“بیوی ہو میری اب بیڈ تو شیئر کر ہی سکتی ہو میرے ساتھ"

جیک عائشہ کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے بولا عائشہ بھی پرسکون ہوتی جیک کے سینے پر سر رکھ گئی کچھ بھی تھا لیکن اسے جیک کے ساتھ اپنائیت کا احساس تھا شاید کچھ دیر پہلے قائم ہونے والے رشتے کی وجہ سے اور جلد ہی دونوں نیند کی وادیوں میں اتر گئے۔


…………………………………………………….


"سہیلی کے آتے ہی بھول گئی شوہر نامی بندہ بھی ہے تمہارا"

ڈیول آیت کے کمرے میں آتے ہی طنز کے تیر چلانے لگا جو صبح والے ہی حلیے میں ڈیول کو تھکن سے چور لگی جبکہ آیت بیزاریت سے آہ بھرتی ڈریسنگ کے سامنے ایئررینگز اتارتے ہوئے بولی۔

"مجھے بھوک للگی ہے طنز بعد میں کرنا کھانا کھلاؤ مجھے"

آیت کی بات پر بلیک ٹراؤزر اور شرٹ میں کاؤچ پر بیٹھے ٹیبل پر پاؤں پھیلائے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ڈیول کی انگلیاں تھمی۔

"تم نے کھانا نہیں کھایا"

ڈیول ایک ہی جست میں آیت تک پہنچتا آیت کا بازو دبوچ کر اس کا رخ اپنی طرف کرتا بولا تو آیت پہلے نا سمجھی سے ڈیول کو دیکھنے لگی پھر ڈیول کے خطرناک تاثرات لیے چہرے کو دیکھتی تھوک نگلتی ڈیول کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے گئی۔


"مجھے تمہارے ہاتھوں سے کھانا ہے"

ڈیول آیت کی بات بدلنے والی حرکت کو سمجھتا ڈیول آیت کے مکھن لگانے پر عش عش کر اٹھا۔

"مجھے کیا ملے گا؟؟"

ڈیول بھی آیت کو تنگ کرتا آیت کی کمر کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے بولا تو آیت ڈیول کو گھور کر رہ گئی اور پھر کچھ سوچنے کے بعد بولی۔

"میں تمہیں لانگ ڈرائیو پر لے کو جاؤ گی"

آیت ڈیول کی گردن میں دونوں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولی آیت کی حرکت پر ڈیول کا ڈمپل واضح ہوا۔

"اوہ۔۔ اوکے بٹ آج نہیں کل چلے گے تم ویسے ہی تھک گئی ہو اور دوبارہ کھانا کھانے میں دیر کی تو تمہاری دیر کی وجہ سمیت تمہیں بھی شوٹ کر دونگا"


ڈیول آیت کی تھوڑی چومتا پیچھے ہو کر بولا اشارہ سیدھا عائشہ کی طرف تھا جسے سمجھتے آیت نے ڈیول کو گھور کر دیکھا لیکن وہ ڈیول ہی کیا جو آیت کی گھوری سے ڈرے۔ آیت فریش ہو کر باہر نکلی تو ڈیول کھانا پہلے ہی منگوا چکا تھا آیت کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا کر اسے سونے کا کہتا واپس کاؤچ پر جاکر بیٹھ گیا اور لیپ ٹاپ اٹھا کر اپنا ادھورا کام مکمل کرنے لگا جبکہ آیت جو پچھلے ایک گھنٹے سے سونے کی کوشش کر رہی تھی اسے ڈیول کے حصار کے بنا آج نیند ہی نہیں چھو کر گزری اور ایک وہ تھا لیپ ٹاپ میں ایسے گم تھا جیسے اس سے ضروری کوئی کام ہی نا ہو دنیا میں۔ آیت بے چینی سے اٹھتی قدم اٹھاتی ڈیول تک پہنچی ڈیول 


نے اپنے پاس آیت کی خوشبو پہنچانتے نظریں اٹھا کر دیکھا تو آیت کی نیند نا آنے سے بے حال ہوتی آنکھوں کو دیکھتے ڈیول کو آیت پر بے جان پیار آیا۔ آیت غصے سے ڈیول کا لیپ ٹاپ گود سے اٹھاتی بند کرتی پٹخنے والے انداز میں ٹیبل پر رکھ گئی اور خود ڈیول کی گود میں بیٹھ کر ڈیول کی گردن میں دونوں ہاتھ ڈالتی منہ ڈیول کی گردن میں چھپا گئی۔

