"اگر تم ایک انچ بھی ہلی یہاں سے تو تمہیں اس پیلس کے لان میں کل خود اپنے ہاتھوں سے زندہ دفناو گا"
یہ کہتے ڈیول آیت کو وہی چھوڑتا خود باہر نکل گیا۔ آیت سمجھ گئی تھی کہ دنیا ڈیول کنگ کے نام سے کیوں خوف کھاتی تھی جب ڈیول جس سے محبت کرتا ہے اس کے ساتھ یہ سلوک کرسکتا ہے تو باقی دنیا کا کیا حال کر سکتا ہے وہ جو کچھ دیر پہلے ڈیول کے اظہار محبت کرتے خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی ڈیول نے اسے پل میں زمین پر منہ کے بل گرادیا تھا۔
آیت کمزور تو کبھی نہیں تھی لیکن ڈیول جتنی بہادر بھی نہیں تھی آیت کانپتی وہی کھڑی رہی اور اپنے دل میں اٹھنے والی ڈیول کی باتوں سے تکلیف کو برداشت کرتے، یہاں تک کے ٹھنڈے پانی میں خود کو برف محسوس کرتے پتا نہیں کب ہوش کھو بیٹھی تھی۔ ڈیول جو بیڈ پر سونے کی غرض سے لیٹا تھا لیکن نیند کیا آنکھیں بھی نا جھپکا پایا آیت کے چند الفاظ ہی ڈیول کو انگاروں پر لٹا گئے تھے اس کی زندگی میں کونسا رشتہ تھا جو اس کے اس قدر قریب تھا جتنا آیت کچھ دنوں میں ہو گئی تھی وہ تو آیت کے بنا سانس لینے کو بھی اب محال سمجھتا تھا اور ایک وہ تھی جو اس سے دور جانے کی بات کر رہی تھی
ڈیول بالکنی میں جاتا اپنے ہاتھ میں شراب کا گلاس لیے رات کے منظر میں خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتا پتا نہیں کتنے لمحے گزر گئے جب خود پر قابو نا کر پایا تو ہاتھ میں لیے گلاس کو خود کے ہاتھ میں بھینچا اپنے ہاتھ سے خون بہا گیا واشروم میں آتے نظر ہوش و حواس سے بیگانہ آیت کے وجود پر پڑی تو لب بھینچتا آیت کو باہوں میں اٹھا کر باہر صوفے پر لا کر لٹاتا آیت کے کپڑے لیے ڈریسنگ سے باہر آیا آیت کو کپڑے چینج کرواتا بیڈ پر لٹاتا کنفرٹ اچھے سے آیت پر ڈھکنا خود اپنے کپڑے چینج کرتا آیت کو اپنے حصار میں لے گیا اے سی تو پہلے بند کر چکا تھا اب آیت کے بالوں کو کان کے پیچھے اڑساتا ہوا آیت کی ناک سے اپنی ناک رب کر گیا۔
"تم میری دل میں دھڑکنوں کی جگہ دھڑکتی ہو جان جاناں۔۔۔ تمہیں خود سے دور کر کے میں اپنی موت خود کیسے منتخب کر سکتا ہوں"
ڈیول نے آیت کے ماتھے کو چومتے کہا جو بے ہوش ڈیول کے حصار میں پڑی تھی۔
…………………………………………………….
