آوازے سن کر چوتھا چور بھی ان تک پہنچا لیکن وہ داہم کی فائٹنگ میں خلل پیدا کرتا کہ ہالے نے واس اٹھا کر اس چور کی پشت پر دے مارا داہم ان چوروں کی اچھی خاصی درگت بناتا اس چور تک پہنچا جو ہالے کو گھورتا اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔


"کیا ضرورت تھی بیچ میں کودنے کی جھانسی کی رانی" 

داہم چور دھکیلتا ہالے سے مخاطب ہوا تو ہالے گڑبڑا گئی۔

"وہ میں نے تمہاری مدد کرنے"

ہالے پورا جملا ادا کرتی کے پیچھے چور نے داہم کے سر پر پسٹل سے وار کرنا چاہا لیکن داہم نے ہاتھ پیچھے گھوما کر اس کا وار ضائع کر دیا


 لیکن نظریں ہالے سے نہیں ہٹائی ہالے کا یوں داہم کے سوال پر گھبرانا بار بار پلکیں جھپکنا داہم کو ہالے کی ذات میں گم کر گیا لیکن چور کی مداخلت داہم کو بلکل پسند نہیں آئی وہ داہم تھا ایسا جن جس کی دو آنکھیں صرف دنیا کو نظر آتی تھی البتہ اللہ نے اسے چڑیا کے پر گننا اقر پشت پر دو آنکھیں ہونے سے بھی غائبانہ طور پر نوازا تھا۔ داہم پیچھے مڑتا چور کو ایک زور دار پنچ رسید کرتا دوبارہ ہالے کی طرف متوجہ ہوا۔


"ان کو دفع کرو یہاں سے مجھے بعد میں گھور لینا"

ہالے چوروں سے گھبراتی اور داہم کو خود کو گھورتا پا کر بولی۔

"تم اتنی بھی حسین نہیں اب۔۔۔ جو تمہیں گھوروں میں"

داہم آنکھیں گھما کر مسکراہٹ ضبط کرتا بولا کیونکہ داہم کو پتا تھا اب ہالے کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ جائے گا اور وہی ہوا۔

"داہم میں تمہارا قتل کر دوں گی" 

ہالے چیخی تو ایک چور جو جو لڑکھڑاتا داہم تک پہنچا تھا ہاتھ میں چاقو لیے لیکن جب داہم کا رخ اس چور کی طرف ہوا تو داہم کو یاد آیا یہ وہی چور تھا جس نے ہالے کا بازو پکڑا تھا۔


"مجھے افسوس ہو گا تم جیسی کم حسین عورت کے ہاتھوں قتل ہونے کا"

داہم بولتا اس چور کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ مڑوڑ کر چاقو اپنے ہاتھ میں لیتا اس چور کے اسی ہاتھ پر وار کرنے لگا جس سے اس نے ہالے کا بازو پکڑا تھا تو چور کی چیخ نکلی لیکن داہم اسی ہاتھ پر ایسے وار کر رہا تھا جیسے اس ہاتھ سے داہم کی پرانی دشمنی ہو۔


 داہم کی آنکھوں میں کچھ دیر پہلے والی معصومیت غائب ہو کر وحشت اتر آئی دوبارہ وہ منظر یاد کر کے، اپنے محبوب پر تو وہ کسی کی غلط نگاہ برداشت نا کرے تو اس چور نے تو ہالے کا بازو پکڑا تھا ہالے اس چور کی چیخے سنتی دل پر ہاتھ رکھتی داہم تک پہنچی تو داہم کو مسلسل اس کے ہاتھ پر وار کرتے دیکھ کر ہالے کو داہم سے بے جا خوف محسوس ہوا۔


"دا۔۔ داہم۔۔۔۔"

ہالے نے مشکل سے داہم کا نام ادا کیا تھا لیکن داہم نے جیسے ہی اپنا رخ ہالے کی جانب کیا تو داہم کی لال انگارا جیسی آنکھوں میں دیکھتے ہالے کو وہ شرارتی داہم سے یک سر مختلف لگا۔


"داہم چھوڑ دو اسے"

ہالے نے داہم کی آنکھوں سے نظریں ہٹاتے ہوئے بولا۔ داہم کچھ کہتا کہ سامنے سے آتے ڈی آئی جی کی آواز پر ہالے اور داہم متوجہ ہوئے۔

"آپ لوگ ٹھیک ہیں"

