عائشہ کی بات سن کر آیت بھی سوچ میں پڑگئی واقعی اس نے ایسا تو سوچا ہی نہیں کیا ڈیول واقعی محبت کرتا ہے اس سے؟ جیک عائشہ کے قریب آتا واپسی کا کہتا اسے ساتھ لے گیا تو آیت بھی ڈیول کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگی جو ڈیول کے ساتھ کھڑی ایک لڑکی پر جاکر رکی۔ 


آیت تن فن کرتی اس تک پہنچی ایک عجیب سے احساس نے آیت کو آگھیرا تھا ورنہ آیت صدیقی کو کسی سے جلن ہو۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا۔ ڈیول آیت کے ری ایکشن کے ہی لیے آج پرل نامی لڑکی سے مخاطب تھا جو ڈیول کے مافیا ورلڈ کے نامی گینگسٹر کی بیٹی تھی وہ تو پہلے سے ہی ڈیول پر فدا تھی 


پر آج تو ڈیول نے خود اس پر نظر کرم کی تھی تو بے تکلفی سے ڈیول کے ساتھ کھڑی تھی پرل کا ایک ہاتھ ڈیول کے بازو کے اوپر تھا وہ کھڑی تھی جبکہ ڈیول آرام سے رولنگ چیر پر ایک پاؤ زمین پر ٹیکائیں بیٹھا تھا۔ آیت ڈیول تک پہنچی اور ایک ادا سے ڈیول کا ہاتھ خود کی کمر پر رکھتی جس پر پرل نے اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا 


اور اپنا بائیاں ہاتھ ڈیول کے دل کے مقام پر رکھ گئی آیت کی اس حرکت پر ڈیول کا ڈمپل واضح ہوا۔ "ایکسکیوز" ڈیول کے اتنا بولنے پر پرل وہاں سے غائب ہوئی تو ڈیول آیت کی کمر پر اپنی گرفت تنگ کر گیا۔

"Yes my queen"

ڈیول کے مسکرا کر بولنے پر آیت نظریں پھیر گئی۔


"اب میں نے تمہیں کسی لڑکی سے فری ہوتے دیکھا نا تو" آیت تنبیہ کرتے بولی۔

"تو" ڈیول آئیبرو ریز کرتا بولا۔

"تو میں تمہارا تھوبڑا توڑ دوں گی" آیت ڈیول کی بیرڈ پر انگلیاں پھیرتے بولی۔

"تھوبڑا! سیریسلی؟؟ میں مافیا کا ڈیول کنگ ہوں" آئیبرو ریز کرتا داد دینے والے انداز میں بولا۔


"اور میں "ڈیول کنگ" کی "ڈیول کوئین" ہوں۔ آیت بھی ترکی با ترکی بولی تو ڈیول کا قہقہہ گونجا۔


"ڈیول کیا میں تمہاری سے بات کر سکتا ہوں؟" صدیقی صاحب ڈیول کے قریب آکر بولے ان کے پیچھے مسز صدیقی اور تناوش بھی تھی ڈیول نے بہت ناگواری سے ان کی طرف دیکھا جبکہ آیت بلکل ساکت ہوگئی اور پھر جلدی خود کو کمپوز کرتی ڈیول کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔


"ڈیول مجھے نیند آرہی ہے۔ پیلس چلے؟؟" آیت کے بولنے پر ڈیول آیت کی پیشانی پر بوسہ دیتا اسے سیدھا کھڑا کرتا خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔


"صدیقی جو بات کرنی ہے ہشام سے کرو۔۔۔ میرے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں" ڈیول کے بولنے پر تناوش غصے سے بڑکھی 


"تم احسان فراموش لڑکی سمجھتی کیا ہو خود کو ڈیول کی رکھیل سے زیادہ کوئی اوقات نہیں تمہاری" تناوش آیت سے آگے بھی کچھ بولتی جب ڈیول نے الٹا ہاتھ گھوما کر تناوش کی بولتی بند کی تناوش اپنے گال پر ہاتھ رکھے آنسو بہانے لگی تو مسز صدیقی تڑپ کر اپنی بیٹی تک پہنچی۔


