"تو کیا اس زبردستی کے رشتے سے وہ خوش رہ پائے گا" زریش بیگم پھر پریشانی سے پوچھنے لگی۔
"پتا نہیں۔۔۔ لیکن شاید عنایہ اس کی زندگی میں خوشیاں بھر دے" وہاب صاحب ان کی پریشانی سمجھتے ان کو تسلی دیتے بولے۔
"اللہ اس رشتے کو ہم سب کے لیے مبارک ثابت کرے" زریش بیگم نے دعا کے الفاظ ادا کیے۔
"آمین" وہاب صاحب بھی دل سے بولے۔
جمال صاحب عنایہ کے پاس آئے تو ڈیول پہلے سے ہی آیت کے ساتھ اس کمرے میں موجود تھا۔
"عنایہ تم فکر نہیں کرو بیٹا۔۔۔ دلشاد بہت اچھا لڑکا ہے تمہیں خوش رکھے گا" جمال صاحب عنایہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے تو ڈیول جو اپنے اندر کے اشتعال کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا ان تک پہنچا۔
"جیسے وہ بیغیرت راحیل تھا نہیں" ڈیول مٹھیاں بھینچے لہو ٹپکاتی آنکھوں سے بولا تو عنایہ نے سر اٹھا کر ڈیول کو دیکھا۔
"بھائی آپ غصہ نا کرے ڈیڈ کا اس میں کوئی قصور نہیں" عنایہ بولی تو ڈیول گھٹنوں کے بل عنایہ کے پاس بیٹھا۔
"پرنسس تمہیں نہیں کرنی یہ شادی تو مت کرو اور رہے وہ راحیل اور سلطان تو انھیں تو میں خود ہی دیکھ لوں گا" ڈیول عنایہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا لیکن اس کے لب و لہجے کی سرد مہری دیکھ کر آیت کو بے جا جھر جھری آئی کبھی کبھی ڈیول اس کی سوچ سے زیادہ خوف ناک ہو جاتا تھا۔
"نہیں بھائی میں ڈیڈ کو اور خود کو بے عزت نہیں ہونے دے سکتی اور آپ کیا چاہتے ہیں ان لوگوں کی باتیں سچ ہو جائے۔۔۔اور ڈیڈ نے میرے لیے کچھ سوچا ہے تو ٹھیک سوچا ہوگا" عنایہ اپنے باپ کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی تو ڈیول اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال لیے۔
"اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو مجھے کوئی پریشانی نہیں۔۔۔۔ لیکن اگر اس دلشاد نام کے شخص کی وجہ سے میری پرنسس کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو آیا تو اس کا انجام میں بہت دردناک لکھو گا اس سے بھی دردناک جو کل میں راحیل اور سلطان کا کرنے والا ہوں" ڈیول پہلے عنایہ اور پھر جمال صاحب کی طرف رخ کرتا بولا جیسے انہیں اپنے ارادوں سے پہلے ہی آگاہ کرنا چاہتا ہو۔
"جس کو تم صرف شخص بول رہے ہو وہ کوئی عام انسان نہیں ہے۔۔۔ وہ دلشاد وہاب خانزادہ ہے بزنس کی دنیا میں چارم ہے اس کے نام کا جیسے تمہاری دنیا میں تمہارے نام کا ہے ڈیول۔۔۔۔۔" جمال صاحب ناگواری سے ڈیول کو دیکھتے ہوئے جتانے والے انداز میں بولے جسے بہت مشکلوں سے ڈیول نے برداشت کیا۔ ڈیول ان کا کہا برداشت کر سکتا تھا وہ وہی تھے جنہوں نے ڈیول کو باپ بن کر پالا تھا کبھی۔
