نمل نماز پڑھ رہی تھی جب جنت بیگم اس کے دروازے پر ناک کرتی اندر داخل ہوئی وہ تو نمل کے لیے کھانے کی ٹرے لیے ملازمہ کے ساتھ آئی تھی لیکن نمل کو نماز پڑھتے دیکھ ملازمہ کو ٹرے رکھنے کا کہتی باہر جانے کا اشارہ کرتی خود کاؤچ پر جا کر بیٹھ گئی وہاں سے نمل کا چہرہ صاف نظر آرہا تھا جنت بیگم نمل کے چہرے پر نور کو دیکھنے لگی اسے کا چہرہ اور عبادت میں مشغول ہونا گواہی دیتا تھا کہ اس کی عبادت اللہ کو کس قدر پسند ہو گی انہوں نے اتنی خوبصورت اور معصومیت بھری لڑکی کہی نہیں دیکھی تھی ہاں ہالے بھی بلاشبہ بہت خوبصورت تھی اور چنچل بھی لیکن نمل کی شخصیت میں ایسا کچھ تھا کہ اس سے کسی کو بھی اپنائیت محسوس ہونے لگتی۔ 


جب نمل نے نماز مکمل کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جابجا گالوں پر نکل آئے وہ تو اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اللہ نے اس کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک محفوظ جگہ دے دی تھی۔ لیکن جنت بیگم یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ پریشان ہے کہ اب کیا کرے گی یا اب کہاں جائے گی اتنی سی عمر میں وہ دربدر ہو گئی تھی۔


نمل جائے نماز اٹھاتی جب پلٹی تو جنت بیگم مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی پھر نمل کی نظر کھانے کی ٹرے پر گئی تو جنت بیگم نے کھڑے ہو کر اسے اپنے ساتھ لگایا اور صوفے پو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔


"نمل بیٹا۔۔۔۔۔ آپ پریشان نہ ہو یہ آپ کا ہی گھر ہے" جنت بیگم نے کھانے کا نوالا بنائے نمل کے منہ کے قریب کیا تو نمل کو بچپن کا زمانہ یاد آیا جب برقہ اسے یونہی نوالے بنا کر کھلاتی تھی۔ نمل نے نوالا منہ میں ڈالتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تو جنت بیگم نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا 


"آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو اپ نا بلا جھجک مجھ سے کہہ دینا ہے" نمل نے پھر اثبات میں سر ہلایا تو جنت بیگم جانے کے لیے اٹھ گئی لیکن دروازے تک پہنچ کر پلٹی 


"نمل بیٹا کل داہم۔۔۔ وہ جس سے آپ کی دوپہر میں ملاقات ہوئی تھی" جنت بیگم کے کہنے پر نمل نے پھر اثبات میں سر ہلایا تو جنت بیگم اپنی ادھوری بات مکمل کرنے لگی 

"اس کی فیملی ڈنر پر انوائیٹ ہے ہماری طرف کل تو آپ بھی تیار رہئے گا۔۔۔۔ داہم امریکہ سے آیا تھا تب سے پلین ہے کل کا ڈنر۔۔۔ لیکن آپ بھی ضرور ہمارے ساتھ شامل ہوئیں گا۔۔۔ اور اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو آپ مجھے بتا دیں۔"


جنت بیگم کے بات مکمل کرنے پر نمل نے نفی میں سر ہلایا تو جنت بیگم کھلکھلا کر ہنسنے لگی جبکہ نمل حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی کہ۔اچانک انہیں کیا ہوا؟؟ پھر جنت بیگم بولی


"بیٹا جب سے آئی ہو اپنے نام کے علاوہ کوئی لفظ ہی نہیں بولا آپ نے صرف سر ہی ہلائے جا رہی ہیں۔۔۔ مجھے آپ کی آواز پسند آئی ہے یقین جانے" جنت بیگم کے بولنے پر نمل شرمندہ ہوگئی اور بولی 


"جی آنٹی" جنت بیگم مسکراتی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ نمل سوچ میں پڑ گئی اس گھر کے مکین کتنے رحم دل اور خوشامد تھے پھر کھانا کھانے لگی۔ دوپہر میں اس نے جنت بیگم کے اصرار پر بھی جوس پینے پر اکتفا کیا تھا اور اب تو بھوک بھی لگ رہی تھی 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


"بھول نہیں سکتے تم اسے؟؟" آج پھر نوریز نے وہی سوال کیا جو بے حد تکلیف دہ تھا۔ نوریز اور دلشاد آج پھر سڑک کے کنارے گاڑی کھڑی کیے اعتراف میں کھڑے تھے 


