"نہیں پھر کبھی سہی وہاں داہم اور ہالے اکیلے ہونگے اور ویسے بھی ہمیں آج ہی واپس جانا تھا ٹکٹس بھی بک تھی بس عنایہ بیٹی کی ٹکٹ کنفرم کروائی ہے" وہاب صاحب کے مسکرا کر بتانے پر جمال صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔


جمال صاحب نے بھی بیٹی کو دعاؤں کے سائے میں رخصت کیا جس پر عنایہ کے آنسو زاروقطار گر رہے تھے تو جمال صاحب کی بھی آنکھیں نم تھی۔ دلشاد ہاؤس سے دو گاڑیاں آئی تھی دلشاد اپنے ڈرائیور کو دوسری گاڑی میں جانے کا کہتا خود ڈرائیونگ سیٹ سمبھال گیا تو پسنجر سیٹ پر وہاب صاحب بیٹھے اور بیک سیٹس پر عنایہ اور زریش بیگم بیٹھی تھی ان کی گاڑی کا رخ اب ایئرپورٹ کہ جانب تھا 


عنایہ جالی نما ڈوپٹے کے پیچھے سے کچھ کچھ دیر بعد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اپنے دلہے کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی شادی ہال میں لڑکیوں کی خاص کر اپنی سہیلیوں کی زبانی اپنے دلہے کی اتنی تعریفیں جو سنی تھی وہاں موجود کئی لڑکیاں تو عنایہ کے نصیب پر رشک کر رہی تھی 

کہ دلشاد جیسا شاندار شخص عنایہ کا نصیب بنا اس کے 


چہرے کا ہر نقش کسی بھی لڑکی کے دل میں اترنے کی وجہ بن سکتا تھا جس کا چہرہ عنایہ کے لیے انجان تھا، زریش بیگم اور وہاب صاحب آپس میں کسی بات پر متوجہ تھے البتہ دلشاد کے دل میں اپنی کچھ دیر پہلے کی دلہن کو دیکھنے کی کسی خواہش نے انگڑائی نہیں لی تھی وہ تو سب سے بے نیاز کار ڈرائیو کر رہا تھا جیسے اس وقت اس کے لیے اس سے زیادہ ضروری کوئی دوسرا کام نہیں۔


"داہم اور ہالے دونوں ہی کال نہیں پک کر رہے" زریش بیگم کو اچانک یاد آیا تو بولی ۔

"فکر نہیں کرے آپ لڑائی کرنے میں مشغول ہونگے۔ آج تو گھر میدان جنگ بنا ہوگا" وہاب صاحب بولے تو زریش بیگم نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا۔


"یہ شانو کو بھی آج ہی رکھنی تھی اپنی بیٹی کی۔۔۔ سارے گارڈز اور ملازمین اسکی طرف ہیں" زریش بیگم کو پھر افسوس ہوا۔ آج انکے گھر ملازم کی بیٹی کی شادی تھی تو سب ملازمین اور گارڈز بھی اس شادی میں مدعو تھے زریش بیگم کو اپنے گھر کی فکر تھی جو وہاب صاحب کے بقول میدان جنگ بنا ہوگا اف خدایا۔


بیگم صاحبہ فکر نا کرے۔۔۔ سب ٹھیک ہوگا" وہاب صاحب مسکرا کر اپنی بیوی کو تسلی دیتے بولے۔ گاڑی رکی تو سب باہر نکلے دلشاد کار کی چابی ڈرائیور کے حوالے کرتے ایئرپورٹ کی جانب قدم بڑھا گیا وہاب صاحب، زریش بیگم عنایہ کے ہمراہ پہلے ہی اندر چلے گئے تھے۔ دلشاد ان کی سمت چلنے لگا جب اچانک وہاں کسی لڑکے کی نظریں عنایہ 

پر جمی پا کر اس کی رگیں تن گئی دلشاد اس لڑکے تک پہنچا 


وہ لڑکا نا سمجھی سے دلشاد کو دیکھنے لگا جب دلشاد نے اس لڑکے کا کالر ہی سیدھا کرنے وہاں موجود ہو لیکن اس لڑکے کو دلشاد کے ہاتھ کی گرفت کالر پر اس کا یہاں آنے کا مقصد بخوبی سمجھا گئی اور اوپر سے دلشاد کی لہو ٹپکاتی آنکھیں اس لڑکے کو بے جا خوف محسوس ہوا اگر سامنے کھڑے اس باڈی بلڈر کا ایک ہاتھ پڑ جاتا تو وہ گیا کام سے۔ دلشاد سرد لہجے میں بولا۔


"She is my wife" دلشاد کے بولتے ہی لڑکا شرمندہ ہو کر معافی مانگنے لگا تو دلشاد ایک ناگوار سی نظر اس لڑکے پر ڈالتا لمبے لمبے قدم اٹھاتا عنایہ تک پہنچا اور عنایہ کا پہلو میں گرا ہاتھ تھام کر آگے چلنے لگا وہ چاہے ان چاہا رشتہ تھا لیکن وہ لڑکی اب دلشاد کی بیوی تھی، دلشاد کی محرم اس کی 