"نیند نہیں آرہی"

ڈیول نے آیت کی کمر پر حصار بناتے ہوئے بولا۔

"تمہارے حصار کے بنا نہیں آرہی"

آیت بولی تو ڈیول قہقہہ لگا اٹھا آیت منہ اوپر کیے خفا نظروں سے ڈیول کو دیکھنے لگی۔

"لیکن مجھے کام کرنا ہے"


ڈیول آیت کو تنگ کرتے بولا۔

"اتنے آدمیوں کی فوج کیوں پال رکھی ہے جب کام خود ہی کرنا ہے تو"

آیت بگڑے تیور لیے بولی۔

"وہ بھی کرتے ہیں پر میرا بھی تو کرنا بنتا ہے نا"

ڈیول آیت کی غصے سے سرخ ہوتی ناک کو لبوں سے چھو کر بولا۔

"ڈیول چپ کر کے بیڈ پر چلو ورنہ۔۔۔ یہ لیپ ٹاپ تمہارے سر پر مار دوں گی"

آیت مزید غصے سے ڈیول کو انگلی اٹھا کر وارن کرتی بولی۔

"یار ڈیول ہوں ڈھول نہیں جسے تم ہر وقت بجاتی رہتی ہو"

ڈیول جل کر آیت کی دھمکی پر رخ پھیرتا بولا۔

"زین۔۔۔"


آیت محبت سے ڈیول کی بیرڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ڈیول کا اصلی نام بولی تو ڈیول کا دل بے ساختہ آیت کے نام لینے پر دھڑکا۔ ڈیول آیت کے لبوں کو نرمی سے اپنے لبوں سے چھوتا پیچھے ہوا اور آیت کو سائیڈ پر کھڑا کرتا خود کاؤچ سے اٹھتا پھر اپنی باہوں میں بھرتا بیڈ پر لے آیا خود پر اور آیت پر کنفرٹ صحیح کرتا آیت کو حصار میں لیے لیٹ گیا۔ آیت ڈیول کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی کہ اچانک بات یاد آنے پر ڈیول سے مخاطب ہوئی

"تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا"

آیت کی بات پر ڈیول نے آنکھیں کھولی ڈیول کو آیت کی بات اور اسے سزا دینا یاد آیا تو ڈیول لمبی سانس کھینچ کر ہوا کے سپرد کر گیا۔

"اب نیند نہیں آرہی مس غنڈی آفت"

ڈیول کی بات پر آیت سمجھ گئی بات گھومانے کی کوشش کر رہا ہے اس کا شوہر۔


"نہیں۔۔۔ تم بتاؤ کیا ہوا ہاتھ پر" 

آیت ڈیول کے زخمی ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنساتے ہوئے بولی۔

"کچھ نہیں جان جاناں۔۔۔ سو جاؤ"

ڈیول آیت کی حرکت پر اپنے جذبات پر ضبط سے بولا لیکن آیت تو شاید آج اپنے ہوش ٹھکانے لگوانا چاہتی تھی پھر بولی۔

"نہی۔۔ پہلے بت" 

ابھی آیت بات پوری کرتی کے ڈیول کروٹ کے بل آیت پر جھکتا آیت کے لبوں سے خود کو سیراب کرنے لگا آیت کی اکھڑتی سانسوں کو۔ محسوس کرتا پیچھے ہوا تو آیت لمبے لمبے سانس لیتی ڈیول کو خونخوار نظروں سے دیکھتی حملہ کرنے والی تھی جب ڈیول اس کے دونوں ہاتھوں کو بیڈ سے پن کر گیا آیت کو ڈیول کی آنکھوں میں خمار کی ڈوریاں بنتے دیکھ اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی ڈیول خمار میں آیت کی گردن پر جھکا اور جابجا اپنی شدت نچھاور کرنے لگا۔


"زی۔۔۔ زین۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھ۔۔۔ مجھے سونا۔۔۔ہ۔۔ہے"

آیت کی لفظوں سے ٹوٹی آواز پر ڈیول نے سر اٹھا کر دیکھا تو آیت کا شرم سے خون چلکا دینے والا چہرہ دیکھتا پھر اپنی شدتوں کے نشان آیت کی گردن پر دیکھتا مسکراتا آیت کو اپنے حصار میں لے کر سیدھا لیٹ گیا۔

"اب آواز نا آئے مجھے تمہاری اور فوراً آنکھیں بند کرو۔۔ ورنہ ادھورا کام پورا کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤ گا"

ڈیول کی دھمکی پر آیت فوراً آنکھیں موند گئی جبکہ ڈیول آیت کی اس قدر فرمانبرداری پر اپنا قہقہہ ضبط کرتا خود بھی آنکھیں بند کر گیا۔


…………………………………………………….


