آیت کے زارو قطار آنسو اس کے گالوں کو بھیگو گئے تو ایک عجیب سے احساس میں گھیرا ڈیول آیت کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑتا خود کو کمپوز کرتا صوفے پر ایک سائیڈ جا بیٹھا اقر آیت اپنے بازو میں اٹھتی درد کی ٹیسوں کو سہلانے لگی اور آنسو صاف کرتی پھر ڈیول کے سامنے آ کھڑی ہوئی
"مجھے تم پر یقین نہیں نا تمہاری بات پر" آیت اس شخص پر اعتماد کیسے کو سکتی تھی جو اس کا کڈنیپر تھا شاید اس کا کوئی اور مقصد ہو پیسوں کے علاوہ یا پھر ڈیڈی سے اس کی کوئی دشمنی ہو انہیں بے عزت کرنا چاہتا ہو شاید اس لیے اور اسے پتا ہو ڈیڈی مجھ سے نفرت کرتے ہے اور میں بھی ان سے ناراض رہتی ہوں اس لیے مجھے یہ سب بول رہا ہے کہ میں اس کی باتوں میں آ جاؤ گی۔
کتنی ہی وجوہات تھی آیت کے پاس اپنے باپ پر یقین کرنے کی کیا ان میں سے ایک وجہ بھی اس یقین کو برقرار رکھ پائے گی؟؟ لیکن آیت اس وقت اس غنڈے پر یقین نہیں کرسکتی تھی یہ تو طے کر چکی تھی۔ اس کی بات سنتے ڈیول نے ایک آئبرو ریز کرتے اس کی بہادری پر داد والے انداز میں سر ہلاتے اپنا فون نکال کر کال ملائی اور ٹھیک ایک منٹ بعد دروازہ نوک ہوا جس پر ڈیول نے "یس" کہاں تو جیک اندر داخل ہوا۔
"صدیقی کا کال ملاؤ جیک" ڈیول کے کہنے پر جیک نے ویڈیو کال کی اور ڈیول کے سامنے کردی کال دوسری بیل پر رسیو ہوئی تو ڈیول نے لیپ ٹاپ آیت کے سامنے گھمایا تو آیت دھندلی آنکھوں سے اسکرین میں نظر آتے چہرے کو دیکھ کر ساکت رہ گئی وہ چہرہ اس کے باپ کا ہی تھا اور ڈیول اپنی جگہ سے اٹھتا آیت کے سامنے آکر کھڑا ہوا جبکہ بت بنا وہی کھڑا رہا پھر ڈیول لیپ ٹاپ کی طرف رخ کرکے بولا
"صدیقی تمہاری بیٹی کو یقین نہیں میری باتوں پر تم کروا دو۔۔۔۔۔ ورنہ میں تمہارے مجھ پر یقین کے ساتھ تمہاری بھی دھجیاں اڑا دوں گا" ڈیول تمسخر سے بولتا ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا تو شیشے میں اپنا عکس دیکھنے لگا پھر آیت کو اس کی شبیہ ڈیول کی طرف پیٹھ ہونے کی وجہ سے آدھی نظر آ رہی تھی۔ اور آیت امید بھری نظروں سے اپنے باپ کے عکس کو دیکھنے لگی
"ڈیڈی۔۔۔ یہ جو غنڈہ بول۔۔۔ رہا ہے ی" آیت ٹوٹی ہوئی آواز میں بول ہی رہی تھی جب دھاڑنے والے انداز میں صدیقی کی آواز کمرے میں گونجی
"سب سچ ہے۔۔۔ ڈیول کے ساتھ کچھ کاموں میں ملوث ہوں میں اور ڈیول کا بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے میرے ہاتھوں سے۔۔۔ میں اگر خود خو بھی بیچ دو تو بھی نقصان پورا نا ہو۔۔۔ اسی ڈر سے چھپتا پھر رہا تھا میں لیکن جب ڈیول نے تمہارا بوا تو میں نے ہاں کردی۔۔۔" صدیقی صاحب ہر بات آسانی سے بول گئے جبکہ آیت کے کانوں میں تو سیسہ پگھل رہا تھا
"تو آپ نے مجھے اس حیوان کو بیچ دیا" آیت صدمے سے چیخ پڑی جبکہ اس کے الفاظ پر ڈیول کی چمکتی آنکھوں میں پھر وحشت امڈ آئی لیکن پھر پتا نہیں کس بات پر اس کے لب مسکرا اٹھے۔ جبکہ جیک حیوان لفظ پر سنجیدگی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ لیکن صدیقی کی تو جان پر بنی۔
"بکواس بند کرو۔۔ اور جو ڈیول چاہتا ہے وہ کرو" صدیقی حکم دیتا بولا
"نہیں کروں گی۔۔۔ کبھی نہیں" آیت زور زور سے نفی میں سر ہلاتی بولی تو کب سے چپ کھڑی صدیقی کی پہلی بیوی ان کے آگے آتی ہوئی بولی۔