"دلشاد کو اگر کھرونچ بھی آئی نا تو جس ڈیول کنگ کی شکل کسی نے نہیں دیکھی۔۔۔ پولیس سی بی آئی انٹرنیشنل لیول پر اسے منظر عام پر لے آئیں گی۔۔۔ وہ صرف بزنس مین نہیں وہ انٹرنیشنل ٹرسٹ چلاتا ہے۔۔۔۔ اس کے خیرخواہوں کی فوج تمہارا تختہ بھی پلٹ سکتی ہے" جمال صاحب برہم ہوتے ہوئے بولے جسے ڈیول نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔
"بھول کر بھی ایسا کوئی قدم مت اٹھانا کبھی کہ میں تمہیں معاف نا کر سکوں" اس دفعہ واضح طور پر تنبیہ کی گئی۔
عنایہ چلو مولوی صاحب انتظار کر رہے ہیں" جمال صاحب عنایہ کو لیے وہاں سے چلے گئے تو ڈیول کے لب مسکرا گئے لیکن وہ مسکراہٹ پراسرار تھی۔ جمال صاحب کے جاتے ہی ڈیول آیت تک پہنچا۔
بت بن کر کیوں بیٹھی ہو چلو باہر" ڈیول آیت کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولا تو آیت اس کا ہاتھ تھامتی کھڑی ہوئی۔
"اسٹائلش لفنگے" آیت ڈیول سے بولی تو ڈیول اس کی کمر پر حصار باندھ کر اپنا آگے بڑھا قدم پیچھے کرتا آیت کی طرف متوجہ ہوا۔
"یس میری غنڈی آفت۔۔۔" ڈیول آیت کے چہرے کا اپنے حصار میں لیتا ہوا بولا۔
"تم کچھ ہی پل میں بہت خوفناک لگنے لگتے ہو" آیت بولی تو ڈیول نے آئیبرو ریز کی۔
"خوفناک" ڈیول بولا تو آیت نے اثبات میں سر ہلایا بچوں کی طرح ڈیول کو آیت کی اس حرکت پر بے جا پیار آیا تبھی آیت کی تھوڑی کو چومتا پیچھے ہوا اور آیت ڈیول کی اس حرکت پر گڑبڑا گئی اور گھور کو ڈیول کو دیکھنے لگی۔
"اور اب کیسا لگ رہا ہوں؟" ڈیول اس کی گھوری کو نظر انداز کرتا بولآ۔
"بے شرم" آیت بولی تو ڈیول کا قہقہہ گونجا۔
"میری ڈیول کوئین۔۔۔ اگر چاہتی ہو مزید بے شرمی نا دیکھاؤ تو چپ چاپ چلو۔۔۔" ڈیول آیت کو سیدھا کھڑا کرتا بولا اور آیت کا ہاتھ تھامے کمرے سے باہر قدم بڑھا گیا۔
سب مہمان۔نکاح شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے جالی نما ایک پردے کے ایک طرف دلشاد اور دوسری طرف عنایہ بیٹھی تھی اتنے میں ہی نکاح کی تقریب شروع ہوئی۔
"دلشاد وہاب ولد وہاب خانزادہ آپ کا نکاح عنایہ جمال ولد جمال حفیظ کے ساتھ سکہ رائج الوقت ایک کڑوڑ میں طے پایا ہے آپ نے قبول کیا" مولوی صاحب بولے تو دلشاد کو اپنے دل سے آتی ایک آواز سنائی دی جس پر ضبط کرتے آنکھوں میں لہو کی ڈوریاں لیے دلشاد نے نکاح کے دو بول بولے۔
"قبول ہے۔۔۔"
(مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے دلشاد)
دوسری دفعہ مولوی صاحب کے بولنے پر پھر دلشاد کی سماعت سے ایک ان سنی آواز ٹکرائی۔
"قبول ہے۔۔۔"
(مجھے تم سے اتنی محبت ہے دلشاد میں تمہارے لیے اس دنیا کو ٹھوکر موڑ سکتی ہوں)
تیسری دفعہ پھر مولوی صاحب نے پوچھا اور ایک دفعہ پھر دلشاد کو اپنی محبت کی آواز سنائی دی
"قبول ہے۔۔۔"
(تم میرے سکون قلب کی وجہ ہو دلشاد)
اب مولوی صاحب کا رخ عنایہ کی طرف تھا۔
