تیسرا چور لپک کر دلشاد کی طرف بڑھا تو دلشاد کی ایک کک سے ہی پیچھے جا گرا۔ اب منظر کچھ ہوں تھا دلشاد اور نوریز چوروں کی توبہ کروانے میں مشغول تھے اور کار میں بیٹھی ہالے اور نمل جو اب باہر نکلی بڑے مزے سے ان چوروں کو پٹتا دیکھ رہی تھی نمل تو اچانک چوروں کے حملے پر پریشان ہوگئی تھی کہ کہی شمس رفاقت یا ظہورا بائی کے لوگ تو نہیں جو اسے پکڑنے کے لیے یہاں آئے ہیں اور ہالے نمل کو بہت غور سے نوٹس کر رہی تھی


آئسکریم پارلر میں بھی نمل گھبراتی نگاہیں اور اب بھی جا اپنا ہاتھ دل کے مقام پر رکھتی مسلسل کچھ پڑھ رہی تھی شاید اللہ کا کلام۔ لیکن پھر سر جھٹک گئی کہ جس حالت میں نوریز کو ملی تھی اس سب سے ہی خوف زدہ ہے اور اسے ہمت دیتی پریشان نا ہونے کا کہتی باہر لے آئی جہاں نمل پہلے ہی خوف زدہ تھی اب چوروں کی پٹائی دیکھتی مسکرا رہی تھی۔


اور خاص خاص کر نوریز کو دیکھتی۔ اب جب چوروں نے توبہ کر ہی لی تو ہوئی پھر بھائی!! داہم صاحب کی اینٹری جو کہ نوریز کی ہیوی بائیک پر سوار تھے بائیک کھڑی کرتا داہم ان تک آیا۔ 


"What's up guys??"

داہم کے بولنے پر ہالے مسکرا کر بولی


"لنگر بٹ رہا ہے۔۔ تمہارا انتظار تھا۔۔۔ آ جاؤ"


"تو تم کیوں یہاں کھڑی ہو۔۔۔ کہی ختم تو نہیں ہو گیا۔۔ تمہارا تو فیورٹ ہے نا" داہم کے بولنے پر کوئی جواب دیتی کے ایک چور لڑکھڑا لر اٹھتا داہم تک پہنچا۔


"داہم بھائی۔۔۔ مجھے پہچانا یار بچا لے بہت مارا ہے ان لوگوں نے ہمیں" چور بیچارہ ہانپتے ہوئے بولا تو ہالے پوری ایڑیوں کے بل گھوم لر داہم کی طرف رخ کر گئی اور باقی سب بھی داہم کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ داہم چور کو جانتا ہے کیسے؟؟ 


تو دو چور بھی لڑکھڑاتے اپنے ساتھی کے پاس آکر کھڑے ہو گئے آس لیے کہ شاید اب بچ جائے کیونکہ دلشاد تو ڈی آئی جی کو کال ملانے والا تھا۔


"ارے تم۔۔۔ واہ اتنے دنوں بعد ملے۔۔۔۔" داہم مسکراتا ہوا بولا اور ہاتھ سے سلام کیا۔


"ہاں بھائی میں اور دیکھ کیا حالت کردی ہے ان جون سینا کی اولادوں نے" چور داہم سے سلام کرتا اپنی حالت پر غور کرتا بولا جس پر داہم ہنس پڑا تو دلشاد اور نوریز دونوں نے اپنے لیے جون سینا کی اولادوں والے الفاظ پر داہم کو گھور کر دیکھا۔


"ارے بھائی کیا ہوا؟؟ یہ جس بندے کو دیکھ رہے ہو نا یہی تو ہے وہ جس کی وجہ سے میں تم سے ملا اور ہاں۔۔۔ کیا کہا تھا تم نے میرا بھائی اگر کچھ بھی بولے مجھے تو تمھارے نمبر پر کال کر دو۔۔۔" داہم پہلے دلشاد کی طرف اشارہ کر کے پھر اس چور کی کراچی میں کی گئی بات یاد کرتا تھوڑی پر ہاتھ رکھے سوچتا ہوا بولا۔


"ارے بھائی نہیں۔۔۔ نہیں میں نے ایسا کچھ نہیں بولا آپ کا بھائی یہ۔۔۔۔ یہ تو خود آپ کو۔۔۔ اپنے باپ کی پہلی اولاد بولتا ہے" چور گڑبڑا کر دلشاد کو صفائی دیتا بولا کہی دوبارہ یہ باڈی بلڈر اس کی صفائی شروع نہ کردے۔ جس پر داہم رخ بدل گیا تو دلشاد مسکراتا ہوا اس تک آیا۔ 