"میری بیوی کو اس کی اوقات دیکھانے سے پہلے اپنے بوائے فرینڈ کے نام شارٹ لسٹ کر لو اور دوبارہ یہ لفظ میری بیوی کے لیے منہ سے نکالا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا" ڈیول دھاڑا۔


"سوری ڈیول۔۔۔ آئیندہ نہیں ہوگا" صدیقی صاحب فوراً تناوش کو ناگواری سے دیکھتے ہوئے ڈیول سے بولے۔

"اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ میری بیوی سے نام کا ہی سہی کوئی رشتہ ہے تم لوگوں سے۔۔۔۔ ورنہ ابھی تک تم سب کو زندہ گاڑھ چکا ہوتا" ڈیول بولتا آیت کو اپنے حصار میں لیتا وہاں سے چل دیا۔


آیت صدیقی جو ہمیشہ اپنی حفاظت خود کرتی تھی آج اس غنڈے کے تحفظ میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ آیت صدیقی محبت سے نا آشنا لڑکی آج ایک مافیا کنگ کی جنونی محبت کو محسوس کر سکتی تھی۔

"یہی سفر تھا اس کا آیت صدیقی سے آیت زین کمال بننے کا"۔


…………………………………………………….


"تم مجھے شکریہ بھی بول سکتی ہو" جیک جو عائشہ کو گھر ڈراپ کرنے آیا تھا بولا۔

"شکریہ کس لیے" جواب میں عائشہ بھنویں ملا کر بولی۔

"میں نے کڈنیپنگ والے روز تم سے زبردستی نکاح نہیں کیا نا" جیک دونوں ہاتھ سٹیرنگ پر جمائے افسوس سے بولا۔

"بہت احسان کیا" عائشہ نے سر جھٹک کر بولا۔


"تبھی تو بول رہا ہوں احسان فراموش لڑکی شکریہ ادا کرنے کو" اطمینان سے کار عائشہ کے گھر کے سامنے کھڑی کرتے جیک نے بولا تو عائشہ "ہننننہ" کر کے دروازہ کھولے باہر نکلی جیک بھی اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولے دونوں ہاتھ کار کی چھت پر کہنیوں کی مدد سے رکھتا ہوا بولا 


"چلو ایک کپ چائے ہی پلا دو"

"زہر ڈال کر" عائشہ پلٹتی ترکی با ترکی بولی جیک قہقہہ لگا اٹھا۔

"ڈالنی تو چینی چاہیئے ویسے خیر تمہارے ہاتھ کا تو زہر بھی پی لونگا" جیمک پھر اطمینان سے بولا۔

"بہت ہی کوئی چھچورے انسان ہو" عائشہ بے زاری سے بولی۔

"صرف تمہارے لیے" جیک مسکراتا ہوا بولا۔ عائشہ بنا جواب دیے گھر کے اندر چلی گئی تو جیک بھی نفی میں سر ہلاتا کار اسٹارٹ کر گیا


…………………………………………………….


سب سونے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے لیکن وہاں ایک محبت کی ماری لڑکی کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔


"ہالے یہاں کیا کر رہی ہو" دلشاد گارڈن میں کھڑی ہالے سے پوچھتے ہوئے پلر پر ٹیک لگائے دونوں ہاتھ ٹراؤزر کی جیبوں میں ڈالے کھڑا ہو گیا رات کا وقت ٹھنڈی ہوائیں پھولوں اور پتوں کی لہراہٹ، محبت کے ماروں کو وہ منظر کافی تھا شاید اپنی روح تازہ کرنے کے لیے۔


"کچھ نہیں دلشاد بس یوں ہی نیند نہیں آرہی تھی تو یہاں آگئی" ہالے چونک کر دلشاد کی طرف دیکھتے ہوئے پھر خود کو کمپوز کرتی ہوئی بولی اسے کہا آتا تھا اپنا درد کسی سے بیان کرنا۔


"ہالے" دلشاد اس کی آواز میں نرماہٹ کو محسوس کر سکتا تھا اسے پکارتے ہوئے اس کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔

"ہمممم" ہالے بس اتنا بولی۔

"تم بھلا دو اسے" دلشاد کے بولنے پر ہالے کچھ لمحے خاموش رہی۔

"اتنا آسان ہوتا ہے؟؟" ہالے نے کہا۔

"کوشش کرو" دلشاد بولا۔


"تم بھولا پائے ہو" ہالے گردن موڑ کر پوچھنے لگی۔

"میری محبت یک طرفہ نہیں تھی ہالے" دلشاد نے کہا۔

"محبت بس محبت ہوتی ہے دلشاد" ہالے بولی تو اس کی آواز میں کرب تھا۔

"وہ تمہیں نہیں ملے گا ہالے۔۔۔ وہ تم سے محبت نہیں کرتا" دلشاد نے اسے پہلی دفعہ سمجھانا چاہا۔


"وہ تم سے محبت کرتی تھی دلشاد۔۔۔ پھر وہ کیوں نہیں ملی تمہیں" ہالے ضبط سے بولی۔

"ہالے۔۔۔ نوریز تم سے محبت نہیں کرتا" دلشاد اپنی تکلیف کو نظر انداز کرتا پھر ہالے سے بولا 

"جانتی ہوں" ہالے دلشاد کی طرف سے رخ پھیر کر سیدھی ہوتی بولی۔


"اپنی زندگی میں خود کو جگہ دو ہالے۔۔۔ یہ یک طرفہ محبت تمہیں ختم کر دے گی" ہالے نے دلشاد لو کہتے سنا۔

"مجھے لگتا ہے اگر نوریز ست محبت کرنا میری زندگی میں نہیں رہا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤ گی" ہالے بے بسی سی بولی تو دلشاد نے لمبی سانس کھینچی۔


"ہالے اللہ نے تمہارے لیے شاید نوریز سے بھی بہترین کسی کو چنا ہے۔۔۔ تم آگے بڑھو اور نوریز کو بھولنے کی کوشش کرو۔۔۔ اسکی آنکھوں میں میں نے کسی اور کا نام دیکھا ہے" دلشاد بولا تو ہالے سمجھ گئی وہ کس کا نام ہے لیکن اپنی آنکھوں سے تکلیف نہیں روک پائی تو اندر قدم بڑھا گئی۔ دلشاد اس کی پشت دیکھتا رہا جب تک وہ پوری غائب نا ہوگئی۔


…………………………………………………….


صبح ہوئی تو آیت نے پھر خود کو ڈیول کے حصار میں پایا لیکن آج آیت نے خود کو چھڑوانے کی کوشش نہیں کی بلکہ آج آیت ڈیول کے سینے پر سر رکھے اس کی بیرڈ میں انگلیاں چلانے لگی آیت اتنی مبہوت سے ڈیول کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک ڈیول کروٹ بدل کر خود اس کے اوپر جھک گیا تو آیت سٹپٹا گئی۔


"تم جاگ رہے تھے" آیت نے ڈیول سے کہا 

"نہیں لیکن میری کوئین مجھے چھیڑ رہی تھی تو جاگنا ہی پڑا" ڈیول آیت کی پیشانی پر بوسہ دیتا بولا تو آیت کو اپنے اندر ایک ٹھنڈک اترتی محسوس ہوئی۔


"تمہاری عمر کیا ہے" آیت کو اچانک خیال آیا کل واپسی پر ہشام نے ڈیول اور آیت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا

"Devil with a little angel"

جس پر ڈیول قہقہہ لگا اٹھا تھا۔ تو آج وہ جاننا چاہتی تھی شاید کے ڈیول آیت سے عمر میں کتنا بڑا ہے۔

"30 years"

ڈیول کے بولنے پر آیت کو شرارت سوجھی۔


"اگر صحیح وقت پر شادی کی ہوتی تو مجھ سے آدھی عمر کی تمھاری بیٹی ہوتی" آیت بولی تو ڈیول نے ایک آئیبرو ریز کی۔

"کوئی بات نہیں اب کر لیتا ہوں" ڈیول کہتا آیت کے چہرے پر انگلی پھیرنے لگا تو آیت خونخوار نظروں سے دیکھنے لگی۔


…………………………………………………….


جاری ہے۔۔۔