"آپ کا کونسا فیورٹ گانا ہے؟؟" نوریز کے سوال پر نمل نے ہنوز نظریں نیچے رکھے نفی میں سر ہلایا وہ کیا بتاتی کہ جہاں پیدا ہوئی وہاں رقص کی دھنیں جب جب سنائی دیتی تو نمل خود کے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتی تھی اسے نفرت تھی ان دھنوں ان ساز سے لیکن نوریز کا گنگنانا نمل کو ایک ساحر سی کی آواز لگی تبھی تو کھینچی چلی آئی تھی یہاں۔


نوریز سمجھا کہ یتیم خانے میں الگ سے موبائل کسے ملتا ہے اور گانا بجانا کہاں ہوتا ہوگا تو نمل نے بھی شاید کبھی گانے نا سنے ہو۔


"میں سناؤ۔۔۔۔ اپنا کوئی فیورٹ سونگ؟؟" نوریز کے کہنے پر نمل نے پہلی دفعہ نوریز کی طرف دیکھا کالی آنکھیں سبز آنکھوں سے جا ملی تو نوریز کے دل نے ایک بیٹ مس کی وہ آسمانی کلر کا سوٹ پہنے تھی اور ڈوپٹہ گول کر کے چہرے کے گرد لپیٹ رکھا تھا چاند کی چاندنی میں نمل برقہ اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی اور نمل اس خوبرو نوجوان کو دیکھ رہی تھی بلیک ٹراؤزر اور وائٹ ٹی شرٹ میں ماتھے پر بکھرے بال وہ بے حد عام سے حلیے میں بھی نمل کو وجاہت کا شہکار لگا۔


اس کا گٹار جو اس نے اپنے کسرتی بازوں میں تھام رکھا تھا رات کے اس پہر بھی چمک رہا تھا شاید نوریز کو وہ محبوب تھا وہ اندازہ ہی لگا سکی اور اس کی اوپری جگہ پر "NKY" لکھا تھا نمل کو اتنا پڑھنا تو آتا تھا۔ تو نوریز کی بات نظر انداز کرتی 


"یہ NKY مطلب؟؟" تجسس سے پوچھ بیٹھی جبکہ اس کی بات پر نوریز حیران ہوتا بتانے لگا


"میرا پورا نام Nouraiz kashan yousfzai" نوریز کے بولنے پر نمل نے اثبات میں سر ہلایا تو نوریز نے پوچھا 


"آپ کو پڑھنا آتا ہے؟" جس پر نمل نے سر اثبات میں ہلایا 

"ایک آنٹی تھی وہاں انھوں نے قرآن کریم پڑھنا اور تھوڑا بہت سکول کا بھی پڑھایا تھا اردو اور انگلش پڑھ لیتی ہوں" نمل کے بولنے پر نوریز نے اثبات میں سر ہلایا اور گٹار سے اشارہ کرکے وہی پرانا سوال دہرایا جس پر نمل نے نفی میں سر ہلا کر اتنا کہا


"تہجد کا ٹائم ہو گیا ہے میں چلتی ہوں" وہ کہہ کر گھر کے اندر چلی گئی تو نوریز بھی اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر خود سے ہی مخاطب ہوا


"کیا مجھے نمل سے محبت ہو گئی ہے لیکن اچانک کیسے۔۔۔ کیا دلشاد سہی کہہ رہا تھا نمل کا نام لیتے میری آنکھوں میں چمک آجاتی ہے؟؟"


…………………………………………………….


آیت کی آنکھ صبح کھلی تو خود کو ڈیول کے حصار میں پایا وہ آیت کا سر اپنے سینے پر رکھے چت لیٹے سویا ہوا تھا آیت نے جب نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ ایک عدد غنڈہ کڈنیپر شوہر اسے بہت معصوم لگا جو بلا کی معصومیت لیے سو رہا تھا آیت کو اچانک اس کا ڈمپل یاد آیا تو اس کے گال پر ہاتھ پھیر گئی ڈیول ایک آنکھ کھولتا ہنسی دبا گیا 


"کسی کو بڑا پیار آرہا ہے" آیت ڈیول کے بولنے پر گڑبڑا کر ہاتھ پیچھے کرتی اس کا حصار توڑنے کی ناکام کوشش کرنے لگی تو ڈیول نے اپنا حصار مزید تنگ کردیا جس پر آیت چیختے ہوئے بولی