"میں ہوں ہی اپنے باپ کی پہلی اولاد" دلشاد اس چور کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا تو تینوں چور اس کی مسکراہٹ دیکھنے لگے یہ ہنستا بھی ہے جبکہ نوریز نفی میں سر ہلاتا گاڑی سٹارٹ کرنے چل دیا۔


"تمہارے کراچی والے تین اور ساتھی کہاں ہیں؟؟" داہم کو یاد آیا تو پوچھ بیٹھا۔


"بھائی وہ کراچی میں ہی ہیں یہ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ آیا تھا میں یہاں" چور کے بتانے پر داہم اثبات میں سر ہلا گیا اور دلشاد کے اشارہ کرنے پر انہیں جانے کا کہہ گیا ان کے جاتے ہی داہم پلٹا تو ہالے ایک پاؤ ہلاتی کار کے بونٹ کے پاس کھڑی تھی اور دلشاد دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے ہالے کی سائیڈ میں جبکہ نمل ہالے سے کچھ پیچھے فاصلے پر کھڑی تھی اور نوریز ڈرائیونگ سیٹ سمبھالے ہالے کے طنز شروع اور ختم ہونے کا انتظار داہم پر نظریں جمائے کر رہا تھا۔


"مجھے نہیں پتا تھا ہینڈسم، نوجوان، قابل ڈاکٹر کے دوست چور ہونگے" ہالے کا پہلا طنز۔

"مجھے نہیں پتا تھا کہ مجھ سے عمر میں بڑی عورت۔۔۔ مجھے ہینڈسم، نوجوان، قابل ڈاکٹر بول کر مجھ پر لائین مارے گی" داہم دل پر دونوں ہاتھ رکھے ہالے کی چور والی بات اگنور کرتا ہوا بولا۔


"تمہیں میں عورت لگتی ہوں داہم؟؟" ہالے صدمے سے چیخی۔

"نہیں ڈیئر کزن۔۔۔ عارف لوہار کا فیمل ورژن لگتی ہو۔۔۔ قسم سے" داہم ہالے کو آگ لگاتا بولا تو نوریز کا انتظار ختم ہوا کیونکہ داہم وہاب خانزادہ ہالے کے طنز بخوبی باور کروا سکتا تھا۔ ہالے پیر پٹختی کار میں بیٹھی تو سب ہی اپنی جگہ سمبھال گئے۔


…………………………………………………….


آیت کو ڈیول کی بھیجی ڑریس بہت پسند آئی تھی کرسٹل ستاروں سے چمچماتی جو نیٹ پو ملبوس تھے ایک خوبصورت میکسی تھی وہ اس ڑریس میں مناسب میک اپ کے ساتھ، کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس، اور گلے میں ستاروں کی باریک بناوٹ کا نیکلس پہنے بالوں کو پشت بکھرائے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ 


وہ ایک فارم ہاؤس تھا جہاں وہ ڈرائیور اور گارڈ کے ساتھ ڈیول کے کہنے پر آئی تھی ہر طرف رونق لگی تھی وہاں مرد حضرات کے ساتھ خواتین بھی موجود تھی جو شاید کچھ کی اہلیہ اور کچھ کی گرل فرینڈز تھی کچھ پاکستانی اور باقی انگریزوں کی شکلیں نظر آ رہی تھی ان میں تین شکلیں آیت صدیقی کو یاد تھی اور وہ تھی اس کا باپ، سوتیلی ماں اور بہن۔


وہاں آیت کو جیک کے ساتھ ایک اور جانی پہچانی صورت نظر آئی اور وہ تھی عائشہ جاوید وہ عائشہ کی طرف بڑھنے ہی والی تھی جب سامنے سے ڈیول آتا نظر آیا۔ وہ بلیک کلر کو تھری پیس سوٹ پہنے ایک ہاتھ میں برانڈ واچ، چمکدار جوتے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں آج ایک سادہ سی چاندی کی انگوٹھی پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے نیلی آنکھوں میں چمک لیے آیت کی طرف قدم بڑھا رہا تھا اور آیت سانس روکے صرف ڈیول کو مبہوت سے دیکھے جارہی تھی


"اففف یہ غنڈہ اتنا ہینڈسم کیوں ہے" ڈیول آیت کے قریب آکر رکا۔

"You are looking devil's queen my lady"۔

ڈیول کے مسکرا کر بولنے پر آیت اس کے سحر سے نکلتی نظریں جھکا گئی۔ آیت صدیقی لڑکوں سے موقعالات کرنے والی آج ایک غنڈے کے کمپلیمنٹ پر بلش کر رہی تھی۔ جسے ڈیول نے بخوبی نوٹ کیا تھا۔


