"کیا" آیت کے بولنے پر ڈیول مسکرا اٹھا
"بیٹی پیدا کرنے کی تیاری" ڈیول کے بولنے پر آیت اسے دھکہ دیتی پیچھے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی تب ڈیول نے اس کے دونوں ہاتھ بیڈ سے پن کیے تو ڈیول آیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا۔
"دوبارہ مجھے خود سے دور کرنے کی کوشش نہیں کرنا ورنہ ابھی تم نے میری وحشت نہیں دیکھی" ڈیول کی آنکھوں میں اب لال ڈوریاں دیکھ کر اور اس قدر سرد مہری لہجے پر آیت کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔ ڈیول سیدھا ہوتا بیڈ سے اترتا فریش ہونے چلا گیا تو آیت سیدھی بیٹھتی ڈیول کی پشت دیکھنے لگی۔
کیا ہے یہ انسان کبھی اتنا نرم دل اور کبھی اتنا خوف زدہ کر دینے والا۔ اب ڈیول اور آیت دونوں ہی ناشتہ کر رہے تھے آیت بار بار سر اٹھا کر چور نظر سے دیکھ رہی تھی جب اچانک ڈیول نے اپنا فوک میں پسا انڈے کا ٹکڑا آیت کی جانب کیا تو آیت بھی اسے دیکھتے ہوئے منہ میں لے گئی ڈیول سمجھ گیا تھا کہ آیت اس کے کچھ دیر پہلے والے رویے سے ڈسٹرب ہے وہ بھی ایسا کرنا کہا چاہتا تھا لیکن آیت کے دور دھکیلنے پر ضبط کرتا پھر بھی جتا گیا۔
"ناشتہ کر لو اور ریڈی ہو جاؤ ہم کراچی جا رہے ہیں اور یہ رہا تمہارا فون اس میں صرف میرا نمبر ہے تم صرف مجھے ہی کال کر سکتی ہو" آیت ڈیول کی بات پر جیسے نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
"تو یہ دے ہی کیوں رہے ہو۔۔۔۔ مجھے عائشہ سے بات کرنی ہے اس لیے چاہیے تھا موبائل اور ہاں میں کہی بھاگ کر نہیں جانے والی جو تم اس طرح سے بیہیو کر رہے ہو میرے ساتھ" آیت کی بھاگ جانے والی بات پر ڈیول کا ڈمپل واضح ہوا
"مس غنڈی آفت۔۔۔ تم مجھے سے بھاگ بھی نہیں سکتی اور رہی تمہاری اس دوست کی بات وہ بھی بہت جلد تمہارے پاس آجائے گی" ڈیول کے بولنے پر آیت پھر نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگی تو ڈیول سمجھ گیا اب وہ عائشہ والی بات کی تفصیل لینے والی ہے اسی لیے پھر بولا۔
"تیار ہو جانا کچھ دیر میں نکلنا ہے کراچی کے لیے" ڈیول کے بولنے پر آیت کا دھیان اب کراچی جانے والی بات پو ہوا۔
"کراچی پر کیوں؟ اور کتنے دل کے لیے" آیت کے ایک دم سے سوال پر ڈیول ناگواری سے بولا
"تمہارے تائے کا گھر نہیں ہے وہاں جو ایسے سوال پوچھ رہی ہو۔۔۔۔ کتنے دنوں کے لیے۔۔۔۔۔" ڈیول کے انداز میں ناگواری بھرپور نظر آرہی تھی۔
"میرے نہیں تو تمہارے تائے کا ضرور ہو گا تبھی لے جا رہے ہو۔۔۔ ہننننہ" آیت نے بھی حساب بے باک کیا۔
"تمہاری زبان کچھ زیادہ نہیں چل رہی؟؟" ڈیول آئیبرو ریز کرتا بولا۔
"چلانے کے لیے ہی اللہ نے نوازا ہے اس صفت سے" آیت ایک ادا سے ٹیبل پر کہنی کے سہارے ہاتھ رکھتی اس پر منہ ٹکا کر آنکھیں جھپکا کر بولی تو ڈیول کو اس پر ٹوٹ کر پیار ایا۔
"سمبھل کر ڈارلنگ۔۔۔۔ تمہاری چلتی زبان کو روکنا مجھے بخوبی آتا ہے" ڈیول آیت کا وہی ہاتھ جس پر آیت نے منہ ٹکایا ہوا تھا نرمی سے پکڑتا لبوں سے لگا کر بولا تو آیت مسکرا دی لیکن ڈیول کی بات پر پھر خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
"بے شرم ہو پیدائشی" آیت بولی تو ڈیول کا قہقہہ گونجا۔
Yes my lady…. پیدا بھی تو naked ہوا تھا نا" ڈیول ایک آنکھ ونک کرتا بولا۔
"ہاں ہاں۔۔۔ جیسے باقی سب تو تھان لپیٹ کر آتے ہیں" آیت کے بولنے پر ڈیول کا ڈمپل مزید گہرا ہوا۔
"تو کیا تم بھی۔۔۔ nakee" ڈیول شرارت سے انگلی آیت کی طرف اٹھاتا تو آیت اپنی بات پر خود کوستی ڈیول کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں شرارت صاف نظر آرہی تھی۔ آیت ڈیول کی بات بیچ میں ہی کاٹتی کرسی پیچھے دھکیلتی کھڑی ہوئی
"Shut up" آیت اتنا کہتی سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی اور پیچھے ڈیول کا آیت کی حالت پر دوبارہ قہقہہ گونجا۔
…………………………………………………….
