باقی کھڑے دو لڑکوں میں سے ایک آگے بڑھتا چاقو نکال کر نوریز کی پیٹ پر وار کرنے لگا لیکن نوریز نے اس کا چاقو والا ہاتھ اپنے سخت ہاتھ میں مڑوڑا تع چاقو زمین پر گرا اور اپنی ایک ٹانگ کھینچ کر اس کے پیٹ پر دے ماری جس سے وہ لڑکا اپنے تماشا دکھنے والے دوست کے قدموں میں جاگرا تو وہ دوست کانپ گیا اور باقی دو بھی اٹھ کر اس تک پہنچے ان چاروں کی ساری اکڑ صرف دو پنچ اور ایک لات کھانے پر ہی ہوا ہو گئی اور وہ اپنی بائیک سٹارٹ کرتے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگھ ۔
اور چپ کھڑی نمل حیرانگی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی وہ تو سوچ رہی تھی یہ مرد بھی ان جیسا ہی ہو گا لیکن اس مرد نے تو اس کی عزت خود کو خطرے میں ڈال کر بچائی تھی۔ کیا ایسے مرد بھی پوتے ہے اس دنیا میں؟؟ وہ بہت توجہ سے نوریز کو دیکھنے لگی اتنا وجیہہ مرد اس نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔
نوریز جو نمل سے کچھ دور کھڑا تھا نمل کی طرف پلٹا تو اسے خود کو دیکھتے پایا دو پل کے لیے دونوں کی نظریں ملی اور کیا خوب ملی اجنبی ہونے کے باوجود بھی ایک اپنائیت کا احساس تھا دونوں میں اس کی نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوئے نمل شرمندگی سے نظریں پھیر گئی تو نوریز خود کو کمپوز کرتا اس کی طرف رخ کر گیا مقصد اسے اسکے گھر یا مطلوبہ جگہ تک با حفاظت پہنچانا تھا ۔
"آپ مجھے بتا دے ایڈریس میں ڈراپ کر دیتا ہوں آپ کو" نوریز کے پوچھنے پر نمل کو پھر سوچوں نے آگھیرا کیا بتاتی کہاں جانا ہے اسے تو خود نہیں پتا کیا کرے کہا جائے
"میں خود چلی جاؤ گی شکریہ آپ کا میری مدد کرنے کا" نمل کہتی اپنا بیگ پکڑتی آگے بڑھنے والی تھی۔
"معذرت کے ساتھ محترمہ کافی سنسان علاقہ ہے یہ اور دور دور تک آپ کو کوئی سواری نہیں ملے گی آپ مجھ پر یقین کر سکتی ہیں" نوریز پتا نہیں کس خدشے کے تحت بول گیا شاید وہ لڑکی ڈر رہی تھی ابھی بھی۔
جبکہ نمل کیا بولتی اس مہربان شخص کو کوئی نہیں اس کا یہاں وہ تو اپنی عزت کی خاطر بنا سوچے سمجھے کوٹھی سے نکل پڑی تھی۔ قدم نوریز کی طرف کرتی سر جھکا کر بولی۔
"میرا کوئی نہیں ہے یہاں میں کسی کو نہیں جانتی" نمل کی آواز خود با خود نرم ہو گئی تھی۔ جسے محسوس کرتے نوریز اپنی حیرانگی پر قابو پاتا اطمینان سے بولا۔
"کوئی تو ہوگا آپ کی پیرنٹس یا کوئی رشتہ دار وغیرہ" نوریز بولا تو نمل مزید سر جھکا گئی اور کچھ سوچ کو توقف سے بولی۔
"میں یتیم ہوں"
نمل کے بولنے پر نوریز نے سرد آہ ہوا میں خارج کی اور تھوڑی کے نیچے شیو پر ہاتھ رب کرتا کچھ سوچنے لگا نمل بھی ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر اس کی حرکت نوٹ کرتی پہلو بدل گئی جبکہ نوریز اپنے کام میں مصروف تھا
"آپ پہلے کہاں رہتی تھی؟؟" نوریز اس سے کچھ توقف سے بولا۔
