"اور میں نے بھی کہا تھا۔۔۔۔ اسٹائلش لفنگے۔۔۔ میں تمہیں آپ نہیں بولوں گی اور میری زبان میری مرضی۔۔۔ ہننننہ" آیت بھی آئیبرو ریز کرتی بولی تو ڈیول کا ڈمپل واضح ہوا اور وہ بے شک مسکرا رہا تھا۔


"اوکے ڈارلنگ" ڈیول آیت کے گرد ایک ہاتھ کا حصار بنائیں سیڑھیاں چڑھنے لگا اور آیت اس کی عقلیت میں قدم بڑھانے لگی وہ ایک تین منزلہ گولڈن اور وائٹ طرز کا پیلس نما ہال تھا جہاں عنایہ جمال حفیظ کی شادی کی تقریب تھی۔ ڈیول دوسری منزل پر پہنچا ایک گیسٹ روم کا دروازہ کھولتا آیت کو لیے اندر داخل ہوا اور دروازہ لاک کر دیا۔


آیت نا سمجھی سے ڈیول کی ساری کارروائی دیکھنے لگی سمجھ تب آئی جب ڈیول نے آیت کو دروازے سے پن کیا اور دونوں ہاتھ آیت کے اطراف میں رکھ دیے ایسے کہ اگر آیت رخ پھیرتی تو ڈیول کے ہاتھوں سے ٹکرا جاتی۔


"کیا کر رہے ہو تم۔۔۔ اسٹائلش لفنگے" آیت گھبراہٹ سے بس اتنا ہی بول پائی جب ڈیول آیت کے چہرے کے قریب خود کا چہرہ کرتے ہوئے بولا۔


"تمہاری زبان تمہاری مرضی رائیٹ؟ اب میری زبان میری مرضی" ڈیول مسکراتا ہوا آیت کی غیر ہوتی حالت کو دیکھتے ہوئے بولا۔ آیت اس کی بات سمجھتے ہی اپنی ٹون میں واپس آتی ڈیول کو پنچ اور کک مارنے کا ارادہ بنا ہی رہی تھی جب ڈیول نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑتے اپنے ہاتھوں سمیت دروازے سے پن کیے اور اس کے قریب آتا ایک ایک قدم کا بھی فاصلہ بھی ختم کرتا کک مارنے کی کوشش بھی ناکام کر گیا


آیت ڈیول کی آنکھوں میں غصے سے دیکھ رہی تھی جو مسکراتے ہوئے آیت کے پہرے کا طواف کر رہی تھی۔ ڈیول آیت کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کرتا خود کو سیراب کرنے لگا اور آیت کو تو اپنی سانسیں اکھڑتی محسوس ہو رہی تھی جب کافی دیر بعد آیت کی اکھڑتی سانسوں کا خیال آیا تو ڈیول پیچھے ہوا اچانک پیچھے ہونے پر آیت جو ڈیول کے سہارے کھڑی تھی گرتی کے ڈیول دوبارہ اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے سہارہ دیا۔


آیت لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی خود کو نارمل کرتے ہوئے ڈیول کے حصار سے نکلتی اسے خونخوار نظروں سے دیکھنے لگی۔


"ایسے مت دیکھوں ڈارلنگ۔۔۔ یہ عمل دوبارہ بھی کر سکتا ہوں اور وہ بھی دل و جان سے" ڈیول دوبارہ آیت کے قریب آتا اسکے گیلے نیچلے ہونٹ پر اپنا انگوٹھا رب کرتے بولا


"تم نا بہت بے شرم ہو" آیت غصے سے بولتی ڈیول کو پیچھے کرتی دروازہ کھولے باہر نکلی تو ڈیول قہقہہ لگاتا اس کے پیچھے چل پڑا۔


"میں تمہیں یہاں کسی اپنے سے ملوانے لایا ہوں تو مس غنڈی آفت کچھ پل کے لیے شرافت کا مظاہرہ کرو ورنہ پھر میرا مظاہرہ تو دیکھ ہی چکی ہو تم" ڈیول دوبارہ آیت کے پاس آتے بولا جو مرر میں کھڑی ہو کر پھیلی ہوئی لپسٹک ٹیشو سے صاف کر رہی تھی۔


"غنڈے کے منہ سے شرافت کی باتیں۔۔۔ ہننننہ" آیت زخ ڈیول کی طرف کرتی بولی تو ڈیول سرد آہ بھرتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگاتا بولا۔


