"میں دعا کرتا ہوں تجھے تیری محبت مل جائے"

دلشاد نے کہا۔

"دلشاد توں بھی اس رشتے کو قبول کرنے کی کوشش کر اب شادی جیسے بھی ہوئی ہو وہ تیری بیوی ہے۔۔۔ خود کو ماضی کی یادوں سے چھٹکارا دلا"

نوریز کی بات پر دلشاد کو اپنا آپ کسی صحرا میں کھڑا پایا۔

"ماضی کی یادیں ہی ہے جس کی وجہ سے سانس لے پا رہا ہوں ورنہ یہ دلشاد وہاب خانزادہ کب کا زمین میں در گور ہو جاتا۔۔ وہ عشق ہے میرا اس کی یادوں سے بھی بے وفائی نہیں کر سکتا میں۔۔ صحرائے محبت کا اصول ہے جسے چاہو اس کے پیچھے ایسے دیوانے ہو جاؤ وہ پاس نا ہو تو بھی ایک صحرا میں کھڑے پیاسے انسان کی طرح جوٹھے پانی کے طلسم کو بھی حقیقت مان کر اس تک دیوانہ وار رسائی حاصل کرو"


دلشاد نے کرب سے کہا تو نوریز کو اپنے دوست کی آنکھیں نم ہوتی محسوس ہوئی وہ جو دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا تھا محبت کی زنجیر میں گھٹنوں کے بل کھینچتا جا رہا تھا۔ نوریز نے دلشاد کے کندھے پر ہاتھ رکھا دلشاد جو کسی کے وجود کے حولے کو اپنی آنکھوں کھ سامنے لہراتے ہوئے دیکھ رہا تھا پل میں آنکھوں کے کنارے انگھوٹھے سے صاف کرتا خود کو کمپوزئکر گیا۔ وہ ایسا ہی تھا اپنی تکلیف اپنوں سے چھپانے والا۔


…………………………………………………….


آیت کی آنکھ صبح کھلی تو خود کو بیڈ پر پاکر کل رات والا منظر نظروں کے سامنے لہرایا پہلے بے یقینی سے خود کو اور بیڈ کو دیکھتی رہی یقیناً ڈیول ہی اسے یہاں لے کر آیا تھا اور اسکے کپڑے بھی ڈیول نے ہی چینج کیے ہونگے آیت یہ سوچتے ہی خود کا جائزہ لینے لگی پھر ڈیول کو ڈھونڈنے کے لیے اعتراف میں نظریں گھمائی لیکن اسے کمرے میں نا پاکر اٹھتی فریش ہونے چلی گئی فریش ہو کر ناشتے کی غرض سے نیچے آئی تو ڈیول کو دیکھ کر اسکی سانسیں تھمی ڈیول سیڑھیاں چڑھتا شاید کمرے میں ہی جا رہا تھا آیت ایک سٹیپ لینا بھول گئی ابھی گرتی کہ ڈیول آیت تک ایک ہی جست میں پہنچا آیت کے پیٹ پر ہاتھ گھوماتے آیت کو اپنے حصار میں لے گیا۔


"اپنے قدم سمبھل کر رکھو یہ ڈگمگائے اور ایک بھی خراش تمہیں آئی تو جان لے لونگا تمہاری"

ڈیول آیت کو اپنی گود میں اٹھاتا سخت لہجے میں بولا آیت سانس روکے ڈیول کی بات سنتے ہوئے سوچ میں پڑگئی کل خود مرنے کے لیے چھوڑ کر خود ہی بچا کر اور خود ہی جان نکالنے والی بات کر رہا تھا کیا تھا یہ شخص ایک کے یوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے پر ڈیول نے آیت کی ناک کو لبوں سے چھوا آیت گڑبڑا کر نظریں پھیر گئی ڈیول ریلنگ صاف کرتی ملازمہ کو کک سے ناشتہ بنوانے اور کمرے میں لے کر آنے کا بولتا آیت کو لیے واپس کمرے میں اگیا۔ آیت کو بیڈ پر بٹھاتا خود اسکے سامنے بیٹھ گیا۔ 


"طبیعت ٹھیک ہے"

ڈیول نے محبت پاش لہجے میں پوچھا۔

"تمہیں فرق پڑتا ہے؟"

آیت رخ پھیرتی آنکھوں میں کل رات ڈیول کے رویے پر نمی لیے بولی۔

"مجھے ہی تو فرق پڑتا ہے مائے لیڈی"

ڈیول آیت کا رخ اپنی طرف کرتے آیت کی آنکھوں کی نمی کو اپنے لبوں سے چنتے ہوئے بولا۔

"تبھی کل۔۔۔"

آیت کچھ بولتی کہ ڈیول اس کے لبوں پر انگلی رکھ گیا اور چپ رہنے کا اشارہ کر گیا۔

"کہا ہے نا تمہارے بغیر سانس لینے کا سوچ نہیں سکتا میں اور تم تو مجھ سے دور جانے کی بات کر رہی تھی ڈارلنگ۔۔۔ آئیندہ مت کرنا ورنہ مجھے خود نہیں پتا کیا کر بیٹھوں"