"یتیم خانے میں۔۔۔۔۔ لیکن میں وہاں واپس نہیں جانا چاہتی" نمل اپنی ذات سے جڑا سچ چھپاتے ہوئے زندگی کا پہلا جھوٹ لڑکھڑاتی زبان سے ادا کر گئی۔
"اچھا۔۔۔۔ پر کیوں؟؟" نوریز نے نا سمجھی سے پوچھا۔
"وہاں کے کچھ ملازم مجھے تنگ کر رہے تھے ان سے بچنے کے لیے ہی بھاگ رہی تھی" ایک اور جھوٹ لڑکھڑاتی آواز میں بولا گیا اور نوریز حیرانی سے اس کم عمر لڑکی کو دیکھے گیا جو اپنی عزت کی حفاظت کے لیے در بدر ہو گئی تھی۔
"تو آپ جائے گی کہاں؟؟" نوریز کو فکر ہوئی۔
"معلوم نہیں" اب کی بار سچ کہا گیا اور آنسو لڑکھڑا کر گال پر پھسل آئے نوریز کو اس کے آنسو تکلیف دینے لگے تو کچھ سوچ کر بولا۔
"آپ میرے ساتھ میرے گھر چلے وہاں آپ محفوظ رہے گی" نوریز کے کہنے پر نمل نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ اس کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگی شاید اسے ابھی بھی اس شخص پر یقین نہیں تھا ہوتا بھی کیسے ایسا مرد کہا دیکھا تھا نوریز اس کی کیفیت سمجھتے ہوئے بولا۔
"آپ مجھ پر یقین کر سکتی ہیں" نوریز بولا تو نمل اثبات میں سر ہللاتی اس کے ساتھ کار کی طرف چل پڑی اب یہاں وہاں بھٹکنے اور درندوں کے چنگل میں دوبارہ پھنسنے سے اچھا تھا کہ اس مہربان شخص پر یقین کر لے داہم جو کب سے جنت ولا میں مسز جنت کاشان اور کاشان صاحب سے ملنے آیا تھا بیٹھا ہوا خوش گپوں میں میں مصروف تھا جب نوریز کے ساتھ ایک لڑکی کو آتے دیکھ کر کسی ٹرانس کی کیفیت میں اپنی جگہ سے اٹھا اس کا رخ میں دروازے کی ہی طرف تھا جس سے وہ نوریز کو سب سے پہلے دیکھ چکا تھا۔
داہم کی نظروں کی سمت میں جب کاشان صاحب اور جنت بیگم نے دیکھا تو وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ گئے اور حیرانی سے نوریز کی طرف دیکھنے لگے۔ انہیں کوئی مشکوک شک نہیں تھا نوریز پر ان کی تربیت میں ایسا تھا ہی نہیں وہ بس تجسس سے اس انجان سی لڑکی کا نوریز کے ساتھ ہونے کی وجہ جاننا چاہتے تھے جسے نوریز سمجھتے ہوئے ان سے کچھ کہنے ہی والا تھا لیکن اسی وقت داہم اس پر جھپٹنے والے انداز میں گلے لگا اور گانے لگا۔
"مبارک ہو تم کو یہ شادی تمہاری۔۔۔" داہم سُر سے گانے کے ساتھ ساتھ نوریز اور نمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تو نمل جیسے سٹپٹا گئی اور نوریز داہم کو گھورنے لگا لیکن وہ داہم ہی کیا جو باز آجائے مسز کاشان نے تو اپنا ماتھا پیٹا وہ داہم کو نوریز کی طرح ہی محبت کرتی تھی ان کی دوست کا بیٹا جو تھا لیکن مجال جو کسی سچویشن میں سیریس ہو یہ لڑکا۔
جبکہ داہم کی حرکت پر کاشان صاحب مسکرا رہے تھے جبکہ داہم
"صدا خوش رہو تم دعا ہے ہماری۔۔۔۔" اب نمل کے گرد چکر لگاتا ہوا گنگنانے لگا اور نمل اس نئے شخص کو دیکھنے لگی اسے لگا تھا اس نے نوریز جیسا وجیہہ شخص نہیں دیکھا تھا یا کبھی دیکھے گی ہی نہیں لیکن داہم کو دیکھ کر یہ خیال بھی رد ہو گیا داہم میں بھی نوریز جیسی ہی وجاہت تھی۔ داہم اب مسز جنت کاشان کے سامنے کھڑا ہوگیا
