"آپ۔۔ آپ میرے شوہر ہیں۔۔ آپ دلشاد وہاب خانزادہ ہیں"

عنایہ کے بولنے پر دلشاد اسے سر سے پاؤں تک دیکھتے بولا۔

"جی میں ہی ہوں وہ بد نصیب آپ کا شوہر مس محترمہ" 

دلشاد کے نا گواری والے انداز پر عنایہ جل کر بولی۔

"ہاں تو میں کونسی خوش قسمت ہوں"

عنایہ نے بھی حساب بے باک کیا۔

"تم میرے منہ مت لگو سمجھی اور یہ شادی میں نے اپنے باپ کے کہنے پر کی ہے۔۔ تو تم اپنے کام سے کام رکھنا" دلشاد تنبیہ کرتا بولا عنایہ کو آگ لگا گیا۔

"میں نے بھی اپنے باپ کے کہنے پر ہی شادی کی ہے سمجھے۔۔۔ اور اس شخص کے کیا منہ لگنا جس کا منہ اس قابل ہی نا ہو" 

عنایہ بولتی واپس ڈریسنگ ٹیبل پر اپنی جیولری اتار کر رکھنے لگی تو دلشاد اس قدر بدتمیزی پر اس کی پشت دیکھنے لگا کیونکہ دلشاد سے آج تک کسی نے اس طرح بات نہیں کی تھی وجہ اس کی باروعب شخصیت تھی اور اسکا سنجیدہ مزاج اور یہ لڑکی کیسے دلشاد وہاب خانزادہ کو جواب دے گی اور اس کے حسین چہرے پر بات کر گئی جس پر لڑکیاں مر مٹنے کو تیار ہوتی تھی۔

"منہ تو تمہارے اچھے سے لگ سکتا ہوں میں اور کس طرح لگ سکتا ہوں سوچ ہی سکتی ہو گی تم"


دلشاد عنایہ تک پہنچتا اس کے دائیں بازو پر اپنی انگلی ٹریس کرتا بولا تو عنایہ کی اس شوخ بھرے لہجے اور دھمکی پر عنایہ کی زبان تالوں سے چپک گئی۔ عنایہ نے نظر اٹھا کر شیشے میں دیکھا تو دلشاد اس کو ہی شیشے میں دیکھ رہا تھا عنایہ کو اس کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی نظر آئی عنایہ کو اس کا لہجے، الفاظ اور اس کے چہرے کے تنے نقوش کا آپس میں کوئی ساتھ نا لگا دلشاد عنایہ کی حالت سے محفوظ ہوتا اپنا رخ ڈریسنگ کی طرف کر گیا تو عنایہ خود کو کمپوز کرتی اپنا ڈریس بیگ سے نکالتی واشروم چلی گئی عنایہ باہر نکلی تو دلشاد کو بیڈ پر چت لیٹا دیکھا۔


"تمہارا تکیہ اور کنفرٹ صوفے پر رکھ دیا ہے بنا آواز کیے سو جاؤ"

دلشاد سپاٹ لہجے میں کہتا کروٹ بدل گیا تو عنایہ اس کی پشت گھورتی چپ چاپ صوفے پر چلی گئی سنا تو وہ بھی سکتی تھی دلشاد کو لیکن تھکاوٹ کے زیر اثر بنا ارگیو منٹ کیے سونا ہی مناسب سمجھا۔

"جاہل آدمی"

عنایہ منہ میں بڑبڑائی عنایہ فوراً نیند کی وادیوں میں اتر گئی جبکہ دلشاد کی آنکھوں میں نیند نام کی کوئی شے نہیں تھی کچھ تھا تو بس وحشت۔ 


…………………………………………………….


"ڈیول"

آیت کی آواز پر ڈیول اس کی طرف متوجہ ہوا جو اس کے حصار میں قید چھت کو گھورنے میں مصروف تھی اور ڈیول تو کراچی سے اسلام آباد آنے کے بعد چپ تھا جیسے چپ رہ کر اپنا غصے کو اور بڑھا رہا ہو آیت نے بھی پورے راستے ڈیول کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی دیکھ اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی بھئی اس سر پھرے کا کیا بھروسہ آیت کی بولتی بند کروانے کے لیے دوبارہ آیت کی بولتی بند کروانے کے لیے دوبارہ آیت کے منہ ہی لگ جائے یہ خیال بھی آیت کا ہی تھا۔ لیکن اب اتنی دیر چپ اور نیند نا آنے کے باعث آیت ڈیول کو مخاطب کر گئی جو خود آنکھیں بند کیے آیت کو حصار میں لیے لیٹا ہوا تھا۔


"ہمممم"