"پیار اور تم پر۔۔۔ آیت صدیقی ابھی دماغ سے فارغ نہیں ہوئی" ڈیول آیت کی چھوٹی سی ناک جو غصے سے سرخ ہوگئی تھی اسے لبوں سے چھوٹے ہوئے پھر اسی پوزیشن میں آگیا تو آیت کو اپنا دل کانوں میں بجتا محسوس ہوا نظریں جھکا گئی تو اس ادا پر ڈیول دل کھول کر قہقہہ لگا اٹھا آیت اس کا قہقہہ سنتے غصے سے اسے دیکھنے لگی


"آہاں۔۔۔ آیت صدیقی نا سہی آیت زین کمال تو ضرور فارغ ہو گئی ہے اپنے چھوٹے سے دماغ سے" ڈیول کے کہنے پر آیت کو مولوی صاحب کا ڈیول کا اصل نام لینا یاد آیا 


"تمہارا نام زین ہے؟" آیت غصہ بھلائے ڈیول کے سینے پر تھوڑی لگائے پوچھنے لگی تو ڈیول کو اس کا انداز پسند آیا آہستہ آہستہ آیت ان کے رشتے کو بھی دل سے قبول کر ہی لے گی۔


"واہ ڈارلنگ۔۔۔ تم شادی کی پہلی صبح اپنے شوہر کا نام کنفرم کر رہی ہو" ڈیول کے الٹے سوال پر بھنویں اچکا کر بولی۔


"ہاں۔۔۔۔ کیونکہ میرا شوہر ایک عدد غنڈہ کڈنیپر جو ہے جس نے مجھے اغوا کر کے شادی کی ہے" آیت نے ناک سے اڑانے والے انداز میں کہا تو ڈیول مسکرا اٹھا۔


"اب موقعالات کرنے والی لڑکی سے کوئی سادہ طریقے سے شادی تو نہیں کوسکتا نا" ڈیول کے انداز میں آیت پہلی دفعہ مسکرا گئی اور ڈیول کو ماری کک یاد آئی۔ آیت کی مسکراہٹ کو ڈیول سمجھتے ہوئے اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا سیدھا ہو کر بیٹھا 


"شام کو پارٹی رکھی ہے تو تمہاری ڈریس اور ساری ضرورت کی چیزیں آجائیں گی وقت پر تیار ہوجانا۔۔۔۔

اور اب جلدی فریش ہو جاؤ ساتھ ناشتہ کرتے ہیں"


آیت ڈیول کی بات پر منہ بناتی فریش ہونے چلی گئی تو ڈیول نے ہشام کو کال کر کے پیلس آنے کا کہا اور پھر خود اپنے گلاب سے سجے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے خود سے مخاطب ہوا


"ایک دن تم خود مجھے میرا حق دو گی اور میں اس دن کا منتظر رہوں گا آیت زین کمال" آیت کے باہر آنے پر زین اسے بنا دیکھے فریش ہونے چلا گیا تو آیت پہلے حیرت اور پھر کندھے اچکا کر تیار ہونے چلی گئی


…………………………………………………….


نمل صبح فجر کت بعد قرآن پاک کی تلاوت کر کے سوئی 11 بجے اٹھی تو فریش ہوکر باہر آئی جہاں کاشان صاحب اور جنت بیگم ناشتہ کر رہے تھے نمل کو دیکھتے ہی کاشان صاحب شفقت سے بولے


"آؤ بیٹا ۔۔ ناشتہ کرو ہمارے ساتھ" جنت بیگم بھی مسکراتی ہوئی نمل کو دیکھنے لگی تو نمل بھی ناشتہ کرنے لگی تو جنت بیگم کچھ سوچتے ہوئے بولی


 "احان کب تک آئے گا؟" 

"ابھی دو دن لگے گے" کاشان صاحب بولے تو جنت بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور نمل کو دیکھنے لگی جو اس گھر میں دوسرے دن ایک نیا نام سن رہی تھی۔


"احان میرا دیور ہے" جنت بیگم کے بتانے پر نمل مسکرا کر ناشتہ کرنے پر متوجہ ہوئی۔ ناشتے کے بعد جنت بیگم کے اتنے منع کرنے کے باوجود بھی نمل کچن میں ان کی مدد کرنے لگی رات کو وہاب ولا کے مکینوں کی دعوت جو تھی۔


……………………………………………………


عنایہ کی اج مایوں کی رسم تھی وہ پھر بھی ہاسپٹل میں تھی جب اسے جمال صاحب کی کال آئی 