"عنایہ جمال ولد جمال حفیظ آپ کا نکاح دلشاد وہاب ولد وہاب خانزادہ کے ساتھ سکہ رائج الوقت ایک کڑوڑ میں طے پایا ہے آپ نے قبول کیا" مولوی صاحب کے الفاظوں کے ساتھ عنایہ کو سلطان کا ذہر اگلنا یاد آیا اپنے آنسو صاف کرتے اپنے باپ کا ہاتھ تھامتے اس نے بھی نکاح کے دو بول بولے۔
"قبول ہے۔۔۔"
(تم کہتے تھے جمال تمہاری بیٹی بڑے اونچے بخت کی ہے اور آج دیکھو تمہاری وجہ سے اس کی بدبختی شروع ہوگئی")
دوسری دفعہ پھر عنایہ کو مولوی صاحب کے الفاظ کے ساتھ سلطان ملک کا جملا یاد آیا
"قبول ہے۔۔"
("بڑے منت مرادوں سے مانگی تھی نا اولاد آج اسی اولاد کو زندہ لاش بنانے کا تم سبب بنو گے")
مولوی صاحب کے تیسری دفعہ پوچھنے پر عنایہ کو پھر سلطان ملک کا اگلا زہر یاد آیا
"قبول ہے۔۔۔"
("تمہاری اتنی عزت اور شہرت کی وجہ تمہاری بیٹی تھی نا آج وہی بیٹی تمہاری ذلت کی وجہ بنی ہے")
اس کے ساتھ ہی نکاح مکمل ہوا تو ہر طرف مبارک باد کی صدا گونجی مرد حضرات نے دلشاد نے دلشاد کے گلے ملتے مبارک باد دی جسے دلشاد نے بے دلی سے قبول کیا جبکہ زریش بیگم نے عنایہ کو محبت سے گلے لگایا اور کچھ فاصلے پر کھڑا ڈیول دلشاد تک پہنچا اور اس سے گلے ملتے ہوئے کان میں سرگوشی کرتا بولا۔
"اپنی ملکہ کو خوش رکھنا ورنہ تمہاری خوشی کی کوئی گارنٹی نہیں دے پائے گا" ڈیول بول کر بائیں جانب سے ایک سائیڈ سے ہوتا دلشاد سے دور چلا گیا اتنا کہ دلشاد نے ایک دم گردن موڑ کر دیکھا تو صرف اس کی پشت نظر آئی اور ایک چاندی کی انگوٹھی وہ بھی تب جب ڈیول نے ہاتھ پیشانی تک لے جاتے سلام کا اشارہ بنایا شاید وہ شخص جانتا تھا کہ دلشاد اسے ہی دیکھ رہا ہے
اس شخص نے ایسا کیوں بولا کیا وہ اس لڑکی کا جاننے والا تھا اور اگر ہاں تو اپنا چہرہ کیوں چھپا رہا تھا اور یہ دھمکی۔۔۔
دلشاد سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک جمال صاحب کے متوجہ کرنے پر اپنی سوچ جھٹکتا ان کی بات سننے لگا۔
"دلشاد۔۔۔ مجھے میری بیٹی بہت عزیز ہے۔۔۔ وہ دنیا کی سب سے اچھی بیٹی ہے۔۔۔ میری بیٹی کا خیال رکھنا۔۔ یہ شادی جن بھی حالات میں ہوئی وہ پوری کوشش کرے گی اس کو نبھانے کی۔۔۔ بیٹا آپ بھی اس کا ساتھ دینا ہمیشہ" جمال صاحب بولے تو دلشاد نے صرف اثبات میں سر ہلانا ہی مناسب سمجھا وہ انہیں کیا بتاتا کہ جس شادی کو نبھانے کا وہ کہہ رہے ہیں
دلشاد اس کے خواب کسی اور کے ساتھ کئی برس پہلے دیکھ چکا ہے اور وہ خواب ایسے پختہ ہیں کہ ان خوابوں نے آج تک دلشاد کا پیچھا نہیں چھوڑا۔
"جمال صاحب اب ہمیں اجازت دیجئے" وہاب صاحب کے۔ بولنے پر جمال صاحب ان کی طرف رخ کرتے بولے۔
"آپ لوگ صبح اسلام آباد کے۔ لیے روانہ ہوجائیں گا آج ہمارے گھر رک جائیں" جمال صاحب بولے۔
…………………………………………………….
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

0 Comments