"میری بہن کو تکلیف دی تو نے۔۔۔ تیری جرت کی سزا ہے یہ اور مرنے تک یوں ہی پل پل تڑپ تڑپ کر جینا ہوگا تجھے۔۔۔ زین کمال کی بہن کے آنسو بہائیں توں نے اب موت کا انتظار بھیک مانگ مانگ کر ختم کرے گا تو"
ڈیول بولتا وہاں سے نکل گیا۔
"ہشام یہ دونوں مرنے نہیں چاہئے لیکن زندہ بھی نہیں رہنے چاہیے انہیں اتنی تکلیف دو کہ میں عنایہ کے آنسو بھلا سکوں"
ڈیول اپنے آفس میں قدم رکھتے پیچھے آتے ہشام سے بولا جو اثبات میں سر ہلا گیا۔
…………………………………………………….
"بھابھی آپ بھی یہاں مجھے جوئن کر سکتی ہیں میرے ہاسپٹل میں۔۔۔ مجھے کل امریکہ جانا ہے پھر آپکے ولیمے پر پرمینینٹ یہاں منتقل پو کر اپنا ہاسپٹل سنبھالو گا"
داہم عنایہ سے بولا جسے ہالے زبردستی اپنے ساتھ شاپنگ پر لے ائی تھی پھر داہم ان دونوں کو اپنے ہاسپٹل لے آیا یہ ہاسپٹل دلشاد نے داہم کے لیے بیسٹ سٹاف کے مد نظر رکھتے تعمیر کروایا تھا جہاں غریبوں کا علاج فری میں کیا جاتا تھا اور صاحب استطاعت لوگوں سے چارجز لیے جاتے تھے یہ ہاسپٹل اسلام آباد کے ٹاپ 5 ہاسپٹل میں سے ایک تھا جو ایک سال کے اندر ہی کافی مقبولیت پا چکا تھا داہم کی سپیشلائزیشن مکمل ہونے پر یہ ہاسپٹل داہم کے انڈر آنے والا تھا اور اس میں بس کچھ دن ہی رہ گئے تھے داہم ایک قابل اور امریکہ کے نامور ڈاکٹرز میں سے ایک مانا جاتا تھا وجہ اس کی کم عمری میں انتھک محنت تھی۔
"مجھے خوشی ہوگی داہم"
عنایہ ہاسپٹل کا وزٹ کرتے اپنے دیور کی بات پر مسکراتے ہوئے بولی۔ عنایہ ایک ڈاکٹر ہے یہ بات سب ہی جان گئے تھے۔
"داہم۔۔۔ کچھ کھانے کے لیے منگوا لو بہت بھوک لگ رہی ہے"
ہالے داہم کے آفس میں اس کی چئیر سمبھالتی بولی جبکہ عنایہ صوفے پر بیٹھ گئی اور داہم آنکھیں چھوٹی کیے ہالے کو گھورنے لگا۔
"تم میری چیئر پر بیٹھی ہو میڈم"
داہم بولا۔
"تو"
ہالے کندھے اچکا کر بولی۔
"تو یہ کہ۔۔۔ اس پو بیٹھنا صرف داہم وہاب خانزادہ کا حلال حق ہے"
داہم اس کے پاس جاتا ٹیبل پر ٹیک لگا کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھتا بولا۔
"کہا لکھا ہے"
ہالے چیئر کو اعتراف سے دیکھتی بولی تو داہم نفی میں سر ہلاتا فون ملاتا کھانے کا آرڈر دے گیا اور عنایہ کے ساتھ صوفے پر کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔ کھانا آتے خوشگوار ماحول میں کھاتے اب داہم عنایہ سے اس کے کراچی ہاسپٹل کے بارے میں پوچھ رہا تھا اور ہالے موبائل میں گم تھی۔
"سر ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے اور سب ڈاکٹرز لنچ کرنے گئے ہیں آپ پیشنٹ اٹینڈ کرنے سکتے ہے وہ اسی فلور پر ہے اسی لیے میں آپ کے پاس آئی ہوں پہلے"
نرس ڈور ناک کرتی اجازت ملنے پر آتی بولی تو داہم اثبات میں سر ہلاتا باہر آیا عنایہ اور ہالے کو انتظار کرنے کا بول گیا۔ باہر نکلتے ہی ایک لڑکا جس کا شاید ایکسیڈنٹ ہوا تھا اپنے سر اور ہاتھوں پر چوٹ لیے کھڑا تھا داہم اس کی مرہم پٹی کرنے لگا جب اچانک ہالے وارڈ میں داخل ہوتی بولی۔