"آنٹی میں آپ کی کوئی مدد کرو؟"
عنایہ آج صبح اٹھتی باہر آئی تو زریش بیگم کو کچن میں ملازماؤں سے کام کرواتے دیکھ بولی جو ابھی سب کے ٹیبل پر پہنچنے کا سوچتی جلدی جلدی کام کروا رہی تھی۔
"ارے نہیں بیٹا۔۔ بس ہو گیا ہے سب اور آپ بتاؤ آپ کے لیے کچھ سپیشل بنواؤ"
زریش بیگم عنایہ کو محبت سے دیکھتے ہوئے بولی شوکنگ پینک کلر کے جوڑے میں مناسب میک اپ میں، ہاتھوں میں تازہ مہندی کا رنگ لیے، بال کھلے پشت پر ڈالے مناسب جیولری کے ساتھ وہ زریش بیگم کو واقعی نئی نویلی دلہن لگی
اور حسن تو عنایہ کے پاس پہلے ہی لاجواب تھا اور اس پر اس تیاری نے اسے مزید خوبصورت بنا دیا۔ عنایہ کے نفی میں سر ہلانے پر زریش بیگم کچھ بولتی کہ پیچھے داہم وہاب صاحب اور ہالے بھی باری باری ڈائیننگ ٹیبل پر اپنی اپنی جگہ سنبھالتے عنایہ کو دیکھنے لگے۔ اور دلشاد وہاں پہنچا جو کہ جاگنگ سے آتا فریش ہو کر پہنچا تھا دلشاد کی آنکھوں میں لال ڈوریاں دیکھ وہاب صاحب انداز لگا گئے کہ بیٹا کل پوری رات نہیں سو پایا لیکن چپ رہے۔ زریش بیگم محبت سے عنایہ کو دلشاد کے ساتھ والی کرسی پر بٹھاتی خود بھی اپنی جگہ سمبھال گئی۔
"ویسے بھائی ایمرجنسی والی بھابھی کے ساتھ کیسی گزر رہی ہے"
داہم کے شرارت سے بولنے پر دلشاد نے کھا جانے والی نظروں سے داہم کو دیکھا۔
"جیسے اپنے غلطی سے پیدا ہونے والے بھائی کے ساتھ گز رہی ہے"
دلشاد کے بولنے پر وہاب صاحب نے داہم کو گھور کر دیکھا جو دانتوں کی نمائش کرتا اپنی پلیٹ پر جھکا۔
"بھابھی آپ لے نا کچھ"
ہالے عنایہ سے بولی تو عنایہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی۔
"داہم مجھے مال ڈراپ کر دینا"
ہالے داہم کی طرف رخ کرتی بولی۔
"کیوں تمہاری گاڑی کہاں ہے"
دلشاد نے پوچھا تو ہالے نے گاڑی ڈرائیو نا کرنے کا بتایا کی دل نہ چاہ رہا اور ڈرائیور چھٹی پر ہے۔
"ہالے میں کبھی کبھی سوچتا ہوں"
داہم ہالے کی بات پر رخ اس کی طرف کرتا بولا۔
"کیا"
ہالے پوچھا۔
"تم جیسی ہڈ دھرم بیوی جس کے نصیب میں ہوگی اس بیچارے کا کیا ہوگا"
داہم افسوس سے سر نفی میں ہلاتا بولا۔
"میں بھی سوچتی ہوں تم جیسا زبان دراز شوہر جس کے نصیب میں ہوگا اس کا کیا ہوگا"
ہالے بھی داہم کے لہجے میں دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے بولی۔
"تو آپ دونوں ہی ایک دوسرے کا نصیب بن جاؤ"
عنایہ شان بے نیازی سے بولی تو عنایہ کے الفاظ سنتے سب کے کھانا کھاتے ہاتھ روکے اور رخ عنایہ کی طرف ہوا اپنے اوپر سب کی نظریں محسوس کرتے عنایہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو عنایہ گڑبڑائی لیکن عنایہ کی بات پر داہم کا دل چاہا اپنی نئی بھابھی کا ہاتھ چوم لے جو اس کے دل کی بات بول گئی لیکن اپنے اس عمل پر دلشاد کے ہاتھوں بننے کا امیجن کرتا جھر جھری لیتا ہنوز حیرت والا ہی تاثر سجائے ہالے کی طرف دیکھا جو داہم کو دیکھ رہی تھی۔
"نہیں ں ں ں ں ں ں ں ں"
ہالے اور داہم اس قدر چیخے کے عنایہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تو دلشاد نے ناگواری سے دونوں کو دیکھتے سر نفی میں ہلایا جبکہ زریش بیگم پر سوچ انداز اختیار کر گئی اور وہاب ان دونوں کے چیخنے پر قہقہہ لگا اٹھے۔
"سوری۔۔۔ وہ بس میں۔۔۔"
عنایہ کے شرمندہ ہونے پر وہاب صاحب بولے
"ارے نہیں بیٹا۔۔ بس ان دونوں کی ایک دوسرے سے لمحہ بھر بھی نہیں بنتی اس لیے سب شاک ہوئے"
وہاب صاحب کے بولنے پر عنایہ مسکرا گئی۔