ڈیول بس اتنا ہی بولا تو آیت کمرے کی مدھم سی روشنی اور باہر سے آنے والی چاندنی میں ڈیول کے نقوش دیکھنے لگی اور پھر آیت کی نظر ڈیول کی گردن پر ہڈی کے نمایاں ہونے پر پڑی تو آیت کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی کیوں تھا یہ ڈیول اتنا پر کشش اور ہینڈسم اسے دیکھ کر تو کہی سے بھی نہیں لگتا تھا کہ وہ جرم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے اسی دیکھ کر تو یونانی دیوتا جیسا گمان ہوتا تھا۔ ڈیول جواب نا پاکر آنکھیں واہ کیے آیت کو دیکھنے لگا تو آیت کی نظر خود کی گردن پر محسوس کرکے ڈیول کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔


"میری کوئین کو مجھے دیکھ کر شاید رومانس کی طلب ہو رہی ہے"

ڈیول آیت کے گرد حصار تنگ کرتا بائیں ہاتھ سے آیت کی گردن کو اوپر کرتے آیت کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے بولا آیت کو ڈیول کی نیلی آنکھوں میں چمک دیکھائی دی تو وہی ڈیول کی سانسوں کی تپش سے اپنا چہرہ جھلستا محسوس ہوا۔

"مم۔۔ میرا مطلب وہ نہی"

آیت ڈیول کی بات پر گڑبڑاتی ہوئی بولی اقر ڈیول کی آنکھوں سے نظریں ہٹاتی بولی تو ڈیول کروٹ بدلتا آیت پر چھا گیا۔

"مس غنڈی آفت کی زبان تو لڑکھڑاتی بھی ہے میرے سامنے۔۔۔ انٹرسٹنگ"

ڈیول آیت کے گال پر محبت بھرا لمس چھوڑتے بولا تو آیت نے ڈیول کو گھور کر دیکھا۔


"ہننننہ۔۔۔ زیادہ فری نہیں ہو رہے مجھ سے تم" 

آیت آئیبرو ریز کرتی بولی تو ڈیول قہقہہ لگاتا آیت کی دونوں آنکھوں پر لب رکھتا بولا۔

"اسے فری ہونا نہیں بیوی سے محبت کرنا کہتے ہیں ڈارلنگ"

ڈیول کی اس حرکت پر آیت نے ایک بیٹ مس کی۔

"ڈیول تمہاری فیملی اور" 

ابھی آیت بات پوری کرتی کے۔ ڈیول نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر لیا اپنے منہ میں گھلتی ڈیول کی سانسوں اور خون بھرے ذائقے کو محسوس کرتے آیت کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی ڈیول اپنے عمل میں کبھی آیت کے مزاحمت کرنے پر شدت اختیار کرتا اور کبھی اکھڑتی سانسوں پر ترس کھاتا نرمی سے آیت کو محسوس کرتا کافی دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد ڈیول آیت سے الگ ہوتا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھتا آیت کو بھی نرمی سے اٹھاتا اپنے حصار میں لیتا آیت کی پیٹھ سہلانے لگا جو خود دل پر ہاتھ رکھتے لمبے لمبے سانس لے کر اپنی سانسیں ہموار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔


"ڈیول"

آیت غصے اور شرم کے ملے جلے تاثر لیے ڈیول کو گھور کر اشارہ پانی کی طرف کرتے بس اتنا بولی لیکن ڈیول سمجھتا اٹھا اور آیت کے لیے پانی گلاس میں ڈالے اس تک پہنچا آیت پانی پیتی گلاس بھی ڈیول کو تھما گئی۔ جس پر ڈیول اس کی ہڈدھرمی پر گلاس لیتا اپنی جگہ پر رکھ گیا اور واپس آکر آیت کے سامنے بیٹھا آیت نے ڈیول کے بیٹھتے ہی ڈیول کو پنچ مارنے کی کوشش کی جسے سمجھتا ڈیول اس کی کوشش ناکام کرتا سر نفی میں ہلایا دونوں پر کنفرٹ صحیح کرتا دوبارہ آیت کو اپنے حصار میں لے کر لیٹ گیا۔


"ڈارلنگ۔۔۔ اگر یہ خبر باہر پھیل گئی کہ ڈیول اپنی بیوی سے پٹتا اور اس کی غلامی کرتا ہے تو ڈیول کنگ سے کوئی چڑیا کا بچہ بھی نہیں ڈرے گا۔۔۔ لوگ ڈرتے ہیں ڈیول کنگ کے نام سے اور ایک تم ہو جو مجھے پیٹنے کے موقع ڈھونڈتی ہو"

ڈیول آیت کے بالوں میں انگلیاں چلاتا بولا تو آیت اس کی بات سمجھتے کھلکھلا کر ہنس دی ڈیول کو آیت کی ہنسی اپنے دل پر اترتی محسوس ہوئی۔


"تم سے کس نے کہا تھا پھر اتنی خطرناک اور تمھارا ڈر ملیا میٹ کرنے والی لڑکی کو اپنی بیوی بناؤ"