"آہل تم"
ہالے آئی تو داہم سے پوچھنے تھی کتنی دیر لگنی ہے لیکن بے یقینی سے لڑکے کو دیکھتے اس کی طرف بڑھی جو ہالے کا یونیورسٹی فیلو تھا وہ لڑکا بھی آواز پر ہالے کی طرف متوجہ ہوتا مسکرا گیا جبکہ داہم ہالے کا یوں اس لڑکے کا نام لینے پر جبڑے بھینچ گیا ہالے اس لڑکے کے پاس آتی اسے کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئی جبکہ داہم کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور ہالے میڈم تو بے پرواہ اہل کی طرف متوجہ تھی۔
"ہالے آفریدی تم ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہو"
اہل شرارت سے ہالے سے بولا تو ہالے نے اسے گھور کر دیکھا۔
"شت آپ یہ ہاسپٹل میرے کزن کا ہے جس کے سامنے تم بیٹھے ہو اور مجھے تو لگتا ہے تم ضرور ایڈمٹ ہو جاؤ گے یہاں۔۔۔ اور یہ حالت بھی یقیناً تمہاری بائیک ریس کے شوق سے ہی ہوئی ہوگی"
ہالے اہل کے سر کی چوٹ پر انگلی رکھتے بولی تو اہل قہقہہ لگا اٹھا۔
"اب تمہیں پتا ہے مجھے کتنا شوق ہے اور شوق کا تو مول نہیں ہوتا نا"
اہل مسکراتا بولا تو ہالے نفی میں سر ہلا گئی اہل داہم کو دیکھتا بولا جو اسے سخت نظروں سے گھور رہا تھا۔
"ہائے۔۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی اور تھینکس فار یور کائینڈنس"
اہل بولا تو داہم بس طنز سے مسکرا گیا اور ہالے کی طرف متوجہ ہوا۔
"تم جاؤ گی یہاں سے"
داہم کا سرد مہری سے بولنا ہالے کو اسی خوف میں مبتلا کر گیا جیسے چور کا ہاتھ زخمی کرتے ہالے کو داہم سے ہوا تھا۔ ہالے نا سمجھی سے داہم کو دیکھنے لگی ہالے کو داہم کی آنکھیں لال ہوتی محسوس ہوئی۔
"آئی سیڈ گو ہالے"
داہم دوبارہ سخت لہجے میں بولا تو ہالے ناسمجھی سے پیچھے ہوتی اہل کو بائے کرتی وہاں سے نکل گئی۔ اہل نے بھی داہم کے پہلے نرمی اور پھر اس قدر سخت لہجے کو محسوس کیا اور خالی نظروں سے داہم کو دیکھنے لگا داہم اٹھتا اہل کے سر پر پہنچتا زخم صاف کرتے اہل کے زخم پر مزید دباؤ دے گیا اور دوسرا ہاتھ اسی کندھے پر رکھتا جہاں ہالے نے رکھا تھا بے جاں دباؤ بڑھاتا اہل کو کراہنے پر مجبور کر گیا داہم تو ویسے ہی باڈی بلڈر تھا اس کے ایک ہاتھ کا وزن ہی اہل جیسے مناسب شخصیت رکھنے والے مرد کو تکلیف میں مبتلا کر گیا
"آئیندہ ہالے کبھی نظر بھی آئے تو مجھے اس راستے پر تم نظر نہیں آنے چاہیے ورنہ میں سر پھرا ڈاکٹر ہو زخم پر مرہم لگانے کی جگہ زخم دینے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤ گا"
داہم کے لہجے پر اہل نے تھوک نگلتے اثبات میں سر ہلاتا بنا سر کی بینڈج کروائے وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا اہل جیسے کائینڈنس کے لیے شکریہ ادا کر رہا تھا اور ملاقات کے خوشگوار الفاظ ادا کر رہا تھا اب داہم سے ملاقات پر پچھتاتا