ڈیول آیت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور دروازہ ناک ہونے پر اپنی جگہ سے اٹھتا دروازہ کھولتا ملازمہ سے کھانا اندر رکھوا کر آیت کے پاس بیٹھتا اپنے ہاتھوں سے آیت کو 


ناشتہ کروانے لگا آیت کو ڈیول کی آنکھوں میں اپنے لیے جنونیت دیکھ کر آیت کا دل ایک خوشگوار کیفیت میں مبتلا ہوا اور ڈیول کی اپنے لیے کیئر دیکھ کر اپنے اندر اسے ڈیول کے وجود سے اپنائیت کا بے دھڑک احساس ہوا اپنائیت کا احساس تو اسی دن قائم ہوگیا تھا جب وہ ڈیول کے نکاح میں آئی تھی وہ رشتہ ہی ایسا ہے جو دو اجنبی لوگوں کو بھی ایک کر دے اور آیت تو نفرتوں کی شکار لڑکی اپنے لیے ڈیول کی جنونی محبت دیکھ کر ڈیول کو اپنا دل دے بیٹھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب اچانک نظر ڈیول کے ہاتھ پر زخم پر گئی جو کل تک تو نہیں تھا اور ڈیول کنگ کو کون تکلیف دے سکتا تھا بھلا؟؟ وہ اپنی سوچوں میں دوبارہ گم ہوئی اس بات 


سے انجان یہ تکلیف بھی ڈیول نے خود کو دی تھی اپنی جانِ جاناں کو تکلیف پہنچانے پر آیت ڈیول کے جوس پلانے پر گلاس ڈیول کی طرف موڑ گئی جس پر ڈیول کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی اور نفی میں سر ہلاتا آیت کو جوس فنش کرواتا اپنے اور آیت کے درمیان کا فاصلہ ختم کرتا آیت کو بنا سمجھنے کا موقع دیئے آیت کے لبوں پر جھک گیا آیت نے ڈیول کی شدت پر ڈیول کی شرٹ مٹھیوں میں بھینچ لی کافی دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد ڈیول آیت سے الگ ہوا تو آیت کا نچلا ہونٹ اپنے انگھوٹھے سے سہلانے لگا۔


"مجھے تو تمہارے ہونٹوں کی پیاس تھی جانِ جاناں"

ڈیول آیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا جو اسے خونخوار نظروں سے گھورتی خود کو سلواتے سنا رہی تھی کہ کیوں کیا جوس کا رخ اس بدتمیز شخص کی طرف۔

"میں تمہارا سر پھاڑ دونگی۔۔۔ دوبارہ ایسا کیا تو"

آیت کی بات پر ڈیول کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔

"یار تھوڑی محبت کر لیا کرو اکلوتا شوہر ہوں تمہارا۔۔ لڑکیاں پاگل ہے تمہارے شوہر کے پیچھے اور ایک تم ہو تمہیں قدر نہیں"

ڈیول شرارت سے بولا۔

"ہننننہ۔۔۔ وہ لڑکیاں پاگل خانے سے ہی تعلق رکھتی ہونگی"

آیت نے دو بدوک بولا۔

"سوچ لو میں افئیر بھی چلا سکتا ہوں"

ڈیول نے ایک کو ڈرانا چاہا۔

"کر لو پھر اسکے سمیت تمہیں زندہ جلا دونگی"


آیت ڈیول کی بات پر اس کا کالر پکڑتی بولی تو ڈیول آیت کے دونوں ہاتھ باری باری چومتا آیت کے چہرے پر اپنے دائیں ہاتھ کی پشت ٹریس کرنے لگا ڈیول کی حرکت پر آیت کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔

"میری جلالی بیوی"

ڈیول سر جھٹکتا آیت کے رخسار پر لب رکھتے پیچھے ہو کر بولا۔

"تیار ہو جاؤ جلالی۔۔ میرا مطلب ہے جلدی ہمیں کہیں جانا ہے"

ڈیول آیت کو کھڑے کرتے آیت کو آگ لگاتا جلالی لفظ بول گیا لیکن جلدی آیت کے پنچ مارنے پر یہ جملا صحیح کرتا بولا اور آیت کا پنچ رک گیا تو آیت نے اس سے پوچھنا چاہا کہا پر۔

"سوال نہیں تمہیں خود پتا چل جائے گا"

ڈیول کے بولنے پر آیت سمجھ گئی وہ نہیں بتائے گا تو چپ کر کے تیار ہونے لگی ڈیول آیت کی پشت دیکھتا واپس آیت کو 


نڈر والے روپ میں دیکھ مسکراتا نفی میں سر ہلا گیا۔ ڈیول آیت کا ہاتھ تھامتے آیت کو کار میں بیٹھاتا خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال گیا۔ گاڑی ایک ہاسپٹل کے سامنے رکی تو آیت ڈیول کی طرف ناسمجھی سے دیکھنے لگی جسے ڈیول اگنور کرتا اس کا ہاتھ تھامے ہاسپٹل کے اندر قدم رکھتے ہوئے اپنے گارڈز کو وہی سیکورٹی دینے کا بولتا دو گارڈز کو اپنے پیچھے آنے کا کہتا باقی سب کو اعتراف میں کھڑا کر گیا۔ ہاسپٹل کے اندر جتنی بھی لڑکیاں تھی جن میں کچھ تو ڈاکٹر اور نرسیز تھی ڈیول کے ہر قدم کے ساتھ گردن موڑے اس یونانی دیوتا جیسی شخصیت کو دیکھ رہی تھی اور ساتھ پریوں 