"تم احسان فراموش لڑکی اتنا نہیں کر سکتی باپ کے لیے تمہیں ہر آسائش دی ہے انہوں نے ورنہ تمہاری اوقات کہا تھی" مسز صدیقی طنزیہ بولی
"ہاں نہیں کرسکتی میں۔۔۔ آپ ایسا کرے تناویش کو بھیج دے یہاں وہ کر لے گی یہ سب" آیت بھی مسز صدیقی کو ان کی بیٹی کا نام لیتی اگ لگا کر بولی تو صدیقی صاحب انہیں چپ رہنے کا اشارہ کرتے آیت سے بولے
"تم پیدا ہوئی میری زندگی کا وہ منحوس دن تھا۔۔"
"تم نے میری محبوبہ بیوی کو مجھ سے چھین لیا۔۔"
"میں نے تمہیں پالا مجبوری میں ہر آسائش دی اور تم اگر میرے کام نہیں آسکتی تو۔۔۔ یہاں بھی مت آنا واپس۔۔۔ میں تمہیں نہیں جانتا آج کے بعد میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں"
صدیقی صاحب کے یہ کہتے ہی سکرین بلیک ہو گئی اور آیت زمین پر گھنٹوں کے بل گر پڑی اس کی تو آج واحد خونی رشتے سے بھی موت ہوگئی کیا وہ اتنی غیر اہم تھی اتنی معمولی یا یا صرف نفرت کا شکار ہونے کے لیے ہی اس دنیا میں آئی تھی۔ تو وہ آئی ہی کیوں تھی زندہ کیوں تھی؟؟
آیت اپنی سوچوں میں گم تھی اور آنسو اپنا راستہ بنائے جا رہے تھے جب ایک شخص ایک گھٹنا ٹیک کر اس کے قریب آتا اپنی انگلی سے آیت کے رخسار سے ایک موتی چنتا ہوا بولا
"تمہارے تو سگے شریف باپ نے تمہیں دھتکار دیا" ڈیول افسوس سے طنز کرتا سر ایک طرف ڈھلکا کر بولا تو آیت نظریں اٹھا گئی
"اور میں ایک غنڈہ، حیوان اور تمہارا اسٹائلش لفنگا تمہیں اپنانے کے لیے باہیں کھولے کھڑا ہوں" ڈیول باہیں کھول کر بے باکی سے بولا
"تم۔۔۔ تمہاری ہونے سے اچھا ہے میں مر جاؤ۔۔۔" آیت پیچھے ہو کر اٹھتی چیخ پڑی۔ جس باپ کو اس کی پرواہ نہیں وہ کیوں کرتی بھلا۔
"سوچ لو تمہارے باپ۔۔۔ " ابھی ڈیول کی بات پوری نہیں ہوئی تھی جب آیت سائیڈ پر رکھا واس اٹھا کر زمین بوس کرتی اس کی کرچیوں پر چلتی ڈیول کے سامنے آکر کھڑی ہوئی۔ اسے کہا پرواہ تھی اپنے پیروں سے نکلتے خون کی لیکن اس کے پیروں کا خون کسی کی آنکھوں میں اترنے لگا تھا ڈیول نے آگے بڑھتے آیت کے بال مٹھی میں پکڑے تو آیت ہنستے ہوئے بولی
"میں تم سے نکاح نہیں کرو گی۔۔۔ چاہے مار دو مجھے جان سے اور اگر میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو خود کو ہی ختم کر لوگی میں۔۔۔" ڈیول اس کے پاگل پن کو دیکھتے ہوئے آیت کے بال جھٹکتا دو قدم پیچھے ہوا تو آیت بھی اسے ہی دیکھنے لگی کہ اب کیا کرے گا ڈیول اس کے ساتھ تبھی ڈیول ایک ہاتھ جیب میں ڈالے دوسرے سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔۔۔
"تم شاید بھول رہی ہو ڈیئر۔۔۔ تمہاری ایک عدد دوست ہے اور وہ بھی میرے پاس اور تمہیں پتا ہے ایک حیوان انسان کے ساتھ اور خصوصاً عورت کے ساتھ کیا کیا کر سکتا ہے" آیت کو جیسے اب یاد آیا کہ عائشہ بھی اس کے ساتھ تھی اپنے باپ کی خودغرضی میں وہ اپنی دوست کو تو بھول ہی گئی تھی۔
"میں تمہیں جان سے مار دوں گی۔۔۔ اگر میری دوست کو کچھ بھی ہوا تو۔۔۔۔" آیت غصے سے دھاڑی اس کی حالت سے مزہ لیتا ڈیول مسکراہٹ سجائے اسے دیکھنے لگا اب لگا تیر ٹھیک نشانے پر۔