"آپ لوگ کب تک واپس آئے گے ممانی" ہالے زریش بیگم کو دیکھتے ہوئے بولی جو اپنی تیاری کر رہی تھی کراچی شادی میں جانے کے لیے۔
"ہالے بیٹا رات تک واپسی ہو جائے گی۔۔۔ تم سے کہا تھا چلو ساتھ لیکن نہیں تمہیں تو سننی کہا ہے میری۔۔۔۔ اب کیوں ہلکان ہو رہی ہو" زریش بیگم ہالے کو محبت سے سمجھاتے ہوئے اس کے برابر میں بیڈ پر بیٹھتی بولی۔
"آپ کو پتا ہے نا کتنے دنوں سے میں اس ایگزیبیشن کا ویٹ کر رہی تھی اور وہ ہے بھی آج ورنہ مجھے شوق نہیں آپکے اس حسن پرست بیٹے کے ساتھ رکنے کا" ہالے بھرائی ہوئی آواز میں بولی تو زریش بیگم نے اسے گھور کو دیکھا اور جہاں داہم صاحب ذکر ہو اور وہ وہاں نا پہنچے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا نا۔
"میرا نام لیا اوووو۔۔۔ مجھے یاد کیا اوووو" داہم دروازہ کھولے ایک پیر سلیپ کرتا گاتے ہوئے اندار آیا تو ہالے نے بے زاری سے رخ بدلہ وہی زریش بیگم مسکرانے لگی۔
"داہم ایک کام کر دو میرا" ہالے بولی
"جو حکم مجھ سے کم حسین ڈیئر کزن" داہم نے سر کو خم کرتے ہوئے ایک ہاتھ سینے پر فولڈ کرتے ہوئے بولا۔
"واپس امریکہ دفع ہو جاؤ" ہالے پہلے مسکراتے ہوئے پھر چیختے ہوئے بولی تو زریش بیگم نے سر پیٹا کیا کرے گے یہ دونوں یہاں ان کے کراچی جانے کے بعد ان کی تو ایک لمحے نہیں بنتی
"صاف کہو نا جلتی ہو مجھ سے اتنا حسن دیکھا نہیں جاتا میرا اس لیے بھگا رہی ہو یہاں سے" داہم کے بولنے پر ہالے وہاں سے پیر پٹختی چلی گئی۔
"داہم ہالے کا اور خود کا خیال رکھنا اور گھر پر ہی رہنا اور ہالے کو اکیلے گھر نہیں چھوڑنا" زریش بیگم نے داہم کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھرتے ہوئے بولا
"ڈونٹ وری ماما آپ ڈیڈ اور وہ اپ کی پہلی اولاد جائیں آرام سے۔۔۔ میں خیال رکھ لوں گا ہالے کا" داہم کے بولنے پر زریش بیگم سر اثبات میں ہلاتی اپنے کام میں مشغول ہو گئی تو داہم بھی وہاں سے واک آؤٹ کر گیا۔
…………………………………………………….