"میں نا کہتا تھا یہ کوئی چاند چڑھائے گا" مسز کاشان داہم کے بازو پر چت رسید کرتے ہوئے نوریز کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
"مام۔۔۔ یہ محترمہ مجھے سڑک پر۔۔۔" نوریز ان تینوں کو پورا واقعہ سنا گیا تو کاشان صاحب نمل کے پاس آتے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔
"بیٹا۔۔ آپ فکر نا کرے آپ یہاں محفوظ ہیں" نمل کسی مرد کی باپ جیسی شفقت محسوس کرتی پھر آنسو بہانے لگی تو جنت بیگم نمل کے پاس آتی اسے اپنے ساتھ لگا گئی اور اسے تسلی دیتے ہوئے بولی۔
"اس گھر کو آپ اپنا ہی گھر سمجھے۔۔۔" نمل انہیں کیا بتاتی گھر تو کبھی دیکھا ہی نہیں اس نے اور اپنا گھر۔۔۔ جنت بیگم اس سے الگ ہوئی تو داہم نوریز کے پاس آکر گلے میں ہاتھ ڈالتا پوچھنے لگا۔ ۔
"نام کیا ہے تمہارے گھر کی نئی خوبصورت ممبر کا" داہم کے بولنے پر نوریز کو یاد آیا اس نے نام تو پوچھا ہی نہیں پورے راستے کار میں بھی دونوں کے درمیان خاموشی ہی رہی تھی۔ تو داہم کی طرف رخ کرکے آرام سے بولا۔
"پتا نہیں۔۔۔ میں نے پوچھا نہیں" نوریز کے بولنے پر داہم چلانے والے انداز میں بولا "واٹ" تو سب ہی ان کی طرف متوجہ ہوئے تو نوریز نمل کو مخاطب کرتا بولا
"آپ کا نام کیا ہے؟؟" سب کی توجہ اب نمل کی طرف تھی
"نمل" نمل کے جواب دینے پر جنت بیگم اسے اس کا کمرہ بتانے کے لیے ساتھ لے گئی تو کاشان صاحب بھی ایک ضروری میٹنگ کے لئے نکل گئے اب راستہ صاف دیکھتا داہم ایک آئبرو ریز کرتا نوریز سے مخاطب ہونے لگا تو نوریز بھی بھنویں ملا گیا۔
"کیا؟؟" نوریز نے نا سمجھی سے پوچھا۔
"تو بنا لڑکی کا نام جانے لڑنے کود پڑا" داہم لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ جمائے نوریز سے سفتیش کرنے لگا۔
"تو کیا نام پوچھ کر لڑنے جاتا؟؟" نوریز نے بے زاری سے کہا۔
"ہنہ۔۔۔۔۔ ویسے نمل کیسی لگی تمہیں؟؟" داہم پہلے منہ بناتا بولا۔
"مطلب؟؟" نوریز اس کی بات کو سمجھ نا پایا۔
"میرے بھائی مجھے وہ پہلی نظر میں اپنی بھابھی لگی" داہم شرارت سے بولا جس کی بات کو سمجھتے نوریز نے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالتے دباؤ دیا تو داہم کراہ اٹھا تو نوریز نے اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے "اور بکواس کرنی ہے اب" والا انداز میں آئیبرو ریز کی تو داہم دونوں ہاتھ کھڑے کرتا "بلکل نہیں" کا اشارہ دیتا خود کو آزاد کروا ہی گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر سے رات ہو گئی تھی لیکن آیت وہاں سے نکلنے اور عائشہ کا کچھ پتا نا کرپائی اور اوپر سے ظلم کی انتہا یہ کہ بھوک لگ رہی تھی اس اسٹائلش لفنگے کے پاس اتنا بڑا گھر تھا وہ اندازہ اس کمرے سے لگا گئی تھی جہاں اسے رکھا تھا رائل وائٹ طرز سے سجا کمرہ جس کی ہر شے اس کے قیمتی ہونے کی گواہی دیتی تھی اور اتنے سارے گارڈز، گاڑیاں لیکن اب تک کمبخت کھانے کو کچھ نہیں بھیجا۔