"زریش تمہاری بہو تو بہت خوبصورت ہے"

جنت بیگم عنایہ کو دیکھتے ہوئے زریش بیگم سے بولی آج جنت بیگم اور کاشان صاحب، نمل اور نوریز کے ساتھ وہاب ولا دلشاد کی شادی کی خبر سن کر آئے تھے زریش بیگم نے سب کا تعارف عنایہ سے کروایا جو خوش اخلاقی سے سب سے ملی تھی لیکن نمل کو دیکھ کر عنایہ کو اس کے حسن سے رشک ہوا عنایہ نے نمل سے زیادہ خوبصورت کوئی لڑکی نہیں دیکھی تھی وہ دل میں یہ اعتراف کر چکی تھی یہ بات نہیں تھی کہ وہ خود خوبصورت نہیں تھی وہ خود ایک پری جیسی تھی لیکن نمل وہ تو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی۔


"بھابھی کس کی ہے"

داہم جھٹ سے بولا تو وہاب اور کاشان صاحب اس کی حاضر جوابی پر قہقہہ لگا اٹھے۔

"ہالے آفریدی کی"

کچن سے آتی ہالے نے بھی دوبدوک بولا تو داہم نے کڑوے بادام جیسے ذائقہ والا منہ بنایا جسے دیکھ۔ کر ہالے کو خوشی ہوئی۔ نمل کو داہم اور ہالے کی نوک جھوک بہت پسند تھی وہ مسکراتی انہیں دیکھنے لگی اور عنایہ بھی مسکراتی نفی میں سر ہلا کر سب کو دیکھنے لگی ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو ہالے داہم سے ناراض تھی اور اب دوبارہ مقابلے پر آگئی۔

"اب بس میں بھی اپنی بہو لاؤ گی۔۔۔ نمل کے آنے سے تو ویسے ہی میرا اکیلا پن دور ہوگیا ہے لیکن اب میں بھی ساس بننا چاہتی ہوں"

جنت بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو نوریز جوکہ دلشاد کے ساتھ بیٹھا تھا اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ اٹھی۔

 "ذرا آرام سے یار۔۔۔ تمہاری خوشی دیکھ کر آج ہی نکاح پڑھوا دے گی تمہارا آنٹی"


دلشاد نے کافی لب سے لگاتے کہا تو نوریز نے دلشاد کو گھور کر دیکھا۔جبکہ جنت بیگم کی بات پر ہالے کے دل میں درد کی لہر اٹھی جو کہ داہم سے چھپی نا تھی۔

"کوئی لڑکی ہے تمہاری نظر میں؟"

زریش بیگم نے پوچھا تو جنت بیگم نے ہالے کی طرف دیکھا جسے وہ ہمیشہ ہی اپنی بہو بنانا چاہتی تھی لیکن نوریز کی آنکھوں میں ہالے کے لیے صرف دوستی کا جذبہ دیکھ وہ اپنا خیال ظاہر نہیں کر پائی لیکن اب نوریز کی آنکھوں میں نمل کا عکس دیکھ انھیں سمجھنے میں دیر نہیں لگی وہ ماں تھی انہیں بھلا کیسے پتا نا چلتا اپنے اکلوتے بیٹے کی چاہت کا۔

"ہاں ہے"

جنت بیگم نے اپنا رخ نمل کی طرف کرتے کہا جو عنایہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔

"کون ہے؟"

زریش بیگم نے پوچھا تو جنت بیگم مسکراتے نفی میں سر ہلا گئی۔

"اب یہ تو تب بتاؤ گی جب سب راضی ہو جائے گے"

جنت بیگم کی بات پر زریش بیگم سمجھنے والے انداز میں سر ہلا گئی جبکہ نوریز کی مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی لیکن دلشاد جنت بیگم کا رخ نمل کی طرف ہوتے دیکھ سمجھ گیا کون لڑکی ہوگی لیکن نوریز کو تنگ کرنے کے غرض سے خاموش رہا۔


……………………………………………………

جاری ہے۔۔۔۔