہین آمیز تھا کہ مسز رچرڈز کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
"سالار تم کیا دیکھ رہے ہو۔" انہوں نے سختی سے پوچھا
"Nothing" یک لفظی جواب آیا۔ وہ اب چبھتی نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا
"تمہیں پتا ہے میں کیا پڑھا رہی ہوں؟"
"Hope so" اس نے اتنے روڈ انداز میں کہا کہ سمانتھا نے یک دم ہاتھ میں پکڑا ہوا مارکر کیپ بند کر کے ٹیبل پر پھینک دیا۔
"یہ بات ہے تو پھر یہاں آؤ اور یہ ڈئیگرام بنا کر اس کو لیبل کرو۔ انہوں نے اسفنج کے ساتھ رائیٹنگ بورڈ کو صاف کرتے کہا۔ یکے بعد دیگرے لڑکے کے چہرے پر کئی رنگ آئے۔ انہوں نے کلاس میں بیٹھے ہوئے اسٹوڈنٹس کو آپس میں نظروں کا تبادلہ کرتے دیکھا۔ وہ لڑکا اب سرد نظروں کے ساتھ سمانتھا کو دیکھ رہا تھا۔
جیسے ہی انہوں نے رائیٹنگ بورڈ سے آخری نشان صاف کیا وہ اپنی کرسی سے ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھا، تیز تیز قدموں کے ساتھ اس نے ٹیبل پر پڑا ہوا مارکر اٹھایا اور برق رفتاری کے ساتھ رائیٹنگ بورڈ پر ڈئیگرام بنانے لگا۔ پورے دو منٹ ستاون سیکنڈز بعد اس نے مارکر پر کیپ لگا کر اسے میز پر اسی انداز میں اچھالا جس انداز سے سمانتھا نے اچھالا تھا
اور انکی طرف دیکھے بغیر اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔ مسز سمانتھا نے اسے مارکر اچھالتے یا اپنی کرسی کی طرف جاتے نہیں دیکھا۔ وہ بے یقینی کے عالم میں رائیٹنگ بورڈ پر تین منٹ سے بھی کم عرصہ میں بنائی جانے والی اس لیبلڈ ڈائیگرام کو دیکھ رہی تھیں جسے بنانے میں انہوں نے دس منٹ لیے تھے اور یہ تین منٹ میں بننے والی ڈائیگرام انکی ڈائیگرام سے زیادہ اچھی تھی۔
وہ اس میں معمولی سی بھی غلطی نہیں ڈھونڈ سکیں۔ کچھ حفیف ہوتے ہوئے انہوں نے گردن موڑ کر اس لڑکے کی طرف دیکھا تو پھر کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا
…………………………………………………….
وسیم نے تیسری بار دروازے پر دستک دی۔ اس بار اندر سے امامہ کی آواز سنائی دی
"کون ہے"
"امامہ میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھولو۔" وسیم نے دروازے سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔ اندر خاموشی چھا گئی
کچھ دیر بعد لاک کھلنے کی آواز آئی۔ وسیم نے دروازہ کھول دیا۔ امامہ اس کی جانب پشت کیے اپنے بیڈ کی طرف بڑھی
"تمہیں اس وقت کیا کام آن پڑا ہے مجھ سے؟"
"آخر تم نے اتنی جلدی دروازہ کیوں بند کرلیا تھا۔ ابھی تو دس بجے ہیں۔" وسیم کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔
"بس نیند آرہی تھی مجھے" وسیم اس کا چہرہ دیکھ کر چونک گیا۔
"تم رو رہی تھی؟" بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔ امامہ کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھی اور وہ اس سے نظریں چرانے کی کوشش کر رہی تھی
"نہیں رو نہیں رہی تھی بس سر میں کچھ درد ہو رہا تھا۔" امامہ نے مسکرانے کی کوشش کی وسیم نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر ٹمپریچر چیک کرنے کی کوشش کی
"کہیں بخار تو نہیں ہے۔" اس نے تشویش بھرے انداز میں کہا اور پھر ہاتھ چھوڑ دیا۔ "بخار تو نہیں ہے پھر تم کوئی ٹیبلیٹ لے لیتیں"
"میں لے چکی ہوں"
"اچھا تم سو جاؤ۔۔۔۔۔ میں باتیں کرنے آیا تھا مگر اب اس حالت میں کیا باتیں کروں گا تم سے" وسیم نے باہر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔ امامہ نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ خود بھی اٹھ کر اس کے پیچھے گئی اور وسیم کے باہر نکلتے ہی اس نے دروازے کو پھر لاک کر لیا۔
بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر اس نے تکیے میں منہ چھپا لیا۔ وہ ایک بار پھر ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔
…………………………………………………….
جاری ہے۔۔۔۔۔

0 Comments