آیت اپنی سوچوں میں ہی گم تھی جب ڈیول اندر داخل ہوا آیت ایک دم غصے سے اس تک پہنچی جو ابھی ڈار لاک کرتا پلٹا تھا
"کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟" آیت غصے سے پھنکاری۔
"اپنی 30 سالگِرہ کو یاد گار بنانے" بے تاثر چہرے سے جواب دیا گیا۔
"تم چاہے تین سو سال کے ہو میری بلا سے۔۔۔۔۔ یو ایڈیٹ! مجھے میرے گھر جانا ہے اور میری دوست کو بھی بلواؤ ابھی" آیت ڈیول کا گریبان پکڑ کر چیخی تو ڈیول نے ناگواری سے اس کے ہاتھ جھٹکے تو آیت چار قدم پیچھے لے گئی اس کی چند پل کی ہاتھ کی سخت پکڑ سے اسے بے پناہ خوف آیا۔
"اپنی حد میں رہو سمجھی۔۔۔۔ اور کچھ دیر بعد نکاح ہے ہمارا تو چپ چاپ تیار ہو جاؤ" ڈیول اس کے خوف سے تر چہرے پر نظریں جمائے بولا
"نکاح؟؟" آیت ایسے بولی جیسے شاید غلط سنا ہو اس نے۔
"یس۔۔۔ نکاح وہ بھی 10 بجے بی ریڈی ڈیئر" ڈیول اس کی طرف ایک قدم بڑھاتا دونوں ہاتھ پوکٹس میں ڈالتے ہوئے بولا۔
"میں تمہارے سے کوئی نکاح نہیں کرو گی سمجھے تم اور تمہاری غنڈے ہو پیسے چاہئے ہونگے مجھے آزاد کرنے کے لیے تو میرے ڈیڈی کو کال ملا دو جتنے بولو گے اتنے پیسے مل جائے گے تمہیں" آیت خود کو کمپوز کرتی تیزی سے بولی۔ آج اس باپ کا نام لے رہی تھی جس نے کبھی دیکھا بھی نہیں وہ دیکھتی کیسی ہے اس کے باپ نے اسے صرف پال کر اور اپنا نام دے کر احسان کیا تھا اور سوتیلی ماں اور بہن تو کبھی اسے اس گھر کا حصہ سمجھتے ہی نہیں تھے۔
لیکن پھر بھی ایک آس تھی کہ اتنی نفرت کے باوجود بھی وہ اسے یہاں سے کچھ بھی کر کے نکال لے گے۔ آیت کی بات سنتے ہی ڈیول کا بے ساختہ قہقہہ گونجا جیسے آیت نے اسے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔
"تمہارا باپ مجھے پیسے دے گا۔۔۔ سیریسلی؟؟ وہ تو خود میرا مقروض ہے" ڈیول کنگ تمسخر سے آئیبرو ریز کرتے ہوئے بولا اور آیت کے ایک اور قدم قریب ہوا تو آیت اسے عجیب شک بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
"نہیں۔۔۔ ایک غنڈے کا مقروض میرا باپ" آیت نفی میں سر ہلاتی بولی۔
"بلکل۔۔۔۔ اور تمہارے باپ نے میرے قرض کے بدلے تمہارا سودا کیا ہے" ڈیول ایک اور قدم آیت کی طرف لیتے ہوئے بولا۔
"تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔ وہ ایسا نہیں کرسکتے میرے ساتھ" آیت ایک قدم پیچھے لیتی زور زور سے نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی تو ڈیول دو قدم فاصلہ طے کرتے ہوئے زور سے آیت کا بازو دبوچا جس سے آیت کو اس کی انگلیاں اپنے ماتھے پر محسوس ہونے لگی۔
آیت اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن کیا فائدہ ڈیول جیسا طاقتور مرد کہاں آیت کے دھکیلنے سے پیچھے ہٹنے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

0 Comments