رہ گیا۔ جبکہ ہالے وارڈ کے باہر کھڑی اور اہل کے یوں بینڈج نا کروانے اور ہالے کو اگنور کر کے جانے پر اس کی پشت نا سمجھو کی طرح دیکھنے لگی پھر داہم کے اس سے سختی سے بات کرنے پر وارن کرنے کے لیے وارڈ میں قدم بڑھانے لگی تو داہم کے اچانک باہر آنے پر داہم سے ٹکرا کر گرتی کہ داہم اسے کمر سے پکڑتا گرنے سے بچا گیا داہم ہالے کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو داہم کو دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی داہم مسکرا کر ہالے کو اپنے سامنے کھڑا کر گیا۔
"تم داہم اگر پھر کبھی مجھ سے اس لہجے میں بات کی تو مار مار کر گنجا کر دو گی تمہیں"
ہالے انگلی اٹھا کر داہم کو وارننگ دیتے بولی۔
"اللہ تمہارے ہاتھ تیزاب سے جلائے گا ہالے۔۔۔ میرے حسین بالوں سے حسد کرتی ہو"
داہم ہالے کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتا بولا۔
"تم نے اگر اپنا یہ حسن پروانہ ختم نہیں کیا نا تو میں تم پر ضرور تیزاب پھینک دوں گی"
ہالے جل کر بولی تو۔ داہم اس کا دھیان اپنے لہجے سے ہٹتا دیکھ شکر کرتا مزید ہالے کو سنا گیا۔
"حاسد عورت"
داہم بول کر قدم بڑھا گیا جبکہ ہالے عورت والی بات پر چیخی۔
"داہممممممممم"
ہالے کے چیخنے پر داہم کندھے اچکاتا عنایہ کو آفس سے باہر آنے کا کہتا ان دونوں کو لیے گھر کے لیے نکلا جبکہ پورا راستہ ہالے منہ پھلائے ناراضگی کا اظہار کیے بیٹھی رہی جبکہ عنایہ سمجھ گئی تھی ضرور داہم نے ہی کچھ کیا ہو گا نفی میں سر ہلاتی داہم کی طرف خفا نظروں سے دیکھنے لگی جس کو سمجھتے داہم نے ڈھیٹ بنے کندھے اچکا دیے۔
…………………………………………………….
"تم ٹھیک ہو؟"
جیک عائشہ کے پاس صوفے پر کچھ فاصلے پر بیٹھتا ہوا بولا جسے کچھ دیر پہلے پیلس لے کر آیا تھا جاوید صاحب کی تدفین کے بعد آیت اور عائشہ کو لیے پیلس آیا تھا جیک نے عائشہ کی دونوں بہنوں کو مطمئن کر دیا تھا کہ وہ عائشہ کی طرف سے بے فکر رہیں۔ آیت عائشہ اور جیک کے روم میں ہی تھی جب ڈیول نے اپنے روم آنے کا کہہ دیا اور جیک بیچارے کو اب موقع ملا تھا اپنی رونے سے بے حال نئی نویلی بیوی کو دیکھنے کا۔
"ج۔۔جی۔۔۔"
عائشہ سسکی لیتے ہوئے بولی تو جیک نے نفی میں سر ہلایا اور عائشہ کے بلکل پاس آکر بیٹھ گیا۔
"رونا بند کرو مسز مجھے تکلیف دے رہے ہیں تمہارے آنسو"
جیک عائشہ کے آنسو اپنی شہادت کی انگلی سے چنتا ہوا بولا۔ عائشہ جیک کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جس پر جیک نے عائشہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے اندر بھینچ لیا عائشہ جیک کی اس حرکت پر بری طرح گڑبڑائی اور جیک کے کندھوں پر اپنے چھوٹے چھوٹے مقوں سے وار کرنے لگی۔
"آپ۔۔۔ آپ کو شرم نہیں آتی۔۔۔ چھوڑیں مجھے"
جیک عائشہ کی اس بات پر قہقہہ لگا اٹھا اور اپنا چہرہ عائشہ کے بے حد قریب کر گیا اتنا کہ عائشہ کو اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر پڑتی محسوس ہوئی۔
"شرم سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔۔۔ تو میں نہیں جانتا وی کون ہے"