"اس غنڈے کے منہ سے ابھی کچھ لمحے پہلے مٹھاس بھی تو اتری تھی تمہارے اندر" ڈیول کے انداز پر پھر آیت ڈیول کو دیکھنے لگی۔ ڈیول آیت کے ہاتھ سے ٹیشو لیتا خود اس کا ادھورا کام پورا کرنے لگا۔



"کیا ہوا ہینڈسم لگ رہا ہوں؟" ڈیول آیت کو یوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے پر مسکرا کر بولا۔

"اینا کونڈا لگ رہے ہو" آیت رخ پھیرتی بے نیازی سے بولی۔

"اچھا۔۔ پھر میں تو تمھاری ہی برادری کا ہوا نا" ڈیول کے یوں بولنے پر آیت ہننننہ کے انداز لیے سائیڈ ہوئی تو ڈیول بھی اس کا ہاتھ تھامے آگے چلنے لگا۔


…………………………………………………….


بہت پیاری لگ رہی ہو بیٹا۔۔۔ ماشاءاللہ زریش بیگم عنایہ کے پاس بیٹھتی بولی جو گولڈن رنگ کے شرارے میں دلہن کی طرح سجی سنوری بے حد حسین لگ رہی تھی وہ تو عام حلیے میں بھی کسی پری سے کم نہیں لگتی تھی تو آج کیسے ممکن تھا دلہن بنی کسی کے بھی دل میں نا سمائے۔ زریش بیگم تو اسے دیکھتی ہی رہی انھیں وہ سجی سنوری شرماتی ہوئی عنایہ جمال حفیظ بہت پسند آئی


"شکریہ آنٹی" عنایہ انھیں دیکھتے ہوئے بولی ہاں وہاں زیادہ تر مہمان ایسے تھے جنھیں وہ نہیں جانتی تھی کیونکہ اس کے ڈیڈ ایک نامور بزنس مین تھے جنہوں نے شاید بہت عزیز مہمانوں کو اپنی خوشی میں شریک ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔


"عنایہ بیٹا آپ ذرا میرے ساتھ چلے گی مجھے اپنا ضروری سامان نہیں مل رہا شاید آپ نے ہی رکھا ہو کہی" جمال صاحب عنایہ کے قریب آتے بولے تو عنایہ اثبات میں سر ہللاتی ان کا بڑھایا ہوا ہاتھ تھام گئی اور ان کے ساتھ چل دی۔ عنایہ اور جمال صاحب ہال کے اس کمرے میں پہنچے جو جمال صاحب نے سامان رکھوانے کے لیے خصوصی طور پر اپنا کمرہ چنا تھا۔


جمال صاحب نے دروازہ کھولتے عنایہ کو اندر جانے کا کہا اور پھر خود دروازہ لاک کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ عنایہ نے کسی کی پشت کو کھڑکی کی طرف دیکھا اور عنایہ جانتی تھی وہ کون ہوگا وہ وقت ضائع کیے بنا اس سمت قدم بڑھا گئی وہ مردانہ پشت تھی۔


"زی بھائی" عنایہ ایک دم تیزی سے قدم بڑھاتی بولی تو وہ شخص عنایہ کی طرف پلٹا نیلی آنکھوں میں چمک لیے اپنی چاندی کی انگوٹھی والے ہاتھ کی انگلیوں سے مسکراتے ہوئے بیرڈ رب کرتے۔ وہ وہی۔شخص تھا جو عنایہ کو پرنسس بولتا تھا وہ وہی شخص تھا جو عنایہ کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا 


اور وہ ہی شخص تھا جسے دنیا "ڈیول کنگ" کے نام سے جانتی تھی اور عنایہ "زین کمال حفیظ"۔ ڈیول کو کبھی شرفا اور پولیس یہاں تک کہ انڈر کور پولیس آفیسر نے بھی نہیں دیکھا تھا اسی لیے اسے مافیا ورلڈ کے علاوہ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ ڈیول کنگ دیکھتا کیسا ہے لیکن ڈیول کنگ کے نام سے پوری دنیا واقف تھی۔


"مائے پرنسس" ڈیول باہیں کھولے عنایہ کو گلے لگا گیا۔ عنایہ ڈیول سے پانچ سال چھوٹی تھی لیکن ڈیول جب بھی عنایہ سے ملتا اسے اپنی بیٹی کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔


""بہت جلدی نہیں آگئے آپ بھائی" عنایہ ڈیول سے الگ ہوتی شکایتی انداز میں بولی تو ڈیول دونوں کان پکڑ گیا۔