جیسی خوبصورت لڑکی کو جس کا ہاتھ ڈیول نے تھاما ہوا تھا جبکہ آیت سب کو گھور رہی تھی کہ یہ لوگ اس کے شوہر کو کیسے گھور رہی تھیں۔ ڈیول ایک کمرے کے آگے رکتا گارڈ کے آگے بڑھنے اقر دروازہ کھولنے آیت کے ساتھ اندر داخل ہوا آیت اندر جاوید صاحب کو دیکھ اور ان کے ساتھ چیئر پر بیٹھی عائشہ کی طرف بڑھی جو زار و قطار رو رہی تھی جاوید صاحب دل کے مریض تھے اور کل رات انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا جس پر ڈاکٹر نے ان کے پاس کم وقت کا بتایا وہ جیک نے اپنا آدمی جو عائشہ کی حفاظت کے لیے وہاں چھوڑا ہوا تھا اس کے ایمبولینس عائشہ کے گھر آنے پر جیک فوراً وہاں پہنچا اور جاوید صاحب کو ہاسپٹل لے آیا عائشہ کی دونوں بڑی بہنیں اور بہنوئی وہاں موجود تھے جنھیں عائشہ نے جیک کا تعارف آیت کے دیور کے طور پر ہی کروایا تھا۔


"نکاح شروع کریں"

ڈیول کے بولنے پر آیت نے گردن موڑ کر دیکھا تو مولوی صاحب وہی بیٹھیں تھے ڈیول آیت کا ہاتھ تھامتے صوفے پر بیٹھ گیا اور آیت کو بھی بیٹھا دیا۔ جیک کو کہ جاوید صاحب کے نکاح کے لیے ہاتھ جوڑنے پر سارہ انتظام کر چکا تھا ڈیول کا انتظار کر رہا تھا کرتا بھی کیوں نا ڈیول کو جیک اور ہشام بڑا بھائی جو مانتے تھے جیک کے ساتھ ہشام بھی بیٹھا تھا کسی کو وہاں شک ہی نہیں تھا کہ وہ لوگ کون ہے کیونکہ نا تو ان کی شخصیت اور نا ہی ان کے چہرے بتاتے تھے کہ وہ لوگ مافیا ورلڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور آیت کے سسرال سے تھے تو یقیناً اچھے لوگ ہونگے اور امیر بھی وہ تو ان کی ٹھاٹ باٹ دیکھ کر ہی معلوم پڑتا تھا لیکن آیت اور عائشہ سب جاننے کے باوجود بھی جاوید صاحب کی طبیعت کے لیے خاموش ہی رہی اور اگر کچھ بول بھی دیتی تو ان سر پھرے 


غنڈوں کا کیا کر سکتی تھی اور ان کا کیا کوئی بگاڑ سکتا تھا نکاح ہو چکا تھا اور اب عائشہ، عائشہ جاوید سے عائشہ ارسلان میر بن چکی تھی جاوید صاحب کو بھی شاید اسی پل کا انتظار تھا اسی لیے سکوں سے کبھی نا اٹھنے کے لیے آنکھیں موند گئے آیت نے جاوید صاحب کی تدفین اور عائشہ کے ساتھ رہنے کی بات کی تو ڈیول اسے تدفین تک رکنے اور عائشہ کے ساتھ پیلس آنے کا کہتا جیک کو ان کی حفاظت کرنے کا کہتا ہشام کے ساتھ قدم بڑھا گیا آج اسے راحیل اور سلطان سے بھی تو ملنا تھا جو اپنی موت کا انتظار ڈیول کی بیسمنٹ میں کر رہے تھے۔


ڈیول بیسمنٹ میں داخل ہوتا راحیل اور سلطان کی طرف دیکھنے لگا جو آدھ مری حالت میں تھے ڈیول کو ان کی حالت دیکھتے عنایہ کا آنسوؤں سے تو چہرہ یاد آیا ڈیول الیکڑک شاک دینے کا کہتا وہی ہشام کے چیئر رکھنے پر بیٹھ گیا اور ڈیول کے آدمی اپنے باس کی بات پر لبیک کہتے راحیل اور سلطان کو الیکٹراک شاک دینے لگے ان کی چیخوں سے ڈیول کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی ڈیول ہاتھ کے اشارے سے بس کہتا اپنی جگہ سے اٹھتا راحیل کے بال مٹھی میں جکڑتا سر اوپر کرتا بولا جو آدھی بے ہوشی میں جھول رہا تھا جبکہ سلطان تو کب کا اپنے ہوش کھو چکا تھا۔


…………………………………………………….


جاری ہے۔۔۔۔