ڈی آئی جی صاحب کا رخ داہم اور ہالے کی طرف تھا لیکن نظر داہم کے ہاتھ میں پکڑے چاقو پر تھی جس پر خون لگا تھا پھر سامنے چور پر جس کے ہاتھ سے کون بہہ رہا تھا۔ ڈی آئی جی نے ایک پولیس حولدار کو چور کی طرف اشارہ کیا اور چاقو خود پکڑ لیا اور داد دیتی نظروں سے داہم کو دیکھتے ہوئے بولے۔


"بیٹا جی۔۔۔۔ ڈاکٹر کا کام تو خون روکنا ہوتا ہے یہاں تو آپ بہا رہے ہیں"

ڈی آئی جی وہاب صاحب کا دوست تھا اسی لیے داہم سے شوخیا انداز سے بولے وہ وہاب فیملی کو اچھے سے جانتے تھے اور کون ہو گا جو وہاب ولا کے مکینوں کو نا جانتا ہوگا۔

"صرف جب تک ۔۔۔۔ جب تک کوئی ڈاکٹر داہم وہاب خانزادہ کا خون نا کھولائے اور جو میرا خون کھولانے کی ہمت کرے تو میرا فرض ہے اس کا خون اس کی رگوں سے نکالنا"


داہم نے سرد لہجے میں کہا تو ڈی آئی جی صاحب کو تھا لیکن نظریں ہالے پر تھی جو اس کی نظروں سے انجان گھر کا جائزہ لے رہی تھی کہ کیا حال بن گیا ہے کچھ لمحوں میں گھر کا۔ ڈی آئی جی صاحب پورے گھر کا جائزہ لیتے چوروں کی تلاشی کوتے وہاں سے چلے گئے اپنی ٹیم اور چوروں کو لے کر۔


"داہم میری مدد کرواؤ ماموں لوگ آتے ہی ہونگے"

ہالے چیزیں سمیٹتی بولی تو داہم جو پانی پی رہا تھا گلاس میں پانی ڈالتا ہالے تک پہنچا۔

"پہلے پانی پی لو۔۔۔ میں سمیٹ دو گا سب"

داہم کے بولنے پر ہالے نے مشکوک نظروں سے داہم کو دیکھا داہم کی نظریں ہالے کی نظروں سے ٹکرائی تو داہم کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔

"تمہیں کیا ہو گیا تھا داہم۔۔۔ تم نے چور کے ہاتھ کو اس طرح کیوں زخمی کیا جبکہ تمہیں پتا تھا پولیس آنے والی ہے اور وہ چور ہمارے گھر سے کچھ بھی نہیں لے جا سکتے"

ہالے گلاس لیتی داہم کی نظروں سے نظریں ہٹاتی بولی۔


"میرا بس چلتا تو اس کا ہاتھ جڑ سے اکھاڑ دیتا"

داہم منہ میں بڑبڑایا تو ہالے نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔

"وہ چور مجھ پر چاقو سے وار کرنے والا تھا۔۔۔ سوچو اگر میرے حسین خوبصورت چہرے پر وار کر دیتا تو۔۔۔" 

داہم دل پر ہاتھ رکھتا آنکھوں میں شرارت لیے بولا جو داہم کی شخصیت کا حصہ تھی تو ہالے بھی پرسکون ہوتی آنکھیں گھما گئی

"تم کتنے self obsessed ہو داہم"

 ہالے بیزاریت سے بولی تو داہم کا قہقہہ گونجا۔

"یہ self obsession مجھے میرے لیے نہیں میری ہونے والی بیوی کے لیے ہے ہالے۔۔۔ اسے چاند جیسا شوہر ملتا لیکن ساتھ میں داغ بھی" 

داہم افسوس سے بولا۔


"تم چاند"

 ہالے آئیبرو ریز کرتی بولی۔

"شکریہ ہالے۔۔۔ لیکن میں تمہیں اپنی بیوی نہیں بنا سکتا۔۔۔ ایک تو تم مجھ سے کم خوبصورت ہو اور اوپر سے تمہاری عمر" داہم افسوس سے سر ہلاتے آگے بھی کچھ بولتی لے ہالے چیخی

 "داہممممممممم۔۔۔۔"

 اور سامنے صوفے سے کشن اٹھا کر داہم کو دے مارا تو داہم اپنا بازو سہلانے لگا۔

"یہ کیا جنگ ہو رہی ہے"