"معافی چاہتا ہوں میری پرنسس" ڈیول بولا تو عنایہ مسکراتی اسکے دونوں ہاتھ نیچے کر گئی تو ڈیول اس کا رخ بیڈ کے ساتھ کھڑی آیت کی طرف کر گیا عنایہ ناسمجھی سے کبھی ڈیول اور کبھی اس انجان لڑکی کو دیکھتی اس نے تو کبھی ڈیول کے ساتھ کسی بھی لڑکی کو نہیں دیکھتا تھا تو اج؟؟


"یہ تمہاری بھابھی ہے آیت زین کمال" ڈیول بولا تو عنایہ آیت تک پہنچی اور اس سے گلے ملی۔


"بھائی یہ تو مجھ سے بھی چھوٹی ہیں" عنایہ آیت سے الگ ہوتی بولی تو ڈیول قہقہہ لگا اٹھا۔


"اب تم بھی ایسے بولو گی۔۔۔۔ ویسے بھی آج صبح ہی مجھے میری عمر جتا چکی ہے تمہاری بھابھی" ڈیول ہنستا ہوا بولا تو جمال صاحب بھی مسکراتے ہوئے ڈیول سے بغلگیر ہوئے اور پھر جمال صاحب آیت تک پہنچ کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ گئے آیت بھی مسکرا دی۔


"اچھا بھئی اب چلو راحیل اور سلطان بارات لے کر آنے والے ہونگے" جمال صاحب بولے تو عنایہ جمال صاحب کے ساتھ آگے قدم بڑھا گئی لیکن ڈیول اور آیت کو کچھ دیر بعد نکلنا تھا اس کمرے سے وجہ یہی تھی کہ ڈیول اور جمال صاحب کا۔تعلق کسی کی نظر میں نہ آپائے۔


"یہ کون ہے اور وہ لڑکی تمہیں بھائی بول رہی تھی۔ تمہاری بہن ہے؟؟" آیت کے سوالوں پر ڈیول جو عنایہ کی پشت دیکھ رہا تھا ایک آیت کی طرف رخ کرتا قدم بڑھا گیا۔


"تم نے پوچھا تھا نا کہ میرے تایا کا گھر ہے کراچی میں جو لے جا رہا ہوں تمہیں" ڈیول آیت کے چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے بولا جس پر آیت نے نا سمجھی سے اثبات میں سر ہلایا۔


"وہ تایا ہیں میرے جو تمہارے سر پر ہاتھ رکھ کر گئے ہیں اور وہ لڑکی عنایہ تھی ان کی بیٹی اور میری بہن" ڈیول کے بولنے پر آیت ہونک بنی اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ بھلا ڈیول کے گھر والے ایسے کھلے عام خوشیاں منا رہے ہیں جیسا ڈیول کا کام ہے انہیں تو گمنام رہنا چاہیے تھا۔ ابھی آیت اپنے سوال کرتی کہ ڈیول اس کے سوال سمجھتا دوبارہ بولا


"تمہارے لیت جتنا ضروری تھا اتنا جان چکی ہو اب کوئی اور سوال نہیں۔۔۔ چلو" ڈیول آیت کا ہاتھ تھامتا باہر کی طرف قدم بڑھا گیا۔


مزید دو گھنٹے بیت چکے تھے ہر طرف سرگوشیاں شروع ہو چکی تھی بارات کا نام و نشان نہ تھا ڈیول جیک سے بات کر کے راحیل کی لوکیشن ڑریس کرنے اور اب تک بارات نا پہنچنے کی وجہ کا پتا لگانے کا بول چکا تھا جمال صاحب بار بار سلطان کو کال کر رہے تھے جن کا مسلسل نمبر سوئچ آف تھا 


آیت عنایہ کے پاس بیٹھی تھی اقر زریش بیگم بھی عنایہ کو تسلی دے رہی تھی۔ اچانک جمال صاحب کا فون رنگ ہوا اور نمبر پرائیویٹ تھا جمال صاحب کال پک کرتے فون کان سے لگا گئے۔


"سلطان" جمال صاحب آواز سنتے ہی بولے تو وہاب صاحب جو جمال صاحب کی پریشانی کب سے دیکھ رہے تھے بیٹی کے باپ نا تھے لیکن بارات نا آنے کی رسوائی بخوبی سمجھ سکتے تھے انھوں نے بھی تو ہالے کو بیٹی کی طرح پالا تھا اور ان کا ماننا تھا بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔


…………………………………………………….

جاری ہے۔۔۔۔