"ناول کا کریکٹر ہے" تو ڈیول نے جیسے نا سمجھی سے پوچھا
"کیا" تو آیت کو بولنا اتنا مشکل لگا جیسے پہلی دفعہ بول رہی ہو بازو بھی تو اتنے زور سے دبوچ رکھا تھا اس غنڈے نے کہ زبان سے الفاظ ہی نہیں نکل رہے تھے
"بک ہوتی ہے اس میں کہانی کے ہیرو کا نام ہے" آیت کی بات سن کر ڈیول کے اعصاب ڈھیلے پڑے اور آیت کا بازو آزاد کرتا پیچھے ہو کر بیٹھا اور آیت بازو مسلتی رہ گئی اور اس غنڈے شخص کو دیکھے گئی کی اتنی سی بات پر اس کی آنکھوں میں اتنی وحشت تھی اور رویہ تو کس قدر۔۔۔۔
"آئیندہ کے بعد اپنے منہ سے کسی بھی نامحرم کا نام مت لینا" ڈیول کے الفاظ سن کر آیت رخ بدل گئی ڈیول بیڈ سے اترتا ڈریسنگ روم جانے لگا تو آیت کی آواز اس کے کانوں میں پڑی
"میری دوست کو چھوڑ دو اب" آیت کی بات سن کر ڈیول اپنی جگہ پر کھڑا پیٹھ موڑے ہوئے ہی بولا
"ڈارلنگ۔۔۔۔ اسے تو تم سے یہاں پر ہونے والی پہلی ملاقات کے بعد ہی اس کے گھر روانہ کردیا تھا" ڈیول کی پیٹھ آیت کی جانب ہونے کے باوجود آیت بتا سکتی تھی وہ مسکراتے ہوئے یہ بات بول رہا تھا اور آیت تو بیچاری اس کی بات سمجھتے ہی اپنی بیوقوف بننے پر ماتھا پیٹ گئی
"افففف یہ حد سے زیادہ چالاک غنڈہ" ڈیول آیت کی اندیکھی حالت سے لطف اندوز ہوتا ڈریسنگ میں گھس گیا۔
ڈیول باہر آیا تو آیت ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنے ڈوپٹہ اتارنے میں ہلکان ہو رہی تھی آیت کی طرف قدم بڑھاتا ڈیول ٹھیک اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا۔ آئینے میں اب ڈیول اور آیت دونوں ہی مکمل سے لگ رہے تھے آیت کی نظر جیسے ہی ڈیول کے شبیہ پر پڑی بلیک ٹراؤزر اور شرٹ میں، گیلے بال جو ماتھے پر بکھرے تھے کسرتی ابھرے ہوئے بازو جو ٹی شرٹ کی تقریباً نا ہونے والی آستینوں سے واضح طور پو نظر آ رہے تھے، آیت یونہی تو اسے دیکھ کر گم نہیں ہو جاتی تھی وہ تھا ہی اتنا وجیہہ۔
آیت ڈیول کو بے اختیار دیکھتے ہوئے اپنی سوچوں میں گم تھی جب ڈیول نے اپنے نیلی آنکھوں کو جنبش دی تو آیت گڑبڑا کر سیدھی ہوئی
"کوئی ہیلپ چاہیے؟؟ مائے لیڈی" کیا انداز تھا اتنا شائستہ اتنا باروعب اگر جیک اور ہشام دیکھ لیتے تو اس شخص کو اپنا ڈیول کنگ ماننے سے فوراً انکار کر دیتے۔ جبکہ آیت کو پھر جھٹکا لگا اس کے کبھی پل میں تولا اقر پل میں ماشہ والے انداز سے۔
"جاکر چپ کر کے کاؤچ پر سو جاو۔۔۔ یہ ہیلپ چاہیے" آیت لٹھ مار انداز لیے دی گریٹ ڈیول کنگ کو حکم دے گئی جس کے سامنے بولنے سے بھی لوگ خوف کھاتے تھے۔ ڈیول کو آیت کا یہ انداز ہی تو پسند تھا
"Sorry my lady…. I can't do this"
جواب بھی فوراً آیا
"ہننننہ۔۔۔ تو بکواس نہیں کرو ہٹو۔۔۔ مجھے اور بھی کام ہیں" آیت کے بولنے پر ڈیول نے آگے بڑھ کر آیت کے ڈوپٹے سے پینز نکالی تو آیت اسے گھور کر رہ گئی اور پینز نکالنے دی کیونکہ کم سے کم یہ کام آیت کے بس کا نہیں تھا لیکن یہ کا یہاں تک بھی محدود نہیں تھا نا۔