"بھولنا چاہتا ہوں پر صرف "چاہ" ہی سکتا ہوں" ایک دفعہ پھر کرب بھرا وہی جواب آیا۔ دلشاد نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سرد آہ بھرتے آنکھیں بند کئے جواب دیا تھا۔ جس پر نوریز نے اس کی طرف بڑھتے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا جیسے اسے تسلی دینا چاہتا ہو لیکن کیسی تسلی ایک عرصہ ہو گیا تھا جب سے وہ اس تکلیف سے گزر رہا تھا 


ایک وقت تھا جب وہ بھی خوشیوں سے بھرپور زندگی گزارتا تھا لیکن ایک یہ وقت تھا جب وہ صرف اپنوں کے لیے ہی جی رہا تھا اور ایک امید پر صرف وہی امید تھی جو شاید دلشاد وہاب خانزادہ کو خوشیوں سے بھرپور زندگی کی نوید سنا سکتی تھی اور اس امید سے صرف نوریز ہی واقف تھا۔


"ایک وقت تھا جب تم کہتے تھے کہ تمہیں وہ پسند نہیں" نوریز نے اسے اس کی کسی زمانے میں کہی خوئی بات یاد دلائی۔ تو دلشاد بھی مسکراتا ہوا چاند پر نظریں جمائے ہوئے بولا۔


"آج بھی کہتا ہوں" دلشاد تو آج بھی اپنی کہی بات پر قائم تھا

"تم اس سے محبت کرتے ہو "دلشاد وہاب خانزادہ" نوریز کو اس کی بات پر جیسے ہنسی آئی اور دل کھول کر مسکراتے ہوئے بولا۔


"میرے دل میں اس کی محبت" دلشاد وہاب خانزادہ" کو آج بھی تکلیف دیتی ہے" اس کی بات پر نوریز نے بات بدلنا ہی مناسب سمجھا کراچی کی میٹنگ کا پوچھنے لگا تو دلشاد نے بتایا 


"اچھی رہی جس کام کے لیے گیا تھا وہ کام ہوگیا" دلشاد مسکراتے ہوئے کہ کیا پھر نوریز سے داہم کے بتائے ہوئے واقعے کے بارے میں پوچھنے لگا تو نوریز بھی بتانے لگا پھر دلشاد کسی سوچ کے تحت بولا 


"تم کہوں تو کسی ادارے کے بارے میں ڈیٹیل نکلواو کہ وہ لڑکی کیا نام بتایا تم نے؟؟" دلشاد بات کرتے کرتے رک کر پوچھنے لگا تو نوریز کی آنکھوں میں نام بتاتے ہوئے چمک آئی 


"نمل" نوریز نے دل سے مسکراتے ہوئے دلشاد کو بتایا تو دلشاد کو اس کے انداز پر حیرت ہوئی تو بنا وقت ضائع کیے پوچھ بیٹھا 


"حیریت ہے؟" دلشاد کے پوچھنے پر نوریز نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا "کیا" تو دلشاد نے لمبی سانس کھینچی 


"میں نمل کے حوالے سے کسی ادارے میں بات کرو؟ دلشاد نے کہا تو نوریز نے اطمینان سے اسے بتایا 


"نہیں۔۔۔ ماما نمل کو اپنے گھر ہی رکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔ انہیں شکایت ہے مجھ سے اور ڈیڈ سے کہ ہم انہیں ٹائم نہیں دیتے۔۔ تو اب وہ نمل کو بیٹی بنا کر رکھنا چاہتی ہے تو ڈیڈ نے بھی ان کے فیصلے پر اکتفا کیا ہے" نوریز کے بتانے پر دلشاد اور نوریز بزنس کی باتیں ڈسکس کرنے لگے کیونکہ وہاب انڈسٹری اور یوسفزئی برادرز بزنس پارٹنرز تھے۔


یوسفزئی برادرز نام کی وجہ کاشان صاحب اور احان صاحب تھے یہ بزنس کاشان صاحب نے ہی شروع کیا تھا لیکن نام انہوں نے یہ رکھا تھا وجہ احان صاحب سے محبت تھی اور ہوتی بھی کیوں نا احان صاحب بھی تو جان دیتے تھی اپنے بھائی پر


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آیت کو ڈیول کے کمرے میں بیٹھایا گیا تھا بے تحاشا بہترین گولڈن اور بلیک تھیم سے سجا ایسا کمرہ جو خود ہی محل جیسا تھا جہاز سائز بیڈ آج گلاب کی سرخ پتیوں سے سجا ہوا تھا اور آیت کو اس کے بیچ میں لہنگا پھیلائے بیٹھایا گیا تھا اور آیت اب سہی معنوں میں گھبرا رہی تھی۔