آیت کے گردن اکڑا کر کہنے پر ڈیول کا دل دوبارہ بے ایمان ہوا تو اپنے دل پر لبیک کہتے ڈیول نے آیت کی چن کو اپنے لبوں سے چھوا تو آیت کو اپنے اندر سکوں سا اترتا محسوس ہوا اور وہ سکون سے آنکھیں بند کیے ڈیول کے لمس کو محسوس کرنے لگی۔

"تمہاری بہادری پر ہی تو یہ نا چیز دل دے بیٹھا تمہیں"

ڈیول پیچھے ہٹتا آیت کی بند آنکھیں دیکھتا بولا اور آیت کی دونوں آنکھوں پر نرمی سے باری باری اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑ گیا۔

"ڈیول میں تمہاری فیملی" آیت کچھ بولتی کہ ڈیول نے اس کے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر اسے چپ کروا گیا۔


"ڈیئر ابھی دیکھا تھا نا اس ٹاپک پر آتے میں نے تمہیں ایک چھوٹا سا ٹریلر دیا تھا اپنی شدت اور جنونیت کا جس سے تم سانس لینے میں ہی ہلکان ہو گئی اور اب دوبارہ تم نے مجھے اس ٹاپک پر لانا ہے تو خود کو تیار رکھنا میری تمام شدتیں برداشت کرنے کے لیے"

ڈیول آیت کا گال رب کرتے ہوئے بولا تو ڈیول کی اس قدر ذومعنی بات پر آیت کا چہرہ لال ٹماٹر ہوا۔

"بے شرم"

ڈیول نے قہقہہ لگاتے آیت کے الفاظ سنے۔

"ڈیول یو لو می؟؟" 

آیت کے اچانک ایسے سوال پر ڈیول آنکھیں سکیڑے اسے دیکھنے لگا اور لمبی سانس کھینچ کر ہوا کے سپرد کی۔


"آئی لو یو مائے لیڈی" ڈیول کے اقرار پر آیت مسکرائی اور ڈیول اس کخ آنکھوں میں اترنے والی چمک اور اپنا عکس دیکھتا آیت کی پیشانی پر محبت مہر کر گیا۔

"اور کتنی محبت کرتے ہو مجھ سے؟؟" 

آیت ڈیول کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ بیٹھی۔

"اتنی کہ تمہارے لیے یہ ڈیول اپنی سانسیں تمہیں دے سکتا ہے لیکن اب تمہارے بغیر سانس نہیں لے سکتا"

ڈیول کی بات پر آیت نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ محبت دیکھ کر خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کیا۔

"اور اگر میں تم سے دور چلی"

ابھی آیت کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ ڈیول اپنی آنکھوں میں محبت کی جگہ وحشت لے آیا اور آیت کے بال مضبوط ہاتھ میں جکڑتا آیت کو سسکنے پر مجبور کر گیا۔


"اگر یہ ڈیول تمہیں محبت میں اپنی سانسیں دے سکتا ہے تو تمہارے مجھ سے دور جانے پر تمہاری سانسیں چھین بھی سکتا ہے۔۔ میں تم سے اگر محبت سے پیش ارہا ہوں تو اسے محبت ہی رہنے دو کیونکہ اگر تم نے مجھ سے بغاوت کی تو ڈیول کنگ کا وہ روپ دیکھو گی جسے دیکھ دنیا میرے خوف سے کانپتی ہے سمجھی آیت زین کمال" 

ڈیول آیت کے چہرے پر دھاڑنے والے انداز میں بولتا آیت کو کانپنے پر مجبور کر گیا۔ ڈیول آیت کا بازو پکڑتا گھسیٹنے کے انداز میں آیت کو لیے واشروم آیا آیت بھی کٹی ڈور کی طرح ڈیول کے ساتھ کھینچتی چلی گئی ڈیول نے شاور ان کرتے آیت کو اس کے نیچے کھڑا کیا۔

"اپنی اس بات کی سزا آج پوری رات یہی کھڑی ہو کر گزارو گی تم"

ڈیول آیت پر جھکتے ایک ہاتھ دیوار پر رکھتے آیت کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتا دو انگلیوں سے آیت کا چہرہ اوپر کرتے بولا ڈیول کے چہرے پر پڑتا پانی اب آیت کے چہرے کو بھگو رہا تھا آیت نے نم آنکھیں اٹھا کر ڈیول کی آنکھوں میں دیکھا تو کچھ دیر پہلے والی محبت کی جگہ اب ڈیول کی آنکھوں میں وحشت غصہ اور جنونیت دیکھائی دی ڈیول کو تو جیسے آیت کے الفاظ ہی بار بار سنائی دے رہے تھے ڈیول اپنے محبت بھلائے آیت کو اپنی سفاکیت کا احساس دلاتے اپنا آدھا جملا مکمل کرتے آیت کو کپکپانے پر مجبور کر گیا۔


…………………………………………………….

جاری ہے۔۔۔