ہر طرف شور شرابہ تھا ڈھول ڈھمکے چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں بھری تھی۔ جمال صاحب سب مہمانوں کو رسیو کرنے دروازے پر کھڑے تھے آج ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا ہوتا بھی کیوں ان کی اکلوتی بیٹی کی شادی جو تھی جمال صاحب اپنے کسی قریبی سے مل رہے تھے جب ان کی نظر سامنے سے آتے دلشاد وہاب خانزادہ پر پڑی وہ ایکسکیوز کرتے اس تک پہنچے
جمال صاحب اور دلشاد کی بزنس پارٹنر شپ کچھ دنوں پہلے ہی ہوئی تھی اور جمال صاحب دلشاد کے گرویدہ ہو گئے 28 سال کا اتنا قابل نوجوان جس کا شمار پاکستان کے مشہور بزنس ٹائیکونز میں ہوتا ہے اسے دنیا میں لوگ شارپ بزنس مین کے نام سے جانتے تھے اتنی باروعب شخصیت کا مالک۔
دلشاد کو وہاں صاحب نے پرسنلی انوائیٹ کیا تھا اسی لیے تو دلشاد وہاب صاحب اور زریش بیگم کے ساتھ اس شادی پر مدعو تھا
"دلشاد۔۔۔ دلشاد وہاب خانزادہ ویلکم اور بہت شکریہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ ہماری خوشیوں میں شامل ہونے کا" جمال صاحب دلشاد سے بغل گیر ہوتے ہوئے بولے اور پھر وہاب صاحب سے گلے ملے
"بھابھی پلیز آئیں اندر اور میری بیٹی کو دعائیں دے" جمال صاحب خوش اسلوبی سے زریش بیگم سے مخاطب ہونے جو اثبات میں سر ہللاتی جمال صاحب کے ایک لڑکی کو اشارہ کرنے پر اس کے ساتھ چلی دی
"بہت مبارک ہو آپ کو بیٹی کی شادی" وہاب صاحب خوش دلی سے بولے تو جمال صاحب "خیر مبارک" بولتے ان کے ساتھ اندر کی جانب چل پڑے۔ جبکہ دلشاد جمال صاحب اور وہاب صاحب سے ایک ضروری کال کا بولتے پیچھے لان کی طرف قدم بڑھا رہا تھا ارد گرد سے بے نیاز جہاں لڑکیاں بار بار اس مغرور سے شہزادے کو دیکھنے میں مشغول تھی۔
نیوی بلیو تھری پیس سوٹ میں، بال جیل سے سیٹ کیے، ایک ہاتھ میں برانڈڈ واچ اور دوسرے میں مردانہ بریسلٹ جو ہمیشہ دلشاد کی شخصیت کا حصہ رہتا تھا اور اس پر ایک انگریزی حرف لکھا تھا وہ جو دلشاد کے دل پر بھی تاعمر رہنے والا تھا۔ دلشاد وہاب خانزادہ اپنی بے پناہ وجیہہ شخصیت کا مالک تھا اسے کوئی ایک بار دیکھ لے تو کئی دنوں نا بھولے وہ ایسی شخصیت رکھتا تھا۔
دلشاد اپنی سمت قدم بڑھا رہا تھا جب اس کا کندھا کسی اپنی ہی شخصیت رکھنے والے سے ٹکرایا دلشاد اور وہ شخص ایک دم ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ دلشاد اس نیلی آنکھوں والے شخص کو دیکھنے لگا گرے کلر کے تھری پیس سوٹ میں سفید گلابی رنگت کا مالک شخص جس نے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں چاندی کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی
برانڈڈ واچ، جیل سے سیٹ کیے ہوئے بال وہ بے حد وجیہہ تھا۔ آج پہلی دفعہ ڈیول کنگ دلشاد وہاب خانزادہ آپس میں ٹکرائے تھے۔ اور کیا یہ ٹکرانا آخری دفعہ تھا؟؟ آج اس کہانی کے دو اہم کرداروں کا آمنا سامنا ہوا تھا۔ ایک جس کے نام سے دنیا خوف کھاتی تھی ڈیول کنگ اور دوسرا وہ جسے دنیا شارپ بزنس مین کے نام سے جانتی تھی دلشاد وہاب خانزادہ۔
"تم مجھے کہاں لے آئے ہو اور کس کی شادی ہے یہاں" نیلی آنکھوں والے شخص نے رخ پھیر پر پیچھے دیکھا تو اس کے تاثرات میں ناگواری تھی پھر سیدھا ہوتا واپس دلشاد کو دیکھنے لگا تھا لیکن تب تک دلشاد وہاں سے جا چکا تھا
"مس آفت کیا کہا تھا میں نے کوئی سوال نہیں اور تم مجھے آپ بولو گی۔۔۔ سمجھ نہیں آتی ایک بات" ڈیول ناگواری سے دوبارہ آیت کو دیکھتا بولا جو گرے کلر کی ساڑھی میں، کندن کے جھمکے پہنے جن کے بیچے گلابی رنگ کے نگینے تھے، سٹریٹ بال پشت پر ڈالے، ہیلز پہنے، ہاتھوں میں گلابی اور گرے کلر کی چوڑیاں پہنے وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔
جب تیار ہو کر پیلس میں ڈیول کے سامنے آئی تو کئی لمحے ڈیول اسے مبہوت سے دیکھتے رہا تھا۔
…………………………………………………….
جاری ہے۔۔۔۔۔

0 Comments