……………………………………………………
"بھئی تم تو بڑے چھپے رستم نکلے"
نوریز جو کہ دلشاد کے آفس کل رات پتا چلنے والی خبر سنائی کر آیا تھا دلشاد سے بولا۔
"پلیز اب تم داہم کی طرح شروع نہیں ہو جانا"
دلشاد آفس چئیر سمبھالے بیٹھا بے زاریت سے بولا۔
"اوکے بٹ بھابھی سے ملوائے گا نہیں"
نوریز کافی کا گھونٹ بھرتے بولا۔
"تو گھر پر جانا تھا یہاں کیا کرنے آئے ہو؟"
دلشاد جل کر بولا کیونکہ جب سے نوریز دلشاد کے آفس آیا تھا صرف ایک ہی ٹاپک تھا جسے ڈسکس کر رہا تھا اور وہ تھا دلشاد کا ایمرجنسی شادی کرنا۔
"وہاں بھی آرہا ہوں شام میں۔۔۔ اور میں بتا رہا ہوں تیری وجہ سے میرا بھی بھلا ہوگا۔۔۔ اور داہم کو بولو کوئی ضرورت نہیں واپسی کی۔۔۔ پھر مجھ سے شکایت نا کرے وہ کہ میں نے بھی اپنی شادی پر نہیں بلایا اسے"
نوریز شرارت آنکھوں میں لیے مسکرا کر بولا
"کیسا بھلا؟؟ اور شادی؟؟"
دلشاد سمجھ تو گیا تھا اشارہ کس طرف ہے لیکن پھر بھی شاید کنفرم کرنا چاہا۔
"تیری شادی کا سن کر موم نے ویسے میرے پیچھے پڑ جانا ہے۔۔۔ اب تک تو شادی کرنے کی وجہ نہیں تھی میرے پاس لیکن اب ہے۔۔ اور بھلا میں اپنی شادی کی بات خود کرتے اچھا تھوڑی لگوں گا۔۔ اب موم ڈیڈ بولے گے تو۔۔"
نوریز کی وجہ والی بات پر اس کی آنکھوں میں نمل کا چہرہ لہرا گیا جسے مسکراتے اور پھر آخر میں شرارت سے بات ادھوری چھوڑی۔ جس پر دلشاد نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔
"آنٹی انک ماں جائے گے نمل لو لے کر؟؟"
دلشاد کے یوں نمل کا نام لینے پر نوریز ہونک بنا۔
"تجھے ۔۔۔ کیسے۔۔۔"
نوریز نے حیرت سے پوچھا۔
"تیری آنکھوں میں نمل نام کی چمک ہے اور وجہ بھی شادی کی یقیناً وہی ہوگی"
دلشاد اپنی جگہ سے اٹھتا نوریز کو اپنے روبرو کرتے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تو نوریز نے اپنے جگر کے گلے لگ کر بات کی تائید کی۔
"بابا کا پتا ہے مجھے انہیں نمل کے خاندان سے مسلہ ہوتا اور شاید چاچو کو بھی لیکن۔۔۔ نمل کے پاس اس کی شناخت ہے اور اس کے والدین کسی ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئے تھے۔۔۔ ورنہ شاید وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہوتی۔۔۔ تو بابا اور چاچو کو کیا اعتراض ہوگا اور ماما کو تا نمل ویسے ہی بہت پسند ہے"
نوریز نے دلشاد کا اشارہ نمل کے یتیم خانے سے تعلق رکھنے والی بات پر سمجھتے ہوئے دلشاد کو تفصیل بتائی جو نمل نے ان کے سامنے پیش کی تھی یتیم خانے کی معلومات سے بچنے کے لیے البتہ شناخت والی بات سچ تھی نمل کی ماں نے نمل کو اس کے باپ اور جائز رشتے کا بتاتے ہوئے نمل کو پوری اس کی شناخت دی تھی جسے اس کا باپ نہیں دے پایا لیکن ماں نے اپنا فرض ادا کیا تھا۔
"اور تجھے"
دلشاد کے پوچھنے پر نوریز نے لمبی سانس کھینچ کر ہوا کے سپرد کی۔
"نمل تو پہلی نظر میں ہی میرے دل میں اتر گئی تھی میں نے نمل کے لیے جو محسوس کیا وہ میں بیان ہی نہیں کرسکتا۔۔۔ شاید اب نوریز کاشان یوسفزئی محبت میں ڈھیر ہو چکا ہے۔۔ اور مجھے اپنا وجود اس ڈھیر میں دل و جان سے قبول ہے"
نوریز کی بات پر دلشاد کو ہالے کا آنسوؤں سے تر چہرہ یاد آیا لیکن وہ نوریز کو غلط نہیں کہہ سکتا تھا نوریز نے کبھی ہالے کے لیے وہ محسوس ہی نہیں کیا تھا جو ہالے نوریز کے لیے کرتی تھی۔ دلشاد نوریز کے لیے خوش تھا کہ اس کا دوست جسے چاہتا ہے وہ اسے مل جائے گی۔
…………………………………………………….
جاری ہے۔۔۔

0 Comments