"تمہاری دوست بلکل ٹھیک ہے ڈیئر۔۔ لیکن اگر میری بات نہیں مانی تو کوئی گارنٹی نہیں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ بیوٹیشن اور ڈریس بھیج رہا ہوں تیار ہو جاؤ۔۔ اور اب کی دفعہ وارننگ نہیں دوں گا" ڈیول کہتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
لیکن آیت تو بیچاری پیچھے اپنی قسمت پر ماتم کرتی رہ گئی کیوں تھی اس کے نصیب میں اتنی نفرتیں؟؟ ایسا نکاح اور ایک حیوان سے نکاح؟؟ ایسا کسی لاوارث لڑکی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا ہوگا تو وہ کیا اتنی گئی گزری تھی۔۔۔ آیت اپنی سوچوں میں گم تھی جب ایک ادھیڑ عمر عورت کمرے میں داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں ایک ڑرے تھی۔
ٹرے سائیڈ پر رکھتی وہ عورت آیت کے پاس بیٹھتی خاموشی سے کانچ کی کرچیاں اس کے پیروں سے نکالنے لگی تو آیت بھی سسکتی ساری کارروائی چپ چاپ دیکھنے لگی پھر وہ عورت آیت کو سہارا دیتی بیڈ پر بیٹھا کر آیت کے پیروں کی ڈریسنگ کرنے لگی پھر آیت کو کھانا کھلاڑی باہر نکلی تو اندر ایک عورت بے تحاشا خوبصورت ڈیپ ریڈ کلر کا لہنگا سمبھالتی داخل ہوئی اس کے ساتھ میک اپ بکس سمبھالتی بیوٹیشن داخل ہوئی تو پیچھے دو اور عورتیں سجنے سنورنے کی دوسری اشیاء لیے حاضر ہوئی اور اپنے کاموں میں وہ تمام عورتیں مشغول ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"دلشاد کیا تم پلیز مجھے نوریز کی طرف ڈراپ کر دو گے" دلشاد جو اپنی کوئی فائل لینے گھر آیا تھا جانے لگا تو ہالے کی آواز پر پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
"ہالے۔۔۔ داہم بھی تو اسی طرف گیا ہے کچھ دیر پہلے تم اس کے ساتھ چلی جاتی۔۔۔" دلشاد مصروفیت سے کہہ گیا تو ہالے اسے کیا بتاتی وہ شیکسپیئر کا دادا ساتھ لے جانے کے بجائے اس کی گاڑی کا ٹائر پنکچر کر کے نکل گیا اور پھر یہ بھی تو بتانا پڑتا کہ اس نے ایسا کیا کیوں؟؟ ہالے نے رات کو اس کی پٹنگ میں الگ سے چینی کا کپ بھر کر ڈالا تھا اور داہم نے اپنا بدلہ لینے کے لیے سر ہلاتے داد دیتے کہا تھا
"بہت ذائقہ ہے تمہارے ہاتھ میں مس ہالے آفریدی میں کل ضرور میرے لیے اس اسپیشل پٹنگ کا تحفہ دو گا تمہیں" جس پر زریش بیگم نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے اور ہالے دونوں کو دیکھا تھا وہاں صرف یہ تین افراد ہی تھے کیونکہ وہاب صاحب اور دلشاد ایک پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے پہلے ہی کھانا کھا کر نکل چکے تھے۔
داہم کی بات پر ہالے نے سر جھٹک کر "ہننننہ" کیا تو داہم دھیرے سے مسکرا گیا جبکہ زریش بیگم کو داہم کا ہالے کو تم کہہ کر مخاطب کرنا برا لگا تو بولی
"داہم ضرور تحفہ دینا۔۔۔۔لیکن ہالے کو آپ کہا کرو تم سے دو سال بڑی ہے" جس پر ہالے طنزیہ مسکراتی داہم کو دیکھنے لگی۔ تو داہم اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا
"اوہ یس مام۔۔۔۔ اتنی عمر ہو گئی ہے ان کی کہ انہیں انہیں ضرور "آپ" ہی کہوں گا" جس پر زریش بیگم نے اسے گھور کر دیکھا تو ہالے کو صدمہ ہی لگ گیا "اتنی عمر" جس پر داہم کو ٹھنڈک اپنے دل پر اترتی محسوس ہوئی۔ ہالے آفریدی کو صدمہ دینے کی ہمت صرف "داہم وہاب خانزادہ" میں ہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
.jpg)
0 Comments