"آخر کیا ہو جاتا ہے مجھے اس شخص کے سامنے بہت بڑا کیا ہے اس نے میرے ساتھ پھر بھی کیوں میں اس سے نفرت کیوں نہیں کر پا رہی" آیت اپنی سوچوں میں گم ہوئی تو ڈیول آگے بڑھتا ایک ہاتھ کا حصار آیت کے گرد بناتا اسے آگے لے کر چلنے لگا۔ 


سب کی نگاہیں ڈیول پر تھی تو کچھ کی آیت پر وہاں کھڑی انگریز اور پاکستانی لڑکیاں جن میں سے ایک آیت کی سوتیلی بہن تناوس بھی تھی سب ہی حسد اور جلن سے آیت کو دیکھ رہی تھی تناوس پہلے آیت کی خوبصورتی سے خار کھاتی تھی 


اور اب ڈیول جیسے اتنے باروعب، طاقتور، امیر اور دلفریب شخصیت کا مالک شخص بھی آیت کے نصیب میں دیکھ کر بھی اس کی جلن کی کوئی حد نہیں رہی تھی جسے سمجھتے مسز صدیقی نے اپنی بیٹی کو تسلی دی دو چار دن کا خمار ہے ڈیول کا اتر جائے گا تو پھر اسے سڑک پر پھینک دے گا انھیں کیا پتا کہ یہ بس ان کی خوش فہمی ہی تھی۔


"Hello guys…meet my wife devil king wife devil's queen"۔


ڈیول کے بولنے پر سب لوگوں نے شراب کا گلاس ڈیول کے ساتھ ہوا میں لہرایا۔

"Enjoy the party"۔

ڈیول کے اتنا بولتے ہی سب لوگ جان گئے تھے اشارہ ڈیول اور آیت سے نظریں ہٹانے کا تھا جو ہٹ بھی گئی تو آیت ڈیول سے بولی


"یہ شراب ہے تم پی رہے ہو؟؟" آیت ڈیول کو گھور کر بولی تو ڈیول کے چہرے پر ناگواری پھیلی۔


"نہیں تو۔۔۔ کھا رہا ہوں دیکھو چبا بھی رہا ہوں" ڈیول کے طنز پر آیت نے دانت پیسے اور عائشہ کی طرف جانے لگی لیکن ڈیول نے اسکے قدم روکے اور کان کے قریب جھکتے ہوئے بولا جس پر آیت اپنی سانس بند کر گئی۔


"جلدی آنا ورنہ یہ نا ہو تمہارا شوہر کسی اور کا دیوانہ ہو جائے" ڈیول کے کہنے پر آیت "ہننننہ" کرتی عائشہ کے پاس پہنچی اور آیت کے پوچھنے پر عائشہ نے اسے کڈنیپنگ کے بعد سے اب تک کی ساری بات بتائی جس پر آیت نے اسے تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہے اور اس نے ڈیول اور اپنے باپ کے بارے میں ساری باتیں عائشہ کو بتائی 


جس پر عائشہ یہ سوچ ہی سکی کیا کوئی اتنا گرا ہوا بھی ہوسکتا ہے جو اپنی اولاد کو ایسے استعمال کرے لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی صدیقی صاحب نے آیت سے ہمیشہ نفرت ہی کی ہے تو یہ معمولی بات ہوگی ان کے لیے۔


"اب تم کیا کرو گی آیت؟" عائشہ کے پوچھنے پر آیت کو اس پر پیار آیا کیونکہ وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے پریشانی دیکھ سکتی تھی۔ 


"کچھ نہیں۔۔۔۔ بس دیکھنا چاہتی ہوں کہ اب میری زندگی میں یہ نیا رشتہ کتنی نفرت لے کر آئے گا" آیت کے بولنے پر عائشہ نے اپنی سوچ بیان کی۔


"مجھے لگتا ہے یہ سب ڈیول بھائی نے تمہاری محبت میں پی کیا ہے ورنہ خود سوچو ان کو لڑکیوں کی کیا کمی اور اگر نفرت میں یا تمہارے والد کے پیسے وصول کرنے کے لیے کیا ہوتا۔۔۔ تو وہ تم سے نکاح جیسا پاک رشتہ کیوں قائم کرتے۔۔ اور آج اپنی پوری دنیا کے سامنے قبول کیا ہے تمہیں بیوی کے طور پر"


…………………………………………………….


جاری ہے۔۔۔۔