 اتنے میں ہی کوئی اندر داخل ہوا اس کے قدموں کی چاپ ہی بتا رہی تھی کہ وہ ڈیول ہے آیت نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ اپنے واچ کھول کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا کوٹ اتار کر ہینگ کرتا کف فولڈ کرتا بیڈ کے قریب آرہا تھا اور آیت سانسیں روکے اسے دیکھ رہی تھی وہ آیت کے قریب بیٹھتا مسکراتی نظروں سے اسے ہے دیکھ رہا تھا آیت پہلو بدل کر پیچھے کی طرف کھسکی تو ڈیول اس کی کلائی پکڑتا پیچھے ہونے کی کوشش ناکام کر گیا تو آیت اسے خونخوار نظروں سے گھورنے لگی


"تم دور رہنا مجھ سے۔۔۔ سمجھتے کیا ہو خود کو" آیت کی بات سن کر ڈیول کے لب مسکرائے۔ جبکہ وہ بیچاری تو اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے میں ہلکان ہو رہی تھی


"دور تو ڈارلنگ رہ نہیں سکتا اب۔۔ اور سمجھتا خود کو تمہارا شوہر ہوں" ڈیول کی بات سن کر آیت کو جیسے آگ ہی لگ گئی تو لٹھ مار انداز میں بولی 


"ہننننہ۔۔۔ کڈنیپر شوہر" اس کے انداز پر ڈیول کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا تو آیت اس کے ڈیمپل دیکھنے لگی جو شاید تب ہی پڑتے تھے جب وہ دل کھول کر ہنستا تھا شاید تب بھی پڑے تھے جب وہ اپنے باپ کے زخموں کو جھیل رہی تھی لیکن اس وقت پرواہ کسے تھی۔ ڈیول آیت کو خود کو دیکھتے پاکر شرارت لیے بولا 


"اتنا ہینڈسم لگ رہا ہوں۔۔۔۔ جو ایسے گھور رہی ہو" آیت ڈیول کی بات پر گڑبڑا پر سیدھی ہوئی اور پہلو بدل کر بولی 


"زہر لگ رہے ہو" ڈیول پھر دل کھول کر مسکرایا۔ مافیا کنگ کو کوئی ایسے دیکھ لیتا تو انکار کر دیتا اس کی وحشت اور خوف سے اسکے بے رحم شوٹر ہونے سے۔ ڈیول کو آیت کا یوں بہادر ہونا ہی تو پسند تھا وہ اپنا خوف آیت کی زندگی میں کچھ جگہ پر ہی رکھنا چاہتا تھا اسی لیے اسے ریلیکس کر رہا تھا اور اس کے آنسو بھی تو ڈیول کو عجیب تکلیف میں ڈال رہے تھے اور آج تو وہ خوب روئی تھی۔


"اسی لیے ایسے گھور رہی تھی کہ مجھے اپنی عزت بچانے کی فکر ہوئی" ڈیول کے بولنے پر آیت حیران ہوئی کہ اس نے تو ایسا سوچا بھی نہیں وہ تو بس۔۔۔۔ اففف یہ شخص اسے پاگل ضرور کر دے گا 


"اور تم جو کب سے مجھے گھورے جا رہے ہو وہ" آیت کے بولنے پر ڈیول مسکرا گیا اور بے باکی سے پھر آیت کے چہرے کو حصار میں لیے بولا


"شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ دیکھ سکتا ہوں" ڈیول کے بولنے پر آیت کو عائشہ کی یاد آئی جو ناول کی دیوانی تھی اور سالار سکندر پر فدا تھی تو اس نے آیت کو بھی اسکے بہت سے ڈائیلاگ سنائے تھے کیونکہ آیت کو ناولز میں دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن ہاں سالار سکندر کی اتنی تعریف سن کر اسے بھی کرش ہوگیا تھا 


" ہننننہ۔۔۔ ایسے تم سالار سکندر" آیت کے بولنے پر ڈیول کی آنکھوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی ڈیول نے آیت کا بازو پکڑ کر خود کے قریب کیا تو آیت کی سسکی نکلی آیت نے جب سر اٹھا کر ڈیول کی طرف دیکھا تو اس کی گرم سانسیں آیت کو اپنے چہرے پر پڑتی محسوس ہوئی ڈیول کی نیلی آنکھوں میں لہو کی ڈوریاں دیکھ کر آیت کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی اور اسے ڈیول سے بے جاں خوف آیا 


"کون سالار سکندر؟؟" ڈیول کے پوچھنے پر پہلے آیت حیران ہوئی کہ اس نے اس بات پر ایسا ری ایکشن دیا تھا لیکن پھر سمجھتی کہ اس غنڈے کو کیا پتا سالار سکندر کا اور پھر بڑی مشکل سے ہمت کر کے بولی



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