جیک عائشہ کے چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان دیکھتا بولا۔
"آپ تو ہے ہی بے شرم۔۔۔ اور ایک میری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مجھ سے شادی کرلی۔۔۔ لیکن مجھ سے دور رہیئے گا۔۔۔ سمجھے ورنہ"
عائشہ جیک کو گھورتی اپنا آپ جیک کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی جبکہ جیک اپنی بھیگی بلی کا دھمکانا دیکھ دل ہی دل عش عش کر اٹھا۔
"ورنہ"
جیک اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر اور عائشہ کو آزاد کرتا دونوں ہاتھ ہینڈزاپ کرتے ہوئے بولا جیسے عائشہ کی دھمکی سے ڈر گیا ہو
"یہ جو اتنا حسین چہرہ ہے نا اس کا نقشہ بگاڑ دونگی"
عائشہ پر سکون ہوتی بالوں کو کان کے پیچھے کرتی بولی تو عائشہ کی دھمکی پر جیک کھڑا ہوتا دونوں ہاتھ جیبوں میں اڑسا گیا۔
"چلو میری بیگم نے مانا تو سہی میں حسین ہوں"
جیک شوخی سے بولا تو عائشہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتی اپنی کہی بات کو یاد کرتی خود کو ہی سلواتوں سے نوازنے لگی جبکہ عائشہ کی اس حرکت پر جیک مسکرا گیا۔
"ڈیئر وائفی۔۔۔ میں نے جب تمہیں دیکھا تھا تبھی تمہیں اپنا بنانے کا سوچ لیا تھا۔۔۔ میں بہت پرسکون بندہ ہوں جرم بھی کرتا ہوں تو سکون سے لیکن تمہیں دیکھتے ہی میرے دل میں ایک شور برپا ہوگیا۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہے اور بے انتہا ہے شاید کیونکہ ارسلان میر ہر لڑکی کو اپنی بیوی کے عہدے پر فائز نہیں کرتا۔۔۔ اور اگر مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہوتا بہت کچھ کر سکتا تھا بنا رشتے کے ضروری نہیں تھا تمہیں بیوی کا لقب دینا۔۔۔ اور اب بھی کر سکتا ہوں لیکن میں تمہیں اس رشتے کو قبول کرنے کا وقت دیتا ہوں مجھے پتا ہے ہماری شادی کن حالات میں ہوئی ہے اور تم بھی کن احساسات سے گزر رہی ہو۔۔۔ اور آخری بات دوبارہ میں نا سنو میری بیوی نے کھانے سے منع کیا۔۔۔"
جیک عائشہ کو اپنے روبرو کھڑا کرتا ہوا عائشہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا عائشہ سانس روکے جیک کی باتیں سنتی رہی بات ختم کرنے پر جیک نے عائشہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے لبوں سے چھوا تو جیک کی اس حرکت پر عائشہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ جیک نے ملازمہ سے کھانا منگوایا اور عائشہ کے ساتھ کھانے لگا عائشہ بھی چپ کرتی کھانا کھانے لگی عائشہ ڈریس چینج کرتی باہر آئی تو جیک کو بیڈ پر لیٹا دیکھ کنفیوز ہوئی کی اب وہ کہا سوئے گی جیک نے ہاتھ آگے بڑھا کر عائشہ کو پاس آنے کا اشارہ دیا تو عائشہ چپ چاپ جیک کے پاس آئی جیک نے عائشہ کو کمر سے پکڑ کر خود پر گراتے کروٹ بدل کر عائشہ اور خود پر کنفرٹ صحیح کرتے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کی عائشہ نا سمجھی سے جیک کی ساری کارروائی دیکھتی رہی۔
…………………………………………………….
جاری ہے۔۔۔۔

0 Comments