 وہاب صاحب کی آواز پر ہالے اور داہم دونوں متوجہ۔ وہاب صاحب کے ساتھ زریش بیگم تھی جن کے برابر میں دلہن جیسی ایک لڑکی بھی کھڑی تھی داہم ان تک صوفہ پھلانگتے ہوئے پہنچا تو ہالے بھی ان تک پہنچی۔


"یہ کون ہے؟" 

داہم کے سوال پر ہالے نے اس کی عقل پر ماتم کیا۔

"دلہن" 

ہالے بولی تو داہم نے کھا جانے والی نظروں سے ہالے کو دیکھا۔

"اچھا مجھے لگا شیزوکا ہے"

 داہم جل کر بولا۔

"تمہاری بھابھی ہے"

زریش بیگم داہم کے سر پر چت رسید کرتی بولی۔

"کیا"

ہالے اور داہم ایک دم چیختے ہوئے بولے تو پیچھے اندر آتا دلشاد وہاب صاحب کے برابر میں کھڑا ہوتا داہم اور ہالے کے ہونک بنے چہرے دیکھنے لگا۔

"ہاں۔۔۔ دلشاد کی زوجہ، ہماری بہو اور تمہاری بھابھی"

وہاب صاحب نے سب کی طرف اشارہ کرتے تفصیل سے عنایہ کے رشتے کا سب سے تعارف کروایا۔


"شادی، کب، کیسے اور کہاں ہوئی؟؟"

داہم سوال کرتے دلشاد کے سامنے کھڑا ہوا۔

"سب بتاتے ہیں ہمیں اندر تو آنے دو" 

زریش بیگم بولی تو سب لاؤنج میں بیٹھے البتہ دلشاد ضروری کال کا کہتے اپنے کمرے میں چلا گیا تو زریش بیگم نے سارہ ماجرہ سنایا اور ان سے گھر کے بارے میں پوچھا تو داہم نے انھیں چوروں والی ساری تفصیل بتائی 


ہالے اور داہم کو عنایہ کے بارے میں جان کر افسوس ہوا اور دونوں نے اپنا تعارف عنایہ سے کروایا عنایہ بھی خوش اخلاقی سے ان سے ملی پھر زریش بیگم داہم کو عنایہ کا سامان دلشاد کے کمرے میں رکھنے کا کہتی خود عنایہ کو دلشاد کے کمرے میں چھوڑنے چلی گئی تو وہاب صاحب بھی اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا گئے جبکہ ہالے چائے کے کپ کچن میں لے گئی داہم سامان رکھتا اپنے کمرے کی طرف چل پڑا تو زریش بیگم عنایہ کو بیڈ پر بیٹھا کر کچھ کھانے کا پوچھتی جس پر عنایہ نے انکار کر دیا تو عنایہ کے سر پر پیار کرتی اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔


عنایہ کو واشروم سے شاور سے پانی گرنے کی آواز آئی تو سمجھ گئی اس کا انجان شوہر شاور لے رہا ہے۔ عنایہ اپنا جالی نما گھونگھٹ سائیڈ پر کرتی اپنے آپ کو ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں دیکھنے لگی کس کے لیے سجی تھی اور کس کے نام ہوئی عنایہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب دلشاد واشروم کا دروازہ کھولتا باہر آیا اور ڈریسنگ کی طرف بڑھ رہا تھا 


کہ اچانک عنایہ کی پشت دیکھتا ٹھٹک کر رکا اور مٹھیاں بھینچ گیا اب اس وجود کے ساتھ اسے یہ کمرہ بھی شیئر کرنا تھا جبکہ اپنے پیچھے دلشاد کا عکس دیکھتی عنایہ ایک دم پلٹی اسے اپنے اور دلشاد کی کراچی میں ہونے والی پہلی ملاقات یاد آئی اور دلشاد اس سے اگر کوئی ایک دفعہ مل لے تو کئی دنوں اسے نا بھول پائے وہ تو رکھتا ہی ایسی شخصیت تھا تو یہ کیسے ممکن تھا عنایہ دلشاد کو یاد نا رکھتی۔


"تم"

عنایہ کے بولنے سے پہلے دلشاد بولا کیونکہ عنایہ سے ہوئی پہلی ملاقات دلشاد کو بھی جو یاد تھی اور عنایہ بھی کوئی اتنی جلدی بھول جانے والی شخصیت تو نا تھی۔


…………………………………………………….

جاری ہے۔۔۔۔