ڈیول ڈوپٹہ الگ کرتا سائیڈ پر رکھ گیا تو آیت پلٹنے لگی لیکن ڈیول اسے دوبارہ اسی پوزیشن میں رکھتے ہوئے اسکے زیورات اتارنے لگا تو آیت غصے سے اسے دیکھنے لگی جسے ڈیول نے اسے دیکھا جیسے بڑے پیار سے دیکھ رہی ہو۔ اب صرف چوڑیاں اور پازیب رہ گئی تھی چوڑیاں ڈیول نے نہیں اتاری تھی وہ تو اسے آیت کے ہاتھوں میں بہت جچ رہی تھی لیکن جب پازیب اتارنے کے لئے ڈیول اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور آیت کا پاؤں اٹھا کر اپنے دوسرے گھٹنے پر تو آیت کے دل نے ایک بیٹ مس کی اففففف۔
وہ شخص مافیا کنگ تھا جس کے سامنے دنیا گھٹنے ٹیک دیتی تھی وہ ڈیول کنگ آج اپنی بیوی کے سامنے گھٹنے ٹیکے اس کی پازیب اتار رہا تھا۔
ڈیول سیدھا کھڑا ہوتا ہاتھ بڑھا کر آیت کے بال کھول گیا تو آیت کی ریشمی زلفیں بکھر گئی ڈیول آیت کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اس کے مزید قریب ہو رہا تھا جب آیت کا پڑنے والا پنچ ڈیول کو اس سے چار قدم دور کر گیا ڈیول بے یقینی سے آیت کے اچانک حملے کو اپنا جبڑا تھامے دیکھے گیا اور آیت تو پہلے غصے اور پھر مزے سے اس کے تاثرات دیکھتے ہوئے ایک ادا سے اپنے بال جھٹک کر پیچھے کر گئی۔
"تم نے مجھے پنچ مارا۔۔۔ تمہیں پنچ مارنا اتا ہے؟؟" ڈیول کے الفاظ آج لڑکھڑا گئے وہ اس وقت ڈیول نہیں ایک عدد شوہر تھا جس کو اس ہی کی بیگم نے شادی کی پہلی رات پنچ کا تحفہ پیش کیا تھا
"یقین نہیں ہوا تو یہ عمل دوبارہ کرو؟؟" اطمینان سے پوچھا گیا
"Why not?..."
اب کے ڈیول سیدھا کھڑا ہوتا ہوا بولا تو آیت نے بنا دیر کئے پنچ مارنا چاہا لیکن ڈیول نے اس کا پنچ ناکام کر دیا تو آیت مسکراتے ہوئے اتنے بھاری لہنگے کو سمبھالتے ایک زور دار کک ڈیول کو دے ماری ڈیول تو بس پنچ کھا کر یہی سمجھا تھا کہ آیت کو بس پنچ ہی مارنا آتا ہے لیکن نگینوں سے جڑا لہنگا جو خود ڈیول کی پسند تھی زہر لگ رہا تھا اس وقت اسے۔
پیٹ میں شدید درد کی لہر اٹھی تھی کٹاؤ ہیروں اور سونے کی تار جو چبھی تھی ورنہ ایت کی کک کم سے کم ڈیول پر ویسے اثر نہیں کرتی جیسے باقی لڑکوں پر کرتی۔ ڈیول آیت کو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا اور آیت نے اسے ایک آنکھ ونک کی
"مائے مین۔۔۔ مجھے لڑکوں سے بات نہیں موقعالات کرنا زیادہ پسند ہے" آیت کے انداز پر ڈیول اسے کمر سے تھام کر اپنے روبرو کر گیا
"اور اگر کسی لڑکے نے جرت بھی کی میری لیڈی سے بات کرنے کی تو تمہارا مین اسے کتے کی موت دے گا" ڈیول آیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس ہی کت انداز میں ایک انکھ ونک کرتے بولا تو پھر آیت کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ ڈیول پیچھے ہوتا ایت کو ڈریسنگ روم جانے کا اشارہ کر گیا تو آیت بھی وہاں سے چلی گئی جب باہر نکلی تو گولڈن سوٹ پہنا ہوا تھا جس کے گلے اور بازوؤں پر ہلکی کڑھائی نفاست سے کی گئی تھی ڈیول نے اس کے لیے صرف مشرقی ڈریسز ہی رکھوائی تھی