حفاظت کرنا اب دلشاد کا فرض تھا عنایہ کو ایک دم دلشاد کا 


یوں اچانک ہاتھ تھامنے پر جھٹکا لگا اور وہ نا سمجھی سے دلشاد کی طرف دیکھنے لگی جس کا چہرہ اب بھی عنایہ کو سہی سے نظر نہیں آیا تھا لیکن دلشاد کے ہاتھ کی گرفت سے اپنے ہاتھ میں فوری طور پر گرماہٹ محسوس ہوئی وہ چپ چاپ چاہے اپنے آپ کو سنبھالتی دلشاد کے قدم سے قدم ملانے لگی جبکہ اس منظر کو دیکھ کو وہاب صاحب اور زریش بیگم کے لب مسکرائے۔


…………………………………………………….


"یہ داہم کہا رہ گیا ہے" ہالے لاؤنج میں ٹہلتے ہوئے اپنے دل میں سوچ رہی تھی ایک پورے گھر میں اکیلی اور اوپر سے اندھی طوفان والا موسم اور داہم جو جلد آنے کا کہتے رات کے 12 بجا چکا تھا۔ اتنے میں ہی ہالے کو دروازے کے پاس قدموں کی چاپ سنائی دی دل پر ہاتھ رکھتی سہمی ہوئی بولی۔


"داہم اگر تم ہو اور یہ مذاق ہے تو جان سے مار دونگی میں تمہیں" ہالے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ایک ایک قدم اٹھاتی دروازے تک پہنچی لیکن وہاں داہم کو نا پاکر اعتراف میں نظریں گھوماتی پلٹی تھی کہ اچانک کسی کا مضبوط ہاتھ اس کی چیخ دبا گیا وہ شخص نقاب میں تھا ہالے بس اتنا ہی دیکھ پائی وہ شخص ہالے کو گھسیٹتا ہوا صوفے تک لے آیا اور پٹخنے والے انداز میں پیچھے دھکا دیا ہالے صوفے پر گری۔


"کوئی نہیں ہے گھر پر شاید یہ لڑکی ہی موجود ہے یہاں" آس پاس سے 4 اور لوگ اسی۔ شخص جیسے حلیے میں نمودار ہوئے جیسے پورے گھر کا جائزہ لے کر آئے ہو وہ بے شک چور تھے چوری کے ہی ارادے سے وہاب ولا اندھیرے میں گھیرا دیکھ کر داخل ہوئے تھے اور گیٹ پر چوکیدار اور گارڈز کا نا پا کر ان کا کام اور آسان ہو گیا تھا۔


"پھر دیری کس بات کی اس کو باندھو اور تلاشی شروع کرو۔۔۔ بہت کچھ ملنے والا ہے اس گھر سے تو" ایک چور غور سے گھر کا جائزہ لیتے ہوئے بولا تو سب اس کی ہی طرف متوجہ تھے لیکن ہالے کے سامنے کھڑا ہوا چور تو بس ہالے پر نظریں جمائے ہوئے تھا جن میں صرف حوس تھی ہالے اس کی نظروں کو محسوس کرتی اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگی اور آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرنے لگی۔


"چلو۔۔۔ کام شروع کرو" پیچھے کھڑا چور اسے متوجہ کرتے بولا تو وہ چور ناگواری سے کچھ بولنے ہی والا تھا جب ہالے کی آواز انھیں متوجہ کر گئی


"داہ۔۔۔۔ داہم۔۔" ہالے بولتی ہوئی داہم تک پہنچنے کے لیے بھاگی کہ ایک چور ہالے کا بازو پکڑ گیا داہم نا سمجھی سے ساری کارروائی دیکھنے رہا تھا لیکن جب سمجھ آئی تو مسکرا گیا لیکن اس کی آنکھوں میں لال ڈوریاں تھی جو جب بنی تھی چور نے ہالے کا بازو پکڑا تھا۔


"بھائیوں آپ لوگ یقیناً چوری کرنے کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے ہیں" داہم مسکراتا آگے قدم بڑھانے لگا تو جس چور نے ہالے کو پکڑا ہوا تھا پسٹل نکال کر ہالے کی پیشانی پر رکھ دی اور بولا۔


"اوو۔۔۔ ہیرو کوئی چلاکی نہیں" چور کے بولنے دوسرا چور اگے ہوا اور داہم پر پسٹل تان دی جس پر داہم سرینڈر والے انداز میں ہاتھ اٹھا گیا۔


"ان کو باندھو اور کام شروع کرو اور اگر چلاکی کرے تو یہی ٹھوک دینا" پیچھے سے ایک چور نے حکم دیا تو وہ دونوں چور ہالے اور داہم کا باندھ کر مختلف کمروں میں تلاشی کے لیے نکل گئے۔


"داہم کیا کر رہے ہو تم" ہالے داہم کو مسلسل چیئر پر ہلتا دیکھ کر بولی جو بیچارہ کرسی سے رسی کو ڈھیلا کرنے اور مسلسل انگلیاں رسی میں پھنساتا اپنے ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔

"بیلی ڈانس کر رہا ہوں" داہم جل کر بولا۔

"گھر میں چور چور پڑے ہیں اور تمہیں بیلی ڈانس سوجھ رہا ہے" ہالے بھی اسی انداز میں نا سمجھی سے بولی۔


"جب سے پاکستان آیا ہوں چور تو ایسے آرہے ہیں میری زندگی میں جیسے عمران خان کے راستے میں پٹواری" داہم آہ بھرتے بولا۔

"شرم کرو سیاست چھوڑو اور کوئی راستہ سوچو ان چوروں سے بچنے کا" ہالے داہم کی بات پر دانت پیس کر بولی۔

"وہی کر رہا ہوں" داہم کے بولتے ہی داہم نے مسکرا کر دونوں ہاتھ لہرا کر کے سامنے کیے جس کا مطلب صاف تھا داہم رسی کھول چکا تھا۔


"یہیہہہہ" ہالے خوشی سے چیخنے والی تھی جب داہم نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا ہالے بھی اثبات میں سر ہلاتی چپ ہوگئی۔ داہم جلدی سے ہالے کے ہاتھ رسی سے آزاد کرتا اپنا فون نکال کر پولیس کو کال ملا کر سارا ماجرا سمجھاتا انہیں جلدی آنے کا کہتا فون جیب میں ڈال رہا تھا جب ہالے بولی۔


"شکر ان لوگوں نے تمہارا موبائل نہیں لیا ورنہ ہم کیا کرتے" داہم ہالے کی بات سنتا مسکرایا۔

"ڈیئر کزن ہمارے ہاں لائن کی سہولت بھی موجود ہے" داہم کے بولنے پر ہالے سر پر ہاتھ مارتی اپنی عقل پر افسوس کرنے لگی۔ اتنے میں ہی ایک چور ان کو رسی سے آزاد دیکھتا ان تک پہنچا جو ایک کمرے کی تلاشی لے کر باہر آیا تھا۔

"ابے اوووو۔۔۔ زیادہ شان پٹی مچائی ہوئی ہے تم لوگوں نے" وہ چور ان تک پہنچتا پسٹل نکالتا بولا۔ داہم ہالے کو اپنے پیچھے رہنے کا اشارہ کرتا معصوم سی شکل بنائے خود چور کے سامنے حاضر ہوا۔


"یار کچھ ملا آپ لوگوں کو؟؟" داہم نے چور سے پوچھا۔

"کوئی چلاکی نہیں" وہ چور داہم کے سوال پر شک بھری نظروں سے پسٹل داہم کی طرف ہلاتے ہوئے بولا۔

"نہیں نہیں بھائی۔۔ میں تو مدد کرنے آرہا تھا یار۔۔۔ لاکر کوڈ آپ کو تھوڑی نا معلوم ہونگے" داہم ہاتھ ہوا میں کرتا بولا اور ہالے تو بس داہم کے پیچھے چھپنے کی کوشش ہی کر رہی تھی۔


"چل کر مدد پھر" داہم کی مدد والے بول پر چور بھی کوڈ پتا کرنے کے لیے جلدی بولا کیونکہ وہ لوگ جس بھی کمرے میں گئے تھے وہاں سب کبرڈز میں لاکر کوڈ سے ہی کھلتے تھے۔


"تو یہ لے" داہم چور کو بولتا اپنا پیر ہوا میں بلند کرتا چور کے پسٹل والے ہاتھوں پر کک مار گیا اور ہوا میں اچھلتی پسٹل کو خود پکڑ گیا اب پسٹل داہم کے ہاتھوں میں تھی اور داہم طنزیہ چور کی طرف مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا اور ہالے جھٹ سے سائیڈ ہوئی اور داہم کو داد دیتی نظروں سے دیکھنے لگی۔


"ہاں تو نام ہے میرا داہم۔۔۔ سنا تو ہوگا؟؟" داہم اپنا ایک ہاتھ بالوں میں پھیرتا چور سے بولا۔

"نہیں" چور بیزاریت سے بولا تو ہالے نے ہنسی چھپائی۔

"کیا تماشہ ہو رہا ہے یہاں" دو چور ایک کمرے سے آتے ہوئے بولے۔

"اب میرا نام تجھے زندگی بھر یاد رہے گا لالا" داہم چور سے بولتا ہالے کو گھوری سے نوازتا پسٹل نیچے کرتا ایک زور دار پنچ چور کو دے مارا سامنے سے آتے دونوں چوروں نے اپنی پسٹل نکالی اور داہم کا نشانہ باندھنے والے تھے جب داہم چور کو دوبارہ کک مارتا اسے چار قدم دور کر گیا اور کلہ بازی کھاتا سامنے کھڑے چوروں میں سے ایک کے منہ پر پیر سے کک مار گیا تو دوسرے چور کو نا سمجھنے کا موقع دیتا کھڑا ہوا اور ہاتھ گھوما کر پنچ رسید کر گیا ۔


…………………………………………………….

جاری ہے۔۔۔۔