زریش بیگم ضروری کال اٹینڈ کرنے کے لیے اپنے کمرے میں گئی تو ہالے خونخوار نظروں سے داہم کو دیکھتے ہوئی بولی
"میری کتنی عمر ہو گئی ہے؟؟ بتانا پسند کرو گے۔۔۔ چوزے" ہالے طنز کرتی بولی تو داہم خود کے لیے چوزہ لفظ سن کر دونوں آئیبرو ریز کرتا دونوں ہاتھ ٹیبل پر اپنی پلیٹ کے ارد گرد رکھتا ہوا بولا
"اتنی کے میں تمہیں دادی بھی بول سکتا ہوں۔۔۔ سو سال پرانی ناگن"
"تم کیا سمجھتے ہو خود کو ہاں۔۔" ہالے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر اپنے لیے دادی اور سو سال پرانی ناگن کے الفاظ سنتی ہوئی بولی
"ایک حسین، نوجوان، ہینڈسم قابل ڈاکٹر" کیا اطمینان تھا۔۔۔
"ہننننہ۔۔۔ اس حسن پر کوئی مر ہی نا مٹے" ہالے داہم کو آگ لگاتی بولی
"خوبصورت لڑکیوں کا ٹولہ مڑتا ہے میرے حسن پر" داہم مسکراتے ہوئے بولا تو ہالے اپنی جگہ سے اٹھ کر داہم کی کرسی کے پاس آکر بولی
"ایسی اندھی لڑکیاں مر ہی جائے تو ہی اچھا ہے" ہالے یہ کہتی تن فن کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی تو داہم لاجواب ہوتا دل کھول کر قہقہہ لگا اٹھا اور یہ بھی تو سچ تھا داہم وہاب خانزادہ کو لاجواب کرنے کی ہمت بھی صرف "ہالے آفریدی" میں ہی تھی۔ داہم یہ بات مانتا تھا لیکن کبھی تسلیم نہیں کرتا تھا ہالے کے سامنے افففف یہ انا۔ تو بس صبح ہالے آفریدی کا نوریز کے گھر جانے کا پلین پتا چلتے ہی داہم اپنا کارنامہ سر انجام دے گیا کیونکہ اسے معلوم جو تھا آج باقی گاڑیاں بھی سروس کے لئے گئی جو ہوئی ہے۔
اور خود مزے سے کیز گھوماتا ہالے کو بائے کرتا اور زور سے زریش بیگم سے کہتا "مام میں نوریز کی طرف جا رہا ہو آنٹی اور انکل سے ملنے اور انھیں گفٹس دینے" اپنی منزل کی طرف بڑھ گیا اور پیچھے بیچاری ہالے پیر پٹختی رہ گئی۔ دلشاد کو داہم نے صبح ہی نوریز کی طرف جانے کا بتایا تھا تو دلشاد نے اسے بتایا نوریز لنچ آج اسکے آفس میں کرے گا۔
تو داہم آنٹی اور انکل سے ملنا تھا کہہ کر بات ختم کردی لیکن آج شاید نوریز داہم کی وجہ سے ہی دلشاد کے ساتھ لنچ کرنے نہیں آیا تھا وہ تو اندازہ لگا رہا تھا اس بات سے انجان اس کے دوست کی زندگی میں ایک انجان لڑکی داخل ہوئی تھی آج ہالے دلشاد کو کچھ کہنے ہی والی تھی جب پیچھے سے داہم کی آواز آئی
"برو۔۔۔ اس نے کہا تھا لیکن میڈم تیار ہونے میں ہی اتنی دیر لگاتی ہے کہ میں بے زار ہو کر خود ہی نکل گیا" داہم کے کہنے پر دلشاد نفی میں سر ہلاتے ہوئے جانے لگا تو داہم افسوس سے آگے بڑھ کر دلشاد کے گلے لگا تو ہالے اور دلشاد ایک دوسرے کو دیکھتے تو کبھی داہم کو
"میرا پہلا پیار ادھورا رہ گیا۔۔۔ دلشاد بابو" اس کے کہنے پر دلشاد نے داہم کو خود سے الگ کرتے ہوئے ہونک بنے پوچھا
"کونسا پہلا پیار۔۔۔۔" دلشاد تو داہم کی ڈرامے بازیوں سے ہی بے زار رہتا تھا جبکہ ہالے داہم کے انداز پر بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کیے ہوئے تھی جبکہ داہم تو دہائی دینے والے انداز میں صوفے میں دھنستے ہوئے بولا
"نوریز اپنی زندگی میں میری سوتن لے آیا" داہم کے کہنے پر دلشاد کا قہقہہ گونجا تو کسی کی ہنسی غائب ہو گئی ہالے حیرانی سے داہم کو دکھنے لگی اگر یہ مذاق تھا تو ہالے آفریدی کی زندگی کا سب سے گھٹیا مذاق تھا۔