آیت کو یہ ڈریسز پہنے کی عادت کہا تھی۔ ڈیول کاؤچ پر لیپ ٹاپ گود میں رکھے ٹیبل پر پیر پھیلائے بیٹھا تھا جب نگاہ آیت پر اٹھی تو جھکنا بھول گئی وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی آیت اس کے پاس آکر کچھ بولنے ہی والی تھی کہ
"آئیندہ ایسی ڈریسز ہی پہنو گی تم۔۔۔۔ اور اب سو جاؤ ورنہ اگر نہیں سوئی تو ڈارلنگ بہت پچھتاؤ گی" ڈیول اس کے ارادے کو جانتا کہ کیا کہنے والی ہے اپنی ہی سنا کر بیڈ کی طرف اشارہ کرتا آخری بات شرارت سے بول گیا جس پر آیت غصے سے پیر پٹختی بیڈ کے درمیان میں چت لیٹتی دونوں سائیڈ تکئیے رکھ گئی ڈیول کو بیڈ پر نا آنے دینے کے لیے جبکہ ڈیول اس کی اس چلاکی پر مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا ناجانے کان سا پہر تھا جب نوریز اپنا گٹار لیے گارڈن میں گنگنا رہا تھا۔ نمل تہجد پڑھنے اٹھی تھی لیکن ابھی ٹائم تھا تو اس گنگناہٹ کو سننے کے تجسس میں باہر نکل آئی جنت بیگم نے اسے گھر تو شام میں ہی دیکھا دیا تھا سوائے نوریز کے روم کے اب نوریز کا روم دیکھاتی بھی کیوں ضروری نہیں سمجھا۔
نمل گارڈن تک آتی پھر نوریز کی پیٹھ دیکھ کر رک گئی اور واپس جانے کے لئے پلٹی تھی۔ گٹار کے تار چھیڑتا کسی احساس کے تحت پلٹا تو نمل کو دیکھ کر گٹار سائیڈ پر رکھتا نمل کو مخاطب کر گیا جو وہاں سے جانے کے لیے پلٹی ہی تھی
"آپ۔۔۔ آپ کو کچھ چاہیے تھا؟؟" نوریز اچانک اس وقت نمل کو یہاں دیکھتا ہوا بولا تو نمل گھبراتے ہوئے پلٹی کہ اب کیا بولے گی
"وہ تہجد پڑھنے اٹھی تھی تو ابھی ٹائم نہیں ہوا" نمل گھبراہٹ سے آدھی بات بول سکی تو نوریز سمجھ گیا وہ گنگناہٹ سن کر یہاں تک آئی ہے کیونکہ جو روم نمل کے پاس تھا اس کی کھڑکی کا رخ گارڈن کی طرف تھا ورنہ تو نوریز اتنا اونچا بھی نہیں گنگنا رہا تھا کہ سب خوامخواہ ہی نیند سے بیدار ہوجائے۔
"آپ بیٹھ جائے یہاں۔۔۔ کچھ ہی ٹائم رہتا ہے" نوریز نے کیا۔
"نہیں وہ بس میں ویسے ہی" نمل کوئی بہانہ بنانے لگی ہی تھی کہ
"بیٹھ جائیں یقین کرے میں انسان ہی ہوں۔۔۔ جنت نہیں" نوریز اس کا ارادہ سمجھتا اس کی کوشش ناکام کر گیا تو نمل بھی شرمندہ سی ہوتی بیٹھ گئی تو نوریز بھی اپنی جگہ پر بیٹھ گیا
"آپ کہاں تک پڑھی ہیں؟؟" نوریز کی بات پر نمل نے نفی میں سر ہلایا تو نوریز حیران ہوا آج کل تو یتیم خانوں میں بھی پڑھائی عام تھی تو پھر۔۔۔ نوریز نمل کے جھکے سر کو دیکھ کر ندامت کا شکار ہوا
"کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ کا بہترین مشغلہ کیا ہے؟؟" نوریز نے پوچھا
"کچھ نہیں۔۔۔" نمل اسے کیا بتاتی جس ماحول میں پلی تھی وہاں مرد حضرات کے مشغلے کا سامان بنا جاتا ہے۔
"آپ کتنے برس کی تھی جب یتیم خانے پہنچی؟؟" نوریز نے یونہی پوچھا
"شاید پیدا ہوتے ہی وہی پہنچی تھی" ایک اور جھوٹ نمل نے خود کو بولتے سنا تو نوریز نے گٹار تھام لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
.jpg)
0 Comments