"ڈیڈ بس نکل رہی ہوں" عنایہ بولی


"عنایہ 25 سال کی ہو تم بیٹا اور تمہیں یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے مجھے کہ کچھ دنوں کے لیے ڈاکٹر نہیں ایک دلہن بنی کر رہنا چاہیے تمہیں" جمال صاحب کی خفا سی آواز اس کے کانوں میں گونجی 


"ڈیڈ۔۔۔ میری عمر مت گنوایا کریں نا" عنایہ تو ان کی ناراضگی بھلائے خود ہی ناراض ہو گئی۔


"اچھا سوری۔۔۔۔ اب جلدی آ جاؤ" جمال صاحب کے کہتے ہی عنایہ مسکراتے ہوئے پوچھا۔


"ڈیڈ۔۔۔ زی بھائی آئیں گے؟؟" عنایہ کے پوچھنے پر جمال صاحب نے لمبی سانس کھینچ کر ہوا کے سپرد کی


"افکورس۔۔۔ وہ اپنی پرنسس کے لیے ضرور آئے گا" جمال صاحب پریشانی میں بھی اس کے ذکر پر مسکرا اٹھے۔


"اب جلدی آ جاؤ محترمہ" عنایہ ان کی بات پر ہنستے ہوئے سر جھٹک کر کال بند کرتی ہاسپٹل سے باہر نکلتی اپنی کار کی طرف بڑھ گئی۔


……………………………………………………


ڈیول اور آیت ناشتے سے فارغ ہوئے تو ڈیول باہر چلا گیا تو آیت ایک ملازمہ کے ساتھ پیلس کا وزٹ کرنے لگی آیت نے اس سے پہلے اتنا خوبصورت پیلس اپنی زندگی میں تو نہیں دیکھا تھا پیلس اتنا بڑا تھا کہ آیت نصف میں ہی ہار مانتی کمرے میں چلی گئی اس کا خود کا گھر بہت بڑا تھا لیکن اس پیلس کے سامنے تو اسے اپنا گھر ایک ڈبہ ہی لگا اور باہر اتنے گارڈ تھے چمچماتی گاڑیاں اور پیلس کے اندر صرف خاتون ملازمین وہ کمرے میں آرام کرنے کی غرض سے آئی تھی


لیکن بور ہوتی پھر اچانک عائشہ کا خیال آتے ہی وہ واپس نیچے گئی اور ملازمہ سے اس کا فون مانگنے لگی ملازمہ نظریں جھکائے پریشان ہو گئی


"یار دے دو واپس کر دو گی کھا نہیں جاؤ گی تمہارا فون" آیت بے بسی سے بولی تو ایک دوسری ملازمہ نی کہا 


"میم ہمیں اجازت نہیں ہے۔۔۔ ڈیول سر بہت برے پیش آئے گے ہم سے" آیت اس ملازمہ کی بات سنتی کچھ سوچتے ہوئے بولی


"تم اپنے ڈیییییییییییییول سسسسسسسسر۔۔۔۔ کا تو نمبر ڈائیل کر کے دے ہی سکتی ہو" آیت کے ڈیول کے نام لینے کے انداز میں دونوں ملازموں نے اپنی ہنسی دبائی اقر باہر ہیڈ گارڈ سے جا کر کال ملانے کا کہا تو کال ملتے ہی گارڈ نے ملازمہ کی کہی بات ڈیول کو بتائی اور کال آیت کے پاس پہنچا دی گئی جبکہ اپنے کرائم آفس کی ہیڈ چیئر پر بیٹھا ڈیول گارڈ کی بات سن کر مسکراتے ہوئے آیت کے کال پر آنے کا انتظار کرنے لگا۔


"ہیلو۔۔۔" آیت کی نسوانی آواز سن کر ڈیول کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

"کہو میری آفت۔۔۔ دل نہیں لگ رہا میرے بنا" ڈیول کے کہنے پر آیت نے فون کان سے ہٹا کر گھور کر دیکھا اور پھر واپس لگاتے دانت پیس کر بولی


"دل تو میرا تمہارے یہاں سے جاتے ہی خوش ہو گیا تھا۔۔۔ میرے غنڈے کڈنیپر شوہر" آیت نے حساب بے باک کیا تو ڈیول قہقہہ لگا اٹھا اگر ڈیول کے آفس کے باہر بیٹھے ہشام اور جیک اس کا قہقہہ سنتے لیتے تو خود کو ہی یقین دلانے کے لیے ایک بار ضرور شوٹ کرتے


……………………………………………………

جاری ہے۔۔۔۔۔