"تم مرد ہو داہم۔۔۔" دلشاد با مشکل ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا تو ہالے جیسے ساکت سی صرف داہم کے اس مذاق کو ختم کرنے کا انتظار کر رہی تھی اور اس کی ہنسی غائب ہونا ساکت ہونا ایک انسان نوٹ کر گیا تھا۔
"تو کیا مرد کو درد نہیں ہوتا" داہم خفا نظروں سے بولا۔
"ہوتا ہے لیکن مرد کی سوتن نہیں ہوتی" دلشاد بھی نفی میں سر ہلاتا ہوا داہم کے برابر میں بیٹھ کر بولا۔
"اب بتاؤ ہوا کیا ہے" دلشاد کے بولنے پر داہم نے سارا واقعہ سنایا تو ساکت پڑتے وجود میں جیسے سکوں سا اترا تو دلشاد بھی داہم کی ڈرامے بازی پر اس کے سر پر چت رسید کرتا باہر نکل گیا تو ہالے بھی اپنے کمرے کی طرف چل پڑی تو داہم بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت دلہن بنی آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی وہ تو سادہ سے حلیے میں قیامت ڈھاتی تھی اور دلہن کا روپ تو جیسے اس پر ٹوٹ کر آیا تھا ریڈ ڈیپ کلر کے لہنگے میں زیورات سے سجی سنوری میک اپ کے ساتھ وہ آج سراپائے حسن کا احتتام لگ رہی تھی۔ لیکن کیا تھی وہ؟؟ نفرتوں کی شکار لڑکی جو اب ایک حیوان کے چنگل میں پھنسنے جا رہی تھی وہ دلہن تو نہیں تھی وہ تو بس بے جان سی ایک کٹ پتلی لگ رہی تھی جو ڈیول کے ہر حکم پر سر کو خم کر رہی تھی۔
آیت اپنی سوچوں میں گم سی تھی جب دو عورتیں جالی نما ڈوپٹہ لیے اسے پیچھے سے اوڑھا گئی تو دروازہ نوک ہونے پر جیک نے باہر آنے کا کہا تو آیت ان دو عورتوں کے ہمراہ باہر نکلی تو ڈیول تھری پیس سوٹ میں اپنی شان لیے سربراہی صوفے پر بیٹھا تھا اور جیک اور ہشام گواہ بنے سائیڈ صوفے پر مولوی کے ساتھ بیٹھے تھے تو آیت بھی ڈیول کے سامنے صوفے پر ڈیول کنگ کے اشارہ کرنے پر بیٹھ گئی۔
اور سر اٹھا کر اس مغرور سے حیوان کو دیکھنے لگی جیل سے سیٹ بال تھری پیس بلیک سوٹ، ہاتھ میں پہنی مہنگی گھڑی، چمک دار جوتے وہ بلاشبہ بلا کا ہینڈسم تھا تبھی تو پہلی نظر میں آیت نے اس کو "اسٹائلش لفنگے" کا نام دیا تھا لیکن آج آیت کو وہ شخص زہر لگ رہا تھا۔ مولوی صاحب نے جب نکاح شروع کیا تو ڈیول کنگ نے تینوں دفعہ "قبول ہے" کہ دیا اب باری آیت کی تھی مولوی صاحب اب آیت سے مخاطب ہونے
"آیت صدیقی ولد رمضان صدیقی آپ کا نکاح زین کمال ولد کمال حفیظ کے ساتھ سکہ رائج الوقت ایک کڑوڑ میں طے پایا ہے اپ نے قبول کیا۔۔۔ مولوی صاحب کے الفاظ سن کر آیت کو اپنے باپ کے دیے زخم یاد آئے
قبول ہے۔۔۔۔۔۔
("تم پیدا ہوئی میری زندگی کا وہ منحوس دن تھا۔۔۔")
مولوی صاحب نے ایک بار پھر اپنے الفاظ دہرائے تو پھر ایک اور زخم آیت کو یاد آیا
قبول ہے۔۔۔۔
("تم نے میری محبوبہ بیوی کو مجھ سے چھین لیا۔۔۔۔")
تیسری دفعہ پھر مولوی صاحب نے پوچھا اور آخری زخم کو بھی آیت نے پھر یاد کیا
قبول ہے۔۔۔۔
(میں نے تمہیں پالا مجبوری میں ہر آسائش دی اور تم اگر میرے کام نہیں آسکتی تو۔۔۔۔ یہاں بھی مت آنا واپس۔۔۔۔ میں تمہیں نہیں جانتا آج کے بعد میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں")
مولوی صاحب نے دستخط کے لیے نکاح نامہ آیت کے سامنے کیا تو دستخط کرتے ہوئے آیت کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر نکاح نامے پر جا گرے جو ڈیول کی آنکھوں سے چھپے نہیں رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالے دن بھر اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ وہ کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی یہ تکلیف ہی کتنی جان لیوا تھی کہ نوریز کی زندگی میں اس کے علاوہ کوئی لڑکی آ سکتی ہے۔ جب سے نوریز کو جانا تھا ہالے نوریز سے یک طرفہ محبت کر بیٹھی تھی لیکن وہ یہ بات کبھی زبان پر نہیں لا پائی ڈر تھا اسے کہی نوریز یہ نا کہہ دے کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا اور یہ سچ ہالے بھی جانتی تھی نوریز کی آنکھوں میں ہالے کے نام کی چمک ہی نہیں دیکھی تھی ہالے نے لیکن ہاں ہالے کا دوست دلشاد یہ بات ضرور جانتا تھا لیکن وہ نوریز کے دل سے بھی واقف تھا
وہ کبھی ان سے کچھ نہیں بولتا تھا اس حوالے سے لیکن ہالے کو دیکھ کر اسے تکلیف ہوتی تھی وہ خوف بھی تو محبت نامی مرض سے لڑ رہا تھا ایک عرصے سے۔ ہالے اپنی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ نوک ہوا تو اپنے آنسو صاف کرتی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی داہم ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوا اور ٹرے ٹھیک ہالے کے سامنے رکھی اور خود بھی وہی بیٹھ گیا ہالے نے نظر اٹھا کر دیکھا
"داہم مجھے بھوک نہیں ہے پلیز" ہالے اپنا رخ دوسری طرف کرتے ہوئے بولی تو داہم اس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھتا ہوا بولا
"تم رو رہی تھی ہالے؟؟" داہم کے بولنے پر ہالے فوراً بولی
"تم مر گئے ہو داہم جو میں روتی؟؟" ہالے کے بولنے پر داہم مسکرایا
"تمہیں اتنا دکھ ہو گا میرے مرنے پر؟؟" ہالے اسے دیکھنے لگی
"خوشی کے آنسو ہو گے۔۔۔۔ پگلے" ہالے خود کو سمبھالتے ہوئے بولی کیونکہ داہم کو اگر شک بھی ہوا تو وہ وہاب صاحب اور زریش بیگم کو بتانے سے کبھی باز نہیں آئے گا اور کیا پتا نوریز سے بھی بول دے اگر اس نے ہالے سے دوستی ہی ختم کر لی تو۔
یہ تو ہالے کو لگتا تھا داہم کو کچھ نہیں پتا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ داہم اس راز سے تب سے واقف تھا جب ہالے کی آنکھوں میں پہلی دفعہ نوریز کے نام کی چمک آئی تھی۔ ہالے مسکرانے لگی تھی شاید داہم کو اپنے آنسوؤں والی بات سے ہٹانا چاہتی تھی داہم بھی یہ بات سمجھتا واپس اپنی ٹون میں لوٹ آیا
"تم میری خوبصورتی سے جلتی ہو ہالے" داہم ذرا ٹچی ہوا
"ہالے آفریدی کے حسن سے خود ایک دنیا جلتی ہے۔۔۔۔ ہننننہ"
ہالے مسکراتے ہوئے کہہ کر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا گئی تو داہم اس کی بات کو واقعی تسلیم کر گیا ہالے آفریدی انتہائی خوبصورت تھی اور اس پر آج رونے سے سرخ ناک نے چار چاند لگا دیئے تھے
"تم نے کھا لیا کھانا؟؟" ہالے کھانے کے دوران چپ بیٹھے داہم سے کسی خیال کے تحت پوچھا کیونکہ ابھی گھر میں صرف وہ دونوں ہی موجود تھے وہاب صاحب اور زریش بیگم کسی فیملی فرینڈ کی عیادت کے لیے گئے تھے جبکہ دلشاد آفس سے آکر کپڑے چینج کر کے سیدھا نوریز کے پاس گیا تھا۔
داہم کے اثبات میں سر ہلانے پر ہالے دوبارہ کھانے میں مصروف ہو گئی جبکہ داہم اپنے کسی دوست کی کال آنے پر ہالے سے ایکسکیوز کرتا باہر لان کی جانب قدم